پنڈتوں کےلیے کالونیاں ’نفرت کی دیواریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhatt
Image caption آج کشمیر میں صرف 2764 ہندو آباد ہیں
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں حکام نے علیحدگی پسند رہنماؤں کو گھروں میں نظربند کر دیا ہے تاکہ وہ بدھ کو کشمیری ہندوؤں کو خصوصی کالونیوں میں دوبارہ آباد کرنے کے فیصلے کے خلاف ’خاموش مارچ‘ نہ کر سکیں۔ بی بی سی کی گیتا پانڈے نے اسی تنازعے پر سرینگر سے رپورٹ بھیجی ہے۔

جب ورشا کول کے خاندان نے اپریل 1990 میں سرینگر کو خیرباد کہا تو وہ 15 دن کی تھیں۔

وہ کہتی ہیں: ’ایک شام دہشت گرد ہمارے گھر آئے اور اسے گھیرے میں لے لیا۔ وہ میرے چچا بھرت بھشن کول کو یہ کہتے ہوئے ساتھ لے گئے کہ وہ ان سے کچھ سوال پوچھنا چاہتے ہیں۔ انھوں کسی بھی قسم کی مداخلت پر گولی مار دینے کی دھمکی دی۔ ہر کوئی خوفزدہ تھا۔‘

علی الصبح ان کی لاش گھر کے باہر ایک درخت سے لٹکی ہوئی ملی۔ 28 سالہ بھرت سرکاری ملازم تھے۔ حال ہی میں ان کی منگنی ہوئی تھی اور اگلے ماہ شادی ہونے والی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhatt
Image caption ورشا کول (بائیں) اپریل 1990 میں 15 دن کی تھیں جب ان کے خاندان نے سرینگر کو خیرباد کہا

1980 کی دہائی کے اواخر میں مسلم اکثریتی وادیِ کشمیر میں انڈیا سے آزادی کی مسلح بغاوت کا آغاز ہوا تھا۔ عسکریت پسند اکثر ہندو اقلیت کو نشانہ بناتے تھے۔ ان حملوں اور دھمکیوں سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ پنڈت جموں اور انڈیا کے دیگر علاقوں میں منتقل ہو گئے۔

آج کشمیر میں صرف 2764 ہندو آباد ہیں۔

ورشا کول کہتی ہیں: ’وادی میں خراب صورت حال کے پیش نظر ہمارا خاندان جموں جانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ کچھ ماہ کے لیے جائیں گے اور حالات بہتر ہونے پر واپس آ جائیں گے۔ لیکن میرے چچا کے قتل کے بعد انھوں نے ان کی آخری رسومات ادا کیں، اپنا سامان ٹرک پر لادا اور چلے گئے۔

’یہاں حالات خراب سے خراب تر ہوتے گئے اور ہم واپس نہیں آ سکے۔ ہمیں ڈر تھا کہ اگر ہم واپس آئے تو ہمارا حال بھی میرے چچا جیسا ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhatt
Image caption للتا دھر 65 سالہ ریٹائرڈ سکول ٹیچر ہیں اور سنہ 1989 میں مسلمان عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کے بعد وہ جموں منتقل ہوگئیں

انھیں وادی میں واپس آنے میں 26 برس لگ گئے۔ میں ورشا کول اور ان کی والدہ کرن کول سے گذشتہ ہفتے ملی جب وہ سرینگر کے قریب بڈگرام ضلعے میں اپنے گاؤں میں اپنے سابق ہمسائیوں سے ملنے آئے تھے۔

اگرچہ وہ ایک مختصر دورے پر تھے لیکن امیدیں جاگی ہیں کہ وہ مستقل طور پر وادی لوٹ سکتے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے اتحاد پر مشتمل ریاستی حکومت نے پنڈتوں کو واپس لانے کا اظہار کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ واپس آنے والے مہاجرین کے لیے محفوظ علاقے قائم کریں گے جہاں وہ بحفاظت رہ سکیں گے، لیکن اس منصوبے کے خلاف احتجاج کیا گیا اور بہت سارے افراد نے الزام عائد کیا کہ حکومت ’فلسطین میں اسرائیل جیسی آبادکاریاں‘ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhatt
Image caption 1990 کی دہائی میں عسکریت پسند کے آغاز سے قبل پنڈت کشمیری معاشرے کا اہم حصہ تصور کیے جاتے تھے

تنقید کے بعد حکومت نے اپنا فیصلے تبدیل کیا۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے زور دیا کہ وہ پنڈتوں کو صرف اس وقت تک عارضی رہائش فراہم کرنے کی بات کر رہی ہیں جب تک وہ اپنے مکان خود نہیں بنا لیتے۔ لیکن وادی میں زیادہ افراد کو ان کی بات پر یقین نہیں ہے۔

اور دوسری جانب حکام کے لیے سب سے بڑا دردِسر یہ ہے کہ حریف علیحدگی پسند رہنماؤں میرواعظ عمر فاروق، یاسین ملک اور سید علی گیلانی نے اس منصوبے کے خلاف اتحاد کا حقیقی مظاہرہ کیا ہے۔

میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم چاہتے ہیں کہ پنڈت واپس آئیں، ہر کشمیری اس سے متفق ہے۔ میرے خیال میں یہ انسانیت کا معاملہ ہے۔ پنڈتوں کی واپسی ان کا حق ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ انھیں آباد ہونے کے لیے مناسب معاوضہ ادا کرے۔‘

