’افغانستان اور پاکستان طورخم میں فائربندی پر متفق‘

افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ طورخم میں پاکستان اور افغانستان کی سرحدی افواج کے درمیان جھڑپ کے بعد دونوں ممالک نے فائربندی پر اتفاق کیا ہے۔

سرحد پر فائرنگ کا یہ واقعہ اتوار کو پاکستان کی جانب سے سرحد پر ایک گیٹ کی تعمیر کے تنازعے کی وجہ سے پیش آیا تھا اور افغان رہنما نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مسئلہ سفارتی کوششوں سے حل ہو جائے گا۔

٭ جنرل راحیل شریف کا فیصلہ، طورخم سرحد کھول دی گئی

٭’پاکستان کا طورخم پر سفری رعایت دینے پر غور‘

پیر کو وزرا کی کونسل کے اجلاس کے بعد ٹوئٹر پر پیغامات کے ذریعے تفصیلات دیتے ہوئے عبداللہ عبداللہ نے الزام عائد کیا کہ فائرنگ کا آغاز پاکستان کی جانب سے ہوا کیونکہ افغانستان کی سرحدی افواج نے انھیں نئی تعمیرات کی اجازت نہیں دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ لڑائی پاکستان نے شروع کی تھی اور یہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔‘

افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو نے کہا کہ ’ہمیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور جب بات ہماری سالمیت اور وقار کے دفاع کی ہو تو کسی کو ہمیں کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔‘

عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ عالمی قوانین کے مطابق سرحد پر نئی تعمیرات کے حوالے سے دونوں ممالک بات چیت کریں گے اور باہمی اتفاق کی صورت میں ہی یہ تعمیرات ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرحد پر فائرنگ کا یہ واقعہ اتوار کو پاکستان کی جانب سے سرحد پر ایک گیٹ کی تعمیر کے تنازعے کی وجہ سے پیش آیا تھا

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار سید انور کے مطابق انھوں نے جھڑپ میں ایک افغان فوجی کی ہلاکت اور چھ کے زخمی ہونے کی تصدیق بھی کی۔

اس سے قبل پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ اس واقعے میں ایف سی کے دو اہلکاروں سمیت 11 پاکستانی شہری زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر پاکستان کے وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو افغان سکیورٹی فورسز کی جانب سے سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کے واقعے پر شدید تشویش ہے۔

وزیرِاعظم ہاؤس کے ترجمان نے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اس قسم کے بلااشتعال حملے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں اور پاکستان کو افغان حکومت سے امید ہے کہ وہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کرے گی۔

خیال رہے کہ پاک افغان سرحدی مقام طورخم پر گذشتہ کچھ عرصہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ رواں ماہ ہی باڑ کی تنصیب پر دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے تھے جس کی وجہ سے سرحد چار دن تک بند رہی تھی۔

اسی بارے میں