انڈیا کے سب سے امیر مندر کے پاس سات ٹن سونا

Image caption ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں لوگوں کے پاس 20 ہزار ٹن سونا ہے

انڈیا میں لوگوں کو سونا یعنی گولڈ بہت پسند ہے خواہ وہ تہوار کے دوران خريداري ہو، شادی میں تحفے کے طور پر دینا ہو یا پھر مذہبی تہوار میں عطیہ۔

ایسا خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ انڈیا میں لوگوں کے گھروں، کاروباری اداروں اور مندروں کے خزانوں میں تقریباً 20،000 ٹن سونا جمع ہے۔

لیکن اس قیمتی دھات کی وجہ سے ملک کے درآمدی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کو سونے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسے درآمد کرنا ہوتا ہے۔

لیکن ملک میں لوگوں کے گھروں اور مندروں میں پڑے سونے معیشت کے استحکام میں استعمال نہیں ہو پاتے۔

Image caption بینک میں سونا جمع کرنے کے لیے حکومت نے سکیم لانچ کی ہے

اسی لیے حکومت اب اس بکھرے پڑے سونے کو معیشت میں لانے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

حکومت ذاتی طور پر جمع سونے کو نکال کر معیشت میں لانے کا منصوبہ رکھتی ہے اور اس میں دولت مند ہندو اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق بھارت میں ایک کھرب ڈالر مالیت کا سونا لوگوں کے ذاتی لاكرز میں جمع ہے۔

وسطی ریاست آندھرا پردیش کا تروملا تروپتی مندر ملک کا سب سے امیر مندر ہے جس کے پاس سات ٹن سونا ہے اور عقیدت مند روزانہ یہاں سونا نذرانے میں پیش کرتے ہیں۔

انڈیا کے تمام مندروں میں کتنا سونا ہو سکتا ہے؟

Image caption سونا بھارت میں لوگوں کو بہت پسند ہے

عقیدت مند مندر کی دان پیٹیوں (عطیہ والے صندوقوں) میں اربوں ڈالر کی نقد رقم اور زیورات ڈالتے ہیں جس میں سونا بطور خاص ہوتا ہے۔

تروپتی ایسا پہلا مندر ہے جس نے حکومت کی منصوبہ بندی میں شراکت داری کی ہے۔ حکومت کو دیے جانے والے سونے پر مندر کو سود کی شکل میں آمدنی ہوتی ہے۔

مندر کے ٹرسٹ تروملا تروپتی دیوستھانم نے پنجاب نیشنل بینک میں تقریباً 1.3 ٹن سونا جمع کیا ہے۔

سٹیٹ بینک میں سرمایہ کاری کے لیے ایک ٹن سونے کو بھی ٹرسٹ اسی مقصد سے منتقل کر رہا ہے۔

Image caption تروپتی مندر میں سات ٹن سونا ہے

مندر ٹرسٹ نے تقریباً ڈیڑھ ٹن سونا انڈین اوورسيز بینک میں بھی رکھا ہے۔

مندر کے حکام کے مطابق گولڈ ڈپازٹ سکیم (جي ڈي ایس) کے تحت ساڑھے چار ٹن سونا جمع ہے جس سے سود کے طور پر مندر کو ہر سال 80 کلو سونے کی کمائی ہوتی ہے۔

ممبئی کے شري سدھی ونايك مندر ٹرسٹ نے بھی کہا ہے کہ وہ تقریباً 45 کلو سونا اس منصوبے کے تحت جمع کرے گا۔ بہت سے دوسرے مندر بھی اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

گولڈ مونیٹائزیشن سکیم (جی ایم ایس) کیا ہے؟

Image caption تروپتی میں سونے کی رفائنری

جی ایم ایس کے تحت ریزرو بینک کسی بھی شخص کو سونے کے بار یا زیورات بینک میں جمع کرانے اور اس سے سود کمانے کی اجازت دیتا ہے۔

اس منصوبہ کے تحت شخصیت، ٹرسٹ اور میوچوئل فنڈز بینکوں میں سونا جمع کرا سکتے ہیں۔ اس سکیم کا فائدہ اٹھانے کے لیے کم از کم 30 گرام سونا جمع کرنا ہوتا ہے۔

سونا جمع کرنے کی کوئی بالائی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔

بینکوں میں جمع سونے کا سود سونے کے طور پر بھی وصول کیا جا سکتا ہے۔

جی ایم ایس کے تحت سونا جمع کس طرح ہوتا ہے؟

Image caption حکومت کی سرمایہ کاری کی سکیم

کم از کم 30 گرام سونا جمع کرنے کی تجویز سے چھوٹے سرمایہ کاروں کی بھی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کوئی بھی شخص پین کارڈ، آدھار کارڈ کے ساتھ سونے کی ٹوٹی چوڑیاں اور ہار لے کر مخصوص بینک میں جمع کرا سکتا ہے۔

اس کے بعد بینک سرمایہ کار کو ایک خط دیتا ہے جسے لے کر سونے کے کھرے کھوٹے کی جانچ کے لیے تحقیقاتی مرکز میں جانا ہوتا ہے۔

خالص پن کی جانچ اور سونا جمع کرنے کے لیے کئی مراکز بنائے گئے ہیں۔ ان مراکز میں سرمایہ کار کے سامنے ہی سونے کے خالص ہونے کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور پھر ایک سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔

اسی سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر بینک جی ایم ایس اکاؤنٹ کھولتا ہے۔

بینک سونے کے سود کا کس طرح تعین کرتا ہے؟

Image caption سونے کو بار میں سکے میں یا پھر زیورات میں جمع کیا جا سکتا ہے

جمع کیے جانے والے سونے کو بینک مختصر مدت ڈپازٹ سکیم کے تحت ایم ایم ٹی سی (میٹل اینڈ منرل ٹریڈنگ کارپوریشن آف انڈیا) کو سونے کے سکے ڈھالنے کے لیے فروخت کر سکتا ہے یا قرض دے سکتا ہے۔

بینک ڈپازٹ سونے کو سناروں کو بھی، سرمایہ کار کو دیے جانے والے سود کی شرح سے قدرے زیادہ شرح پر، قرضے دے سکتا ہے۔

بینک میں زیور، سکے یا بار کے طور پر سونا جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس سونے پر وزن کی بنیاد پر سود دیا جاتا ہے اور وقت کے ساتھ سونے کی قیمت میں اضافے کا فائدہ بھی سرمایہ کار کو ملتا ہے۔

سود کی شرح کا تعین متعلقہ بینک ہی کرتا ہے۔

سرمایہ کاری کی مدت کیا ہے؟

Image caption سونے کے خالص پن کی جانچ کے بعد اسے بینک میں جمع کیا جاتا ہے

بینک ایک سے تین سال کی مختصر مدت کے لیے، پانچ سے سات سال کی درمیانی مدت اور 12 سے 15 سال کی طویل مدت کے لیے سونے کو قبول کر سکتے ہیں۔

مختصر مدت کے لیے بینک سونا اپنے اکاؤنٹ میں جمع کر سکتے ہیں، لیکن وسط مدت اور طویل مدت کے لیے بینک حکومت کی جانب سے سونے کی سرمایہ کاری کی پیشکش قبول کر سکتے ہیں۔

سونا واپس