تاہم انھوں نے کہا: ’لیکن ہم مخصوص آبادکاریوں کے خلاف ہیں کیونکہ اس سے کشمیری معاشرے میں ایک گہرا گڑھا پیدا ہو جائے گا۔ پنڈتوں کا سکیورٹی حصار میں الگ تھلک علاقوں میں رکھنے سے نفرت کی دیواریں پیدا ہوں گی، یہ ایک اچھا طرزعمل نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhatt
Image caption میرواعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ ’ہم مخصوص آبادکاریوں کے خلاف ہیں کیونکہ یہ کشمیری معاشرے میں ایک گہرا گڑھا پیدا کر دے گا‘

سرینگر کی جامع مسجد میں جمعے کے نماز کے دوران انھوں نے اپنے حامیوں کو حکومت کے منصوبے کے بارے میں بتایا اور وضاحت کی کہ اس کی مخالفت کی کیوں ضرورت ہے۔ ان کے حامیوں نے ان سے سر ہلا کر اتفاق کیا۔

حیران کن طور پر وہ پنڈت جو گذشتہ 25 سالہ سے عسکریت پسندی کے دنوں میں وادی میں قیام پذیر رہے یا حالیہ برسوں میں واپس آئے ہیں وہ بھی میرواعظ فاروق سے اتفاق کرتے ہیں۔

للتا دھر 65 سالہ ریٹائرڈ سکول ٹیچر ہیں اور سنہ 1989 میں مسلمان عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کے بعد وہ جموں منتقل ہوگئی تھیں۔ وہ گذشتہ آٹھ ماہ سے حکومت کی جانب سے واپس آنے والے ہندوؤں کے لیے قائم شیخ پورہ کیمپ میں رہ رہی ہیں۔

یہ دو کمروں پر مشتمل ایک اپارٹمنٹ ہے جہاں وہ اور ان کی بیٹی ایک اور خاندان کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ تاہم للتا دھر کا کہنا ہے کہ انھیں ایسا لگتا ہے جیسے انھیں ’پنجرے میں بند‘ کر دیا گیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhatt
Image caption پنڈت مکھن لال کا کہنا ہے کہ ان کے مسلمان ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں

وہ کہتی ہیں: ’جانے سے پہلے ہم سرینگر میں رہتے تھے اور ہمارے مسلمان ہمسائیوں کے ساتھ بہترین تعلقات تھے۔ وہ ہماری مدد کرتے اور عسکریت پسندوں سے بچاتے تھے۔ میں وہاں دوبارہ جانا چاہتی ہوں اور وہاں رہنا چاہتی ہوں لیکن ہمیں اپنا خاندانی گھر فروخت کرنا پڑا۔ مجھے اس کیمپ میں رہنا پسند نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں پنجرے میں قید پرندہ ہوں۔‘

کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو نے بھی کشمیر ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ شورش زدہ وادی میں عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کی باوجود وہ وہیں رہے اور شادی کی اور ان کے دو بچے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 95 فیصد نقل مکانی کرنے والے ہندوؤں نے اپنے گھر اور زمین فروخت کر دی ہے چنانچہ وہ واپس انھیں گھروں میں نہیں آ سکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhatt
Image caption کشمیری پنڈت رہنما سنجے ٹکو کہتے ہیں کہ ’ہم مخصوص بستیوں میں نہیں رہنا چاہتے‘

سنجے ٹکو کہتے ہیں کہ پنڈتوں اور آج کی نوجوان مسلمان نسل کے درمیان بہت کم تعلق ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہندوؤں کی واپس آسان نہیں ہے۔

گذشتہ کچھ برسوں میں عسکریت پسندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے اور حالیہ مہینوں میں ہزاروں کی تعداد میں خوش و خرم انڈین شہریوں نے کشمیر کا رخ کیا ہے۔ تاہم سنجے ٹکو کا کہنا ہے کسی بھی وقت حالات خراب ہو سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’سنہ 2008 میں امرناتھ ہندو شرائن بورڈ کو کچھ زمین دینے کے حکومتی فیصلے کے خلاف کئی روز تک مظاہرے ہوتے رہے تھے۔ ایک ہندو کی حیثیت سے میں بہت غیرمحفوظ محسوس کرتا ہوں۔ میرے مسلمان ہمسائے مجھے ایسے دیکھتے ہیں جس سے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں 1990 کی دہائی میں ہوں، جب عسکریت پسندی عروج پر تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhatt
Image caption ضلع بڈگرام میں ہندو پنڈتوں کے لیے قائم شیخ پورہ کیمپ

سنجے ٹکو کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو ہجرت کر چکے ہیں وہ وادی کی زندگی کا دباؤ برداشت نہیں کر سکیں گے اور کوئی بھی خرابی ہوئی تو وہ فوراً واپس چلے جائیں گے۔

وہ کہتے ہیں: ’حکام کو ان کا ساتھ دینا ہو گا، وہ وادی میں بکھرے ہوئے نہیں رہ سکتے اور انھیں جگہ فراہم کرنے کی ضرورت ہو گی۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم مخصوص بستیوں میں نہیں رہنا چاہتے۔

’میرے خیال میں اس کا جواب سمارٹ شہروں کی تعمیر ہے جہاں 50 فیصد گھر پنڈتوں کے لیے مخصوص ہوں، بقیہ گھروں میں مسلماں، سکھ یا کوئی بھی رہ سکتا ہے۔ پھر ہم صحیح معنوں میں مخلوط معاشرہ قائم کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhatt
Image caption کشمیر سے بہت سارے ہندو پنڈت انڈیا کے دیگر علاقوں میں نقل مکانی کر چکے ہیں

اسی بارے میں