چین میں تبتی فلم ساز پولیس کی حراست میں

تصویر کے کاپی رائٹ

چین میں پولیس نے ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ تبتی فلمساز کو بظاہر ایک ایئرپورٹ پر تلخ کلامی کے بعد گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے فلم ساز پیما سیڈن کو اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ انھوں نے اس ممنوعہ علاقے میں گھسنے کی کوشش کی جہاں وہ اپنے سامان کا کچھ حصہ بھول گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سیڈن کو سرکاری حکم میں مداخلت کے الزام میں پانچ دن کے لیے حراست میں لیا گیا ہے، تاہم طبیعت کی ناسازی کی شکایت کے بعد اب وہ ہسپتال میں ہیں۔

خیال رہے کہ پیما سیڈن تبت میں زندگی کو سینیما سکرین پر دکھانے کے حوالے سے چین اور دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔

سیڈن رواں ماہ 19ویں شنگھائی بین الاقوامی فلم میلے کی جیوری میں بھی شامل تھے۔

پیما سیڈن کا شمار ان چند تبتی افراد میں ہوتا ہے جنھوں نے بیجنگ فلم اکیڈمی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کی فلمیں عموما تبتی زبان میں ہوتی ہیں جنھیں چین اور دنیا بھر میں تبتی شائقین کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔

وہ کئی بین الاقوامی ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی ایوارڈ یافتہ فلموں میں ’دی سرچ‘ اور ’اولڈ ڈاگ‘ شامل ہیں۔

اسی بارے میں