کارپوریٹ فراڈ، انڈیا تیسرے نمبر پر

تصویر کے کاپی رائٹ kroll
Image caption کرول انک کی رپورٹ سے دنیا بھر میں فراڈ کے روز افزوں رجحان ملتے ہیں

انڈیا میں وزیر اعظم سے لے کر دیگر وزراء اور رہنما اگر چہ مسلسل کارپوریٹ فراڈ میں کمی کا دعویٰ کر رہے ہیں تاہم ایک امریکی ادارے کرول انک کی جانب سے دنیا بھر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق انڈیا میں ہونے والے کارپوریٹ فراڈ میں بدعنوانی اور رشوت کا حصہ 25 فیصد سے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق کارپوریٹ فراڈ کے سلسلے میں انڈیا صحرائے صحارا کی ذیلی خطے کے ممالک اور کولمبیا کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔

کرول اور اكنامسٹ انٹیلیجنس یونٹ کی جانب سے کرائے جانے والے اس مشترکہ سروے میں قومی اور بین الاقوامی سطح کی کمپنیوں میں کام کرنے والے دنیا بھر کے 768 ایگزیکٹیوز نے حصہ لیا۔

یہ سروے سنہ 2015 سے مارچ 2016 کے دوران کیا گیا۔

سروے میں شامل 80 فیصد کمپنیوں نے گذشتہ سال اپنی کمپنیوں میں دھوکہ دہی کے واقعات کو قبول کیا۔ اس سے قبل سنہ 14-2013 میں اس کا تناسب 69 فیصد تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ fraud
Image caption بھارت کارپوریٹ فراڈ کے معاملے میں تیسرے نمبر پر ہے

رپورٹ کے مطابق انڈیا کے 80 فیصد کارپوریٹ فراڈ اور دھوکے کا شکار ہوئے ہیں جبکہ کولمبیا میں 83 فیصد کارپوریٹ اور جنوبی افریقی ممالک میں 84 فیصد کارپوریٹ اس کا شکار رہے ہیں۔

كرول کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سروے میں شامل ممالک میں انڈیا وہ ملک ہے جہاں فراڈ کا مسئلہ سنگین ہے۔

اس دوران 92 فیصد کمپنیوں میں فراڈ کا پتہ لگا ہے جبکہ 14-2013 میں ایسی کمپنیوں کی تعداد 71 فیصد تھی۔

كرول کی منیجنگ ڈائریکٹر اور جنوبی ایشیا کے معاملات کی سربراہ رشم کھرانہ نے ایک بیان میں کہا: ’اندرونی دھوکہ دہی کے معاملے میں انڈیا بہت زیادہ حساس ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ کمپنیوں نے اب اس بات کو سمجھنا شروع کر دیا ہے کہ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے کچھ کیا جانا چاہیے۔‘

اسی بارے میں