چین کا انڈونیشیا پر کشتی کو نشانہ بنانے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ

چین نے انڈونیشیا کی بحریہ پر مچھلیوں کا شکار کرنے والے متنازع مقام پر اپنی ایک کشتی پر فائرنگ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

اتوار کو چین کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اس فائرنگ کے واقعے میں ایک ماہی گیر زخمی ہوا ہے جبکہ کئی کو حراست میں لیا گیا ہے۔

یہ واقعہ جمعے کے روز بحیرۂ جنوبی چین میں بورنی ساحل پر ناتونا جزیرے کے قریب پیش آیا تھا۔

اس سے قبل انڈونیشیا کی بحریہ کا کہنا تھا کہ اس نے چینی جھنڈوں والی کئی کشتیوں پر فائرنگ کی ہے تاہم اس میں کوئی شخص بھی زخمی نہیں ہوا۔

فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ کیا ماہی گیر اب بھی انڈونیشیا کے حکام کی حراست میں ہے یا نہیں۔

چین بحیرۂ جنوبی چین کے پورے خطے پر اپنا حق جتاتا ہے جو دیگر ایشیائی ممالک ویتنام اور فلپائن کے دعوؤں سے متصادم ہے۔

ان ممالک کا الزام ہے کہ چین نے اس علاقے میں مصنوعی جزیرہ تیار کرنے کے لیے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چین ناتونا جزیرے پر اپنا حق سمجھتا ہے اور اس کے اردگرد کا علاقہ انڈونیشیا کا ہے لیکن یہ دونوں ممالک اکثر مچھلیوں کے غیر قانونی شکار پر ایک دوسرے کے مدمقابل آ جاتے ہیں۔

جمعے کو ہونے والا یہ واقعہ رواں سال ناتونا جزیرے کے قریب چین اور انڈونیشیا کے درمیان ہونے والا تیسرا جھگڑا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’چین اس قسم کے طاقت کے استعمال پر شدید احتجاج اور مذمت کرتا ہے۔‘

اسی بارے میں