آدم خور کی تلاش، گجرات میں ’18 شیر گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ prashant.dayal

انڈیا کی ریاست گجرات میں حکام نے 18 شیروں کو ’گرفتار‘ کیا ہے تاکہ یہ معلوم کر سکیں کہ کس شیر نے تین افراد کو ہلاک کیا۔

محکمہ جنگلات کے حکام نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ان گرفتار کیے گئے شیروں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں تاکہ آدم خور شیر کی نشاندہی کی جاسکے۔

حکام نے مزید کہا کہ اس شیر کو چڑیا گھر میں رکھا جائے گا جبکہ دیگر شیروں کو گر کی محفوظ پناہ گاہ میں چھوڑ دیا جائے گا۔

یہ محفوظ پناہ گاہ ایشیائی شیروں کی واحد محفوظ پناہ گاہ ہے اور اس علاقے کے قریب انسانوں پر چھ بار حملہ کیا گیا ہے۔

گجرات کے محکمہ جنگلات کے سربراہ جے اے خان کا کہنا ہے کہ ان شیروں کو دو ماہ میں ’گرفتار‘ کیا گیا ہے اور ان کو علیحدہ علیحدہ پنجروں میں رکھ کر ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

’ہمیں اندازہ ہے کہ کس شیر نے انسانوں کو مارا ہے لیکن ہم دیگر نو شیروں کے ٹیسٹوں کے نتائج کا بھی اعلان کر رہے ہیں۔

وائلڈ لائف کی ماہر روچی ڈیو کا کہنا ہے کہ اس محفوظ پناہ گاہ کے قریب چھ بار انسانوں پر حملہ کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRASHANT DAYAL

انھوں نے مزید کہا ’حکام شیروں کے رویے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آدم خور شیر عام طور پر انسانوں کو دیکھ کر مشتعل ہو جاتے ہیں۔‘

ایک اور ماہرِ وائلڈ لائف رتوبا رائی زادہ کا کہنا ہے کہ آدم خور شیر کو عمر بھر کے لیے پنجرے ہی میں رکھا جائے گا کیونکہ اس کو آزاد چھوڑنا بہت خطرناک ہے۔

چند ماہرین کا کہنا ہے کہ محفوظ پناہ گاہ میں شیروں کی بڑھتی ہوئی آبادی اس ’غیر معمولی‘ رویے کی وجہ ہے۔

گجرات کے سابق وائلڈ لائف وارڈن گووند پٹیل نے انڈین اخبار انڈیا ایکسپریس کو بتایا کہ اس محفوظ پناہ گاہ میں صرف 270 شیروں کی جگہ ہے جس کے باعث کچھ شیر اس محفوظ پناہ گاہ سے باہر ڈیرہ ڈالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ prashant.dayal

یاد رہے کہ انڈیا کی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ گجرات کو چند شیر دیگر ریاستوں میں منتقل کرنے ہوں گے تاکہ کسی قسم کی بیماری یا قدرتی آفت کے باعث ساری آبادی ہی ختم نہ ہو جائے۔

تاہم گجرات ریاست ایسا کرنے میں ہچکچا رہی ہے اور سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل نہیں کر رہی۔

اسی بارے میں