اترپردیش: گاو کشی کے مقدمے کے لیے عدالت میں نئی درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے میں اخلاق ہلاک اور ان کا ایک بیٹا شدید زخمی ہوا تھا

انڈین ریاست اتر پردیش کے دادری قصبے میں گئو کشی کے الزام میں ہلاک کیے جانے والے محمد اخلاق کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ان کے خلاف دی گئی نئی عدالتی درخواست سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔

یہ نئی عرضی گریٹر نوئیڈا کی عدالت میں بساڑہ گاؤں کے ایک شخص سورج پال نےدائر کی ہے۔

اس عرضي میں تین عینی شاہدین کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا گيا ہے کہ مبینہ طور پر ان افراد نے گائے کے بچھڑے کو پیٹتے اور مارتے ہوئے دیکھا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اس درخواست میں پریم سنگھ نام کے ایک اور شخص کا بھی ذکر ہے جنھوں نے مبینہ طور پر اخلاق کو گئو کشی کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

سورج پال نے اپنی درخواست میں عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیس کو حکم دے کہ محمد اخلاق کے اہل خانہ کے خلاف گئو کشی کا مقدمہ درج کیا جائے۔

پولیس کے مطابق ستمبر 2015 میں بساڑہ گاؤں میں ہندوؤں کے ایک مشتعل ہجوم نے گائے کے ذبیجے کے الزام میں محمد اخلاق کو مار مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعے میں اخلاق کے بیٹے دانش کو بھی گہرے زخم آئے تھے۔ خبروں کے مطابق اخلاق اور ان کے گھر والوں پر حملہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا تھا۔

نئي درخواست کے بارے میں بات کرتے ہوئے اخلاق کے چھوٹے بھائی جان محمد نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ الزام سو فیصد بے بنیاد اور جھوٹے ہیں جو کبھی بھی ثابت نہیں ہو سکتے۔‘

جان محمد کا کہنا ہے کہ ’کوئی ثابت کر دے کہ میں گاؤں میں تھا۔ میری فون لوکیشن لیجیے۔ میں اس روز بیمار تھا اور ہسپتال میں داخل ہوا تھا۔ میں نے ایک پیتھالوجی لیب سے ڈینگی کا ٹیسٹ بھی کروایا تھا۔ میری لوکیشن گاؤں میں صبح پانچ بجے سے شام چھ بجے تک ہے۔‘

درخواست میں پریم سنگھ کے اس دعوے پر کہ انھوں نے اخلاق کو گائے ذبح کرتے ہوئے دیکھا، جان محمد کا کہنا ہے: ’پریم سنگھ کہتے ہیں کہ انھوں نے دیکھا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پریم سنگھ یا کوئی آدمی جہاں ایک غریب مسلم خاندان رہتا ہو، اس سے اتنا نہیں ڈرتا کہ کسی کو اس واقعے کے بارے میں نہ بتائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ OTHERS
Image caption حال ہی میں گاؤن کے ہندوؤں نے ایک پنچائت میں اخلاق کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا

گاؤں والوں نے عرضی دائر کرنے میں اتنا وقت کیوں لگایا؟

اس بارے میں گاؤں والوں کے وکیل رام سرن ناگر نے بی بی سی کو بتایا: ’جب یہ واقعہ ہوا تو پولیس نے گاؤں پر دباؤ بنایا۔ انھوں نے معصوم لوگوں کو اندر کرنا شروع کر دیا۔‘

ناگر حراست میں رکھے گئے گاؤں کے نوجوانوں کو ’معصوم اور بےگناہ‘ بچے بتاتے ہیں۔

اس پر جان محمد کہتے ہیں: ’اخلاق کا قتل ہوا ہے۔ دانش کو مارا گیا ہے۔ اخلاق دھواں بن کر ہوا میں نہیں اڑا، آخر قتل ہوا ہے، تو کوئی تو مجرم ہو گا۔ دانش کو زخمی کیا گیا۔ میری 85 سالہ ماں کو مارا گیا ہے۔ یہ سب کچھ ہوا ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں لگتا ہے کہ جان محمد کی وجہ سے کیس نمایاں ہوا ہے۔ اس کو شامل کر لو، جبکہ پیروکاری ان کا بیٹا سرتاج کر رہا ہے۔ وہ بالغ ہے، عقل مند ہے، نوکری پیشہ شخص ہے۔‘

عدالت میں اس معاملے کی اگلی سماعت 13 جون کو ہے۔

اسی بارے میں