کشمیر: سکول میں عبایا پہننے پر استانی برطرف

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پانچ سال قبل بھی اس سکول میں جمعہ کی نماز کو لے کر ہنگامہ ہوا تھا

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے ایک سکول کی انتظامیہ نے استانی کو عبایا پہننے پر برطرف کردیا جسکے بعد طلبا کی طرف سے سکول میں احتجاج کیا گیا۔

٭کشمیر: خواتین کی علیحدہ بس

٭ کشمیر: ہندواڑہ کی متاثرہ لڑکی کی رہائی کا حکم

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دہلی پبلک سکول میں طلبا و طالبات نے جمعہ کو کلاسز کا بائیکاٹ کیا اور سکول احاطے میں انتظامیہ کے خلاف دھرنا دیا۔ طلبہ ایک استانی کو عبایا پہننے پر ملازمت سے برطرف کیے جانے پر احتجاج کر رہے تھے۔ دہلی پبلک سکول پورے ہندوستان میں معیاری سکولوں کا ایک نیٹ ورک ہے جو کشمیری ماہر تعلیم اور سیاستدان ڈی پی دھر کی یاد میں قائم کیا گیا ہے۔ وادی میں اس کی کئی شاخیں ہیں۔

سرینگر میں واقع ڈی پی ایس سکول میں یہ تنازعہ جمعرات کو اُسوقت کھڑا ہوگیا جب سکول کی پرنسپل کُسُم واریکو نے ایک استانی سے کہا کہ وہ کلاس میں عبایا پہن کر نہیں جاسکتیں۔ دسویں جماعت کے ایک طالب علم داؤد احمد نے فیس بُک پر چشم دید واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: ’جب استانی نے مزاحمت کی، تو پرنسپل نے ان سے کہا کہ وہ ملازمت یا عبایا میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ اس پر استانی سکول چھوڑ کر چلی گئیں۔‘ سکول کے چئیرمین وجے دھر نے نئی دلّی سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ وہ اس معاملہ کی تحقیقات کرینگے۔ تاہم سکول میں اس معاملہ کو لے کر کشیدگی ہے۔

سہیل اقبال کے دو بچے ڈی پی ایس میں زیرتعلیم ہیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کے حوالے سے بتایا کہ طلبا میں پرنسپل کے برتاو پر کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ جمعہ کو جب ڈی پی ایس کی پرنسپل نے دھرنے پر بیٹھے طلبا کو قائل کرنا چاہا تو انہیں کئی مشکل سوالات کا سامنا ہوا۔

ایک سکھ طالب علم نے کہا : اس کا مطلب ہے کل آپ مجھے پگڑی پہنے کلاس میں جانے نہیں دینگی۔‘ ایک ہندو طالبہ نے سوال کیا: ’اگر عبایا پر پابندی ہے تو پھر کل میری ساڑی بھی قابل اعتراض ہوگی۔‘

بارہویں جماعت تک کے اس سکول میں دو روز سے درس و تدریس کا عمل معطل ہے۔ ہفتے کو والدین اور اساتذہ کے درمیان مجوزہ نشست بھی ملتوی کردی گئی ہے۔

پانچ سال قبل بھی اس سکول میں جمعہ کی نماز کو لے کر ہنگامہ ہوا تھا۔ طلبا نے بتایا کہ سکول انتظامیہ نے جمعہ کو آدھے دن کے بعد چھٹی کو ناقابل قبول بتایا تو جمعہ کے روز طلبا نے سکول کے پلے گراؤنڈ میں باجماعت نماز کا اہتمام کیا جس پر انتظامیہ نے اعتراض کیا۔ طلبا نے مشتعل ہو کر سکول میں توڑ پھوڑ کی۔ بعد ازاں اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ باقی سکولوں کی طرح ڈی پی ایس میں بھی جمعہ کے روز دوپہر کے بعد چھٹی ہوگی۔

عبایا کی ممانعت کے بارے میں سوشل میڈیا پر کافی بحث ہو رہی ہے۔ اکثر لوگوں نے اس فیصلہ کو مذہبی معاملات میں بے جا مداخلت سے تعبیر کیا جب کہ بعض حلقے کہتے ہیں کہ سکول میں نظم و ضبط کے تقاضوں کے مطابق اگر مناسب لباس رائج کیا جاتا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’جنوب ایشیا کے باقی خطوں کی طرح کشمیر کی خواتین کی وضع قطع پر بھی سعودی عرب کے اثرات نمایاں ہیں‘

نوجوان صحافی گوہر گیلانی کہتے ہیں: ’کشمیر میں ایسے بھی سکول ہیں جہاں باقاعدہ عبایا کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ پھر تو اس پر بھی سوال پیدا ہونگے۔ اس معاملے میں مذہب کو بیچ میں نہیں لانا چاہیے۔ کوئی استاد یا استانی کسی سکول میں ایک معاہدے کے تحت کام کرتی ہے۔ اس معاہدے میں سکول کے قواعد و ضوابط ہوتے ہیں جن کو تسلیم کرنے کے بعد ہی وہ ملازمت اختیار کرتے ہیں۔ لیکن لباس کا مسئلہ پیچیدہ ہے۔ اگر ایک سکھ شہری پگڑی پہنے استاد بن سکتا ہے، پوچھا جاسکتا ہے کہ ایک مسلم خاتون عبایا پہن کر پڑھا کیوں نہیں سکتی۔‘

قابل ذکر ہے کشمیر کے اکثر نجی اور سرکاری سکولوں میں لڑکیوں کا لباس شلوار قمیض اور دوپٹہ ہے۔ بیشتر لڑکیاں عبایا یا عبا بھی پہنتی ہیں، لیکن حکام یا سکول انتظامیہ اس کی ممانعت نہیں کرتے۔ تاہم گزشتہ دنوں حکومت نے سکولوں میں تعینات نوجوان اساتذہ کو ٹی شرٹ اور جینز کی بجائے رسمی لباس پہننے کی تاکید کی تھی۔

کشمیری خواتین میں عبایا کو عام کرنے کے لیے دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے پچیس سال قبل ایک مہم شروع کی تھی، جسکے دوران عبایا کے بغیر خواتین کے چہروں پر رنگ پھینکا جاتا تھا۔ اس مہم کے نتیجہ میں کئی برس تک کشمیر میں خواتین کی اکثریت عبایا میں نظر آئی۔ تاہم بعد میں خواتین نے دوبارہ اپنے روایتی لباس کی طرف رجوع کیا۔ آج کل کشمیر کی خواتین ایران، ترکی اور پاکستان کی خواتین کی طرح ملبوس ہوتی ہِیں، تاہم حجاب اور عبا بھی عام ہو رہے ہیں۔

اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ جنوب ایشیا کے باقی خطوں کی طرح کشمیر کی خواتین کی وضع قطع پر بھی سعودی عرب کے اثرات نمایاں ہیں۔ لیکن بعض دیگر کہتے ہیں کہ کشمیری مسلمان مرد اور خواتین تعلیم اور سفری سہولتوں کے بعد اب ’خودشناسی‘ کے عمل سے گزر رہے ہیں ، جسکے دوران وہ ’باقاعدہ مسلمان‘ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ صحافی مسعود حسین کہتے ہیں: ’مردو میں داڑھی یا خواتین میں عبا کا کلچر کسی بیرونی اثر کا نتیجہ نہیں ہے۔ دراصل کشمیری اب سیلف ڈسکوری کے عمل سے گزر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں