سو سال قبل مسلم خواتین کیا کہنا چاہتی تھیں؟

Image caption ڈرامہ ہم خواتین معروف اردو مصنفہ عصمت چغتائی کی پیدائش کے سو سال پر پیش کیا گيا

ذرا غور کریں تقریباً 100 سال قبل ہندوستان کی مسلم خواتین اپنی زبان، یعنی اردو میں، کیا لکھتی تھیں؟ کیا کہنا چاہتی تھیں؟

آج کے دور میں جب مسلمان عورتوں کا ذکر برقعے، تین طلاق، فتوے یا یکساں سول کوڈ کے تناظر میں ہی ہوتا ہے، آپ حیران ہوں گے کہ 20ویں صدی کے آغاز میں وہ اس سے مختلف بہت سی باتیں کہہ رہی تھیں۔

حال ہی میں ایک ڈرامہ ’ہم خواتین‘ نے اس دور کے کچھ مضامین کو منتخب کر کے دہلی میں پیش کیا جوکہ 20ویں صدی کے آغاز میں مسلمان خواتین کی زندگی کی ایک جھلک تھی۔

یہ وہ دور تھا جب مسلمان لڑکیوں نے سکول جانا بس شروع ہی کیا تھا۔

اس سے پہلے گھر میں اسلامی تعلیم تک محدود لڑکیوں کو اب باہر جا کر پڑھنے کی اجازت دی جانے لگی تھی۔

بیسویں صدی کے آغاز میں آنے والی اس تبدیلی کی نبض پر ظفر جہاں بیگم نے اپنے مضمون، ’سکول کی لڑکیاں‘ میں انگلی رکھی ہے۔

اس میں سکول جانے والی لڑکیوں کی نیت پر شک اور انھیں ملنے والي تعلیم سے منسلک شبہات پر سوال اٹھانے کی کوشش کی گئی۔

یہ مضمون سنہ 1898 میں جاری ہونے والے اردو زبان میں خواتین کے پہلے اخبار ’تہذیب نسواں‘ میں موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مسلم خواتین کے حجاب پر اب زیادہ باتیں ہوتی ہیں

ادب کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والی سکالر رخشندہ جلیل بتاتی ہیں کہ ’سکول کی تعلیم کا حق ملنے سے چند عشرے پہلے سے ہی پتہ چلتا ہے کہ مسلمان خواتین پڑھنا چاہتی تھیں۔‘

رخشندہ جلیل نے بتایا: ’مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک کتاب لکھی تھی ’بہشتي زیور‘ جو عورتوں کو بتاتی تھی کہ ایک اچھی بہو، ماں وغیرہ کیسے بنا جائے اور یہ کتاب انھیں جہیز میں دی جاتی تھی، آج اس پر تنقید کی جاسکتی ہے لیکن اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عورتوں کو کسی حد تک تعلیم دیا جانا ضروری تھا۔‘

مولانا اشرف علی تھانوی کے علاوہ ڈپٹی نذیر احمد بھی گھریلو مسائل کے ارد گرد کہانیاں بن رہے تھے۔

عورتوں کے بارے میں اور عورتوں کے لیے یہ مرد ہی تھے جو ابتدا میں لکھ رہے تھے۔

پھر سنہ 1906 میں شیخ عبداللہ نے علی گڑھ میں خواتین کے لیے کالج شروع کیا۔ گویا خواتین لکھنے والیوں کے لیے ایک سٹیج تیار کیا جا رہا تھا۔

شی‏خ عبداللہ نے ’خاتون‘ کے نام سے ایک میگزین بھی جاری کیا۔ اسی میں سنہ 1911 میں شائع ہونے والا ایک مضمون ’ہم خواتین‘ ڈرامے کا حصہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ سال عصمت چغتائی کی صدی کا سال ہے

عالیہ بیگم بنت مجیب احمد تمنائي کا مضمون، ’پھٹ پڑے وہ سونا جس سے ٹوٹے کان‘ عورتوں پر زیورات پہننے کے دباؤ پر سوال کرتا ہے۔

سونے چاندی کے زیورات پہننا اتنا ضروری کیوں؟ کیوں اسی سے کسی عورت کے مذہبی ہونے کو پرکھا جائے؟

اس زمانے میں بہت سی خواتین زیوارت کو زنجیروں کی طرح دیکھ رہی تھیں۔ اس کی جھلک روقیہ سخاوت حسین کی معروف کہانی سلطانہ کا خواب میں بھی ملتی ہے۔

سنہ 1905 میں مدراس سے شائع ہونے والے میگزین، ’دی انڈین لیڈیز میگزین‘ میں شائع ہونے والی اس کہانی میں عورتیں مردوں سے زیادہ طاقتور پیش کی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ مردوں پر حکم نہیں چلاتيں۔

رخشندہ جلیل بتاتی ہیں کہ اس طرح کے میگزین مختصر کہانیوں اور ناولوں سے پہلے کا دور پیش کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’یہ پاپولر ڈائجسٹ جیسی تھیں، ان میں گھر سنبھالنے کے بارے میں مضامین، پڑھائی لکھائی سے منسلک باتیں اور چھوٹی کہانیوں کے سیکشن ہوتے تھے۔‘

