کشمیر کا کیفے کلچر

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں جدید طرز کے چائے خانوں اور کیفیز کا رجحان اکثر حلقوں کو ماضی کا احیا لگتا ہے۔

انڈین کافی ہاؤس کشمیر میں 50 برس قبل معلومات کی ترسیل اور نظریات کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ تھا۔ کالم نویس زاہد غلام محمد کہتے ہیں کہ انڈین کافی ہاؤس میں کافی، چائے اور مفت مطالعہ کی سہولت دانشوروں، سیاسی کارکنوں اور فنکاروں کو یہاں کھینچ لاتی تھی۔

’میں تو طالب علم تھا، لیکن ادیبوں اور دانشوروں کے مکالموں سے ہماری آنکھیں کھل جاتی تھیں۔‘

اس سے قبل کشمیر میں ایک ’ریڈنگ روم‘ قائم کیا گیا تھا، جہاں حساس شہری تبادلہ خیال کرتے تھے۔ بعد میں یہ محفل کشمیر کی پہلی سیاسی تنظیم ’ریڈنگ روم پارٹی‘ کے نام سے مشہور ہوئی، جس نے کشمیر میں بنیادی حقوق کے حوالے سے سیاسی بیداری پیدا کی۔

قابل ذکر ہے کہ سرینگر کے کافی ہاؤس میں مسلح شورش کے دوران بم دھماکہ بھی ہوا، کیونکہ یہاں مختلف مکاتب فکر رکھنے والے لوگ سیاسی مستقبل سے متعلق مباحثے کرتے تھے۔

گذشتہ چند ماہ کے دوران سرینگر میں نصف درجن سے زائد نئے کیفیز قائم کیے گئے، جہاں مغربی رکھ رکھاو تو ہے، لیکن خوردونوش اور تفریح کی سہولیات پر کشمیری تمدن کی چھاپ ہے۔ مفت انٹرنیٹ اور مطالعہ کی سہولت دستیاب ہونے کی وجہ سے ان کیفیز میں لوگوں کی بڑی تعداد دیر رات تک محو گفتگو ہوتی ہے۔

طویل عرصے تک کشمیر سے باہر رہنے والی ، رُوحی نازکی نے وطن واپسی پر برطانوی طرز کا ایک چائے خانہ یا ٹی ہاؤس تعمیر کیا ہے، جہاں لوگ دلکش تمدنی آرائش کے بیچ خاص گھریلو ماحول میں کشمیری چائے نوش کرتے ہیں۔

رُوحی کہتی ہیں : ’کشمیری باہر چاہے جتنی ترقی کرلیں، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ گھر واپس آجائیں۔ میں بھی آنا چاہتی تھی، لیکن میں کچھ ایسا کرنا چاہتی تھی جس سے کشمیری تمدن کو فروغ ملے۔‘ رُوحی نازکی نے اپنے ٹی ہاؤس کا نام بھی خالص کشمیری میں ’چائے جائے‘ یعنی چائے پینے کی جگہ رکھا ہے۔

چائے خانے کی دیواروں پر پیپرماشی اور باریک نقاشی کی گئی ہے جبکہ چائے کے پیالے خاص طور پر فرانس سے منگوائے گئے ہیں۔

اعجاز احمد کا خاندان گذشتہ پانچ نسلوں سے کتابوں کی تجارت میں مصروف ہے۔ اعجاز نے محکمۂ سیاحت کے اشتراک سے جھیل ڈل کے کنارے ایک دلکش کافی ہاؤس قائم کیا ہے، جس میں کشمیر کی تاریخ، تمدن اور دوسرے پہلوؤں پر 80 ہزار کتابیں بھی ہیں۔

اعجاز کہتے ہیں: ’ہمارے کیفے میں کتابیں فروخت بھی ہوتی ہیں، لیکن جو لوگ یہاں پڑھنا چاہیں ان کے لیے مفت مطالعہ کی سہولت ہے، وہ انٹرنیٹ کا استعمال کرسکتے ہیں اور کتاب کا کوئی بھی حصہ مفت فوٹو کاپی کرسکتے ہیں۔‘

تیزی سے پروان چڑھ رہے اس نئے کافی کلچر کو حکومت کی حمایت بھی حاصل ہے۔ حکومت کے محکمہ سیاحت اور محکمۂ ثقافت کو خاص ہدایات دی گئیں ہیں کہ کوئی تعلیم یافتہ نوجوان اگر کیفے قائم کرنا چاہتا ہو تو اس کی ہر ممکن امداد اور رہنمائی کی جائے۔

حالیہ دنوں وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے ابھرتے نوجوان صنعت کاروں کے ایک وفد سے ملاقات کی ، ان میں کئی ایسے نوجوان تھے، جو شہر میں کیفیز چلاتے ہیں۔ چار ایسے ہی نوجوانوں کو محکمۂ سیاحت کی طرف سے دریائے جہلم کے کنارے ہاؤس بوٹ طرز کے ایک وسیع کیفے کا کنٹریکٹ دیا گیا۔

نئے کیفیز کے منظر پر آنے سے سرینگر میں نوجوانوں کے درمیان مکالمہ اور مباحثہ کا رجحان پیدا ہورہا ہے لیکن اکثر نوجوانوں کو شکایت ہے کہ کافی کے ایک پیالے کے لیے ڈیڑھ سو روپے کی قیمیت ان کے لیے مایوس کن ہے۔

دہلی پبلک سکول کے شعیب شاہ اور عامر لطیف کہتے ہیں : ’ہم بہت خوش ہیں کہ یہاں دلّی اور ممبئی کی طرح کیفیز ہیں۔ لیکن ایسا کوئی کیفے نہیں ہے جہاں طالب علموں کے لیے سستے داموں کافی اور دوسرے پکوان ہوں۔‘

کالم نویس زاہد غلام محمد کہتے ہیں: ’انڈین کافی ہاؤس جب تھا، تو وہاں ہر طبقے کے لوگ جاسکتے تھے۔ کیونکہ وہ کوئی تجارتی عمل نہیں بلکہ ایک سماجی سرگرمی تھی۔ آج کل کیفیز ہیں ، بہت خوبصورت ہیں لیکن یہ اشرافیہ کے لیے ہیں اور عام لوگوں کو ان تک رسائی نہیں ہے۔‘

واضح رہے گذشتہ 26 سال کی مسلح شورش کے دوران کشمیر میں شام ڈھلتے ہی کاروباری اور سماجی سرگرمیاں معطل ہوجاتی ہیں۔ کیفیز کی اس نئی دوڑ سے سرینگر میں اب شام دیر گئے تک لوگ کیفیز میں نظر آتے ہیں۔

تاہم کپوارہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، اننت ناگ، پلوامہ اور دوسرے اضلاع میں فوج کی مسلسل نقل و حرکت اور آئے روز مسلح تصادموں کے باعث ابھی بھی غروب آفتاب کے بعد لوگ گھروں میں سہم جاتے ہیں۔

اسی بارے میں