متھرا میں تجاوزات ہٹانے پر جھڑپیں، 24 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ VIVEK JAIN
Image caption اس واقعے میں تقریبا 40 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں

انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے شہر متھرا کے علاقے جواہر باغ میں غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کے دوران پرتشدد جھڑپوں میں 24 افراد ہلاک اور دس اہلکاروں سمیت 40 زخمی ہوئے ہیں۔

یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب جمعرات کی شام پولیس نے باغ پر غیرقانونی طور پر دو سال سے قابض ایک مذہبی گروپ سے علاقہ واگزار کروانے کی کوشش کی۔

انڈیا کے سرکاری ریڈیو چینل آل انڈیا ریڈیو کے مطابق اس واقعے میں دو پولیس اہلکار اور 22 مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ایس پی سٹی مکل دوویدی بھی شامل ہیں جو تشدد پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران زخمی ہو گئے تھے اور زخموں کی تاب نہ لا کر ہسپتال میں چل بسے۔

ریاست کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق جب پولیس پارک خالی کروانے پہنچی تو آزاد بھارت ودھک ویچارک کرانتی ستیاگڑھی نامی تنظیم کے رضاکاروں نے مبینہ طور پر پولیس پر پتھراؤ کیا اور پھر گولی چلا دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ VIJAY KUMAR ARYA
Image caption خود کو سبھاش چندر بوس کا پیروکار بتانے والوں نے سرکاری املاک کو نذر آتش کیا

اترپردیش پولیس کے سربراہ دلجیت چوہدری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تین ہزار کے قریب افراد باغ خالی کروانے کے لیے جانے والے پولیس اہلکاروں کو روکنے کے لیے جمع تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس پر جب ان افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی تو اہلکاروں نے جواب میں گولی چلائی۔

دلجیت چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ افراد پولیس کی فائرنگ سے مارے گئے جبکہ 11 افراد کی ہلاکت کی وجہ گیس سیلنڈروں سے لگنے والی آگ تھی۔

انھوں نے بتایا کہ جواہر باغ میں تجاوزات قائم کرنے والے گروپ کے مبینہ رہنما رام وركش یادو مفرور ہیں جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ سے 300 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔

ریاستی حکومت نے اس تصادم کی تحقیقات کی ذمہ داری آگرہ ڈویژن کے کمشنر پردیپ بھٹناگر کو سونپی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ VIJAY KUMAR ARYA
Image caption جواہر باغ کے مظاہرین کے مطالبے عجیب ہیں

آگرہ سے صحافی وویک جین نے بتایا کہ مشرقی اتر پردیش سے آنے والے مظاہرین ایک عرصے سے جواہر باغ میں دھرنے پر بیٹھے تھے۔

یہ لوگ خود کو بھارت میں آزادی کے معروف رہنما سبھاش چندر بوس کا پیروکار بتاتے ہیں۔

صحافی کے مطابق ان لوگوں کی مطالبے عجیب و غریب ہیں، جیسے ایک روپے میں 40 لیٹر پٹرول ملے یا پھر ہندوستان کا روپیہ 50 ممالک میں چلے۔

ان لوگوں کو جواہر باغ سے ہٹانے کا معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ میں تھا جہاں سے انھیں ہٹانے کے لیے ہدایت جاری کی گئی تھی جس پر عملدرآمد کے دوران یہ واقعہ پیش آیا۔

اسی بارے میں