انڈیا میں ایک ہزار سال میں خواتین کی تحریروں پر تحقیق پر مبنی ’ان باؤنڈ‘ نام کی کتاب لكھنے والي عینی زیدی کے مطابق 19 ویں صدی کے آخر تک تو لکھنا انہی کے لیے تھا جن کے پاس پیسے ہونے کے سبب وقت تھا اور یہ عورتوں اور مردوں دونوں کے لیے یکساں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption زیورات کو خواتین اس وقت زنجیر کی طرح دیکھ رہی تھیں

عینی کہتی ہیں: ’پہلے لکھنا اور اس کو محفوظ رکھنا یہ سب بہت مہنگا تھا، لیکن جیسے ہی اشاعت کے وسائل سامنے آئے، یہ یکسر بدل گیا، لکھنے اور اشاعت کے نئے مواقع پیدا ہو گئے۔‘

یہ مضامین جتنے ذاتی اور گھریلو تھے اتنے ہی سیاسی بھی۔ آزادی سے پہلے یہ وہ وقت تھا جب دیسی چیزوں کے استعمال کی مہم چلائی گئی اور مہاتما گاندھی نے خلافت تحریک میں شمولیت کا اعلان کیا۔

اسی پر مبنی ’ہم خواتین‘ میں ایک مضمون ’كھددرپوشي‘ شائع ہوا۔

یہ مضمون کھادی کے اوصاف بیان کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کے پہننے اور صاف رکھنے کی خامیوں سے منسلک تھا۔

ڈرامے کے ڈائریکٹر ونود کمار بتاتے ہیں کہ ’اسے منتخب ہی اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ مہاتما گاندھی کی تجاویز پر سوال کرنے کی ہمت کے ساتھ لکھا گیا تھا۔‘

ڈرامے میں سیاست میں عورتوں کے دخل پر ’جنس لطیف کی سرگرمیاں‘ اور ’گورنمنٹ حوا نہیں ہے‘ کے علاوہ ’استاني‘ میگزین پر مبنی مضمون ’استاني کا تعارف‘ بھی تھے۔

دہلی میں کام کرنے والی تنظیم نرنتر کے لیے ماہر تعلیم پوروا بھاردواج نے 100 سال پہلے مسلمان عورتوں کے اردو میں تحریر کردہ 50 سے زیادہ مضامین کو یکجا کیا اور ’کلام نسواں‘ نام سے ایک کتاب شائع کی۔

ڈرامہ میں اسی کتاب سے منتخب چھ مضامین مختلف رنگ اور تیور کی جھلک پیش کرتے ہیں۔

بیسویں صدی کے آغاز کی تحریروں میں عورتیں سوال تو کر رہی تھیں لیکن اس سے معاشرے کے موجودہ ڈھانچے کو ان سے خطرہ لاحق نہیں تھا۔

Image caption کلام نسواں کے نام سے بیسویں صدی کے آغاز میں لکھی جانے والی تحریروں کو یکجا کيا گیا ہے

ان پر جب عمارت کھڑی ہونے لگی تو رشید جہاں اور عصمت چغتائی جیسی خواتین کے قلم سے اصل خطرہ پیدا ہوا۔

ونود کمار بتاتے ہیں: ’ہم جاننا چاہتے تھے کہ جن گمنام خواتین کے مضامین ہم پڑھ رہے ہیں ان کا عصمت جیسی معروف مصنفہ سے کوئی تعلق ہے، اور ہم نے یہ پایا کہ ان مضامین میں مستقبل کے لیے ایک قسم کا ماحول تیار کیا جا رہا تھا۔‘

دراصل ’ہم خواتین‘ ڈرامہ عصمت کے سبب ہی تیار ہوا۔ رواں سال سنہ 2016، عصمت چغتائي کی پیدائش کا صدی سال ہے۔

لیکن وقت کے ساتھ یہ آوازیں مسلمانوں کی پسماندگی، برقعے کی روایات اور تین طلاق جیسے مسائل پر ہی مرکوز ہو کر رہ گئی ہیں۔

انڈین مسلم خواتین کی تحریک کی ابتدا کرنے والی عورتوں میں سے ایک رضیہ پٹیل کے مطابق مذہب نے عورتوں کے دیگر حقوق سے توجہ ہٹانے کا کام کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’مسلم خواتین پر ہماری تحقیق میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ وہ تعلیم، تحفظ، روزگار چاہتی ہیں اور قانونی ناانصافی نہیں چاہتیں۔‘

رضیہ کے مطابق گذشتہ 100 سال میں مسلمان عورتوں کی آوازیں تو بہت بلند ہوئی ہیں لیکن جب تک پالیسیاں بنانے والے انھیں مخصوص عینک سے دیکھنا نہیں چھوڑیں گے ’ہم خواتین‘ بولتی رہیں گی۔

اسی بارے میں