بنگلہ دیش حملے کے شبہے میں دو گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ site
Image caption دولتِ اسلامیہ نے حملے کے بعد ان مبینہ حملہ آوروں کی تصاویر شائع کی تھیں

بنگلہ دیشں کی پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کی شب ڈھاکہ کے کیفے میں ہونے والے حملے کے بعد دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ایک گن مین کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ ایک ایسے شخص کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جسے پہلے یرغمالی سمجھا گیا تھا۔

٭دوراہے پر کھڑا بنگلہ دیش٭پولیس حملہ آوروں سے واقف تھی

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ہلاک ہونے والا ایک مسلح شخص حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان کا بیٹا ہے۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں ہونے والے اس حالیہ حملے کی ذمہ داری خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے قبول کی ہے تاہم بنگلہ دیش کی حکومت کا دعوی ہے کہ یہ کارروائی مقامی تنظیم نے کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو جسے پہلے تو یرغمالی سمجھا گیا تھا لیکن بعد میں اس شبہے کے ساتھ حراست میں لیا گیا کہ اس کا حملہ آوروں سے تعلق ہو سکتا ہے۔ پولیس کو یہ شک ایک عینی شاہد سے ملنے والی اس فوٹیج کو دیکھ کر ہوا جو اس نے قریبی عمارت میں بیٹھ کر بنائی تھی۔

بنگلہ دیش کی حکمراں جماعت عوامی مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے سیاست دان امتیاز خان کے بیٹے روہن ابن امتیاز کے حوالے سے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ سال دسمبر سے لاپتہ تھا۔

والدین نے اپنے بیٹے کی شناخت مقامی اخبار میں کیفے پر حملہ کرنے والوں کی تصاویر دیکھ کر کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ site

عوامی مسلم لیگ کے رہنما اور بنگلہ دیش کی اولمپکس کمیٹی کے نائب جنرل سیکریٹری امتیاز خان نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ انھیں یہ جان کر صدمہ ہوا ہے کہ ان کا بیٹا حملہ آوروں میں شامل تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’ان کا بیٹا بہت چھوٹی عمر سے نماز پڑھنے کا عادی ہوگیا تھا۔ وہ اپنے دادا کے ساتھ گھر سے کچھ ہی فاصلے پر بنی مسجد میں جایا کرتا تھا تاہم ہم نے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا۔ گھر میں کوئی کتاب نہیں تھی، کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس سے یہ ظاہر ہوسکتا کہ وہ اس کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس واقعے کے صدمے نے مجھے کچھ کہنے کے قابل نہیں چھوڑا میں بہت شرمندہ ہوں اور معافی چاہتا ہوں۔‘

مسٹر خان کا کہنا تھا کہ ’جب میرا بیٹا دسمبر میں لاپتہ ہوا تو میں نے اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی، اس دوران مجھے پتہ چلا کہ بہت سے پڑھے لکھے خاندانوں جن میں حکومتی افسران اور مختلف شعبوں کے ماہرین کے بچے شامل ہیں گھروں سے لاپتہ ہیں۔میں ان لوگوں کے ساتھ اپنا غم بانٹتا تھا۔‘

’ہمیں نہیں معلوم یہ کیسے ہو رہا ہے، صرف ایک چیز جس کے بارے میں میں سوچ سکتا ہوں وہ انٹرنیٹ ہے، میں صرف انداز لگا سکتا ہوں۔‘

بنگلہ دیش کی پولیس نے پانچ حملہ آوروں کا تعلق مقامی کالعدم تنظیم سے بتایا ہے۔

گذشتہ روز وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان نے بتایا کہ حملہ آوروں کا تعلق جمعیت المجاہدین بنگلہ دیش سے ہے اور ان کا دولتِ اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں۔

دولتِ اسلامیہ نے کیفے پر حملہ کرنے والے مبینہ افراد کی تصاویر بھی جاری کیں تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تین حملہ آوروں کی عمریں 22 سال سے کم تھیں اور وہ چھ ماہ سے روپوش تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حملے کے بعد بنگلہ دیش میں قومی سوگ منایا جا رہا ہے

پولیس چیف شاہد الحق نے حملہ آوروں میں سے چند کےنام ظاہر کیے۔ ان میں آکاش، بکاش، ڈان، بنڈھان اور ریپون کا نام شامل ہے۔

حملے میں نو اطالوی، سات جاپانی اور امریکہ اور بھارت کے ایک ایک شہری ہلاک ہوئے تھے۔

ان حملوں میں دو پولیس افسران ہلاک اور 30 زخمی بھی ہوئے تھے۔

12 گھنٹوں تک حملہ آوروں نے کیفے کا محاصرہ جاری رکھا جس کے بعد فوج کے کمانڈوز 13 مغویوں کو رہا کروانے میں کامیاب ہوئے۔

بنگلہ دیش میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران جمعیت المجاہدین چھوٹی نوعیت کے دہشت گرد حملوں میں ملوث رہی ہے۔

تنظیم کے دو سرکردہ رہنماؤں کو 64 اضلاع میں ایک وقت میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد سنہ 2008 میں سزائے موت دی گئی تھی۔

اسی بارے میں