سرینگر کے قریب فوجی قافلے پر حملہ، 8 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سنٹرل ریزرو پولیس فورسز کے قافلے پر خودکش حملے میں آٹھ نیم فوجی اور دو شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ سنیچر کی شام سرینگر سے جنوب کی جانب پندرہ کلومیٹر دُور پام پورہ کے فریصتا بل علاقہ میں ہوا۔ پولیس کے مطابق جب نیم فوجی سینٹرل ریزرو پولیس فورسز یا سی آر پی ایف کی چھ گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ جنوبی کشمیر کے ایک ٹریننگ مرکز سے سرینگر کی طرف آ رہا تھا تو ایک کار سے دو مسلح حملہ آوروں نے قافلے میں شامل ایک بس پر فائرنگ کی۔

بس میں سی آر پی ایف کے افسر اور جوان سوار تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ میں آٹھ فورسز اہلکار ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔

سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل نیلین پربھات نے بتایا کہ یہ ایک منصوبہ بند خودکش حملہ تھا اور دونوں حملہ آور ’پاکستانی شہری‘ ہیں۔

فائرنگ میں بس کے اگلے دو پہیے بلاسٹ ہوگئے جس کے بعد حملہ آوروں نے بس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ وہاں موجود سی آر پی ایف کے ہی گشتی دستے نے ان پر فائرنگ کرکے انھیں ہلاک کر دیا۔

مسٹر پربھات نے کہا: ’مارے گئے دونوں حملہ آور پاکستانی شہری ہیں اور ان کا تعلق مسلح گروپ لشکر طیبہ کے ساتھ ہے۔‘

اس دوران لشکر طیبہ کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ غزنوی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اعتراف کیا کہ تنظیم کے دو فدائی حملہ آور اس حملہ میں مارے گئے ۔ ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں تیرہ سی آر پی ایف اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا۔

حملے کے بعد مقامی لوگوں کی بڑی تعداد پام پورہ کی شاہراہ پر جمع ہوگئی اور لوگوں نے فوج اور حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے کے بعد مقامی لوگوں نے فوج اور حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے

یہ حملہ عین اُس وقت ہوا جب جنوبی کشمیر کے ہی اننت ناگ اسمبلی حلقے کے لیے گزشتہ روز ہوئے ضمنی انتخابات میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو کامیاب قرار دیا گیا۔

وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے فورسز اہلکاروں کی ہلاکت پر رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ قوتیں کشمیر میں امن کو درہم برہم کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد سے آج تک کسی بھی مسئلہ کا حل برآمد نہیں ہوا بلکہ اس سے لوگوں کے مصائب میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

اس حملہ کے بعد وادی میں سیکورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

واضح رہے جنوبی کشمیر میں گزشتہ چند سال کے دوران پے در پے حملے ہورہے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد مسلح گروپوں میں شامل ہوگئی ہے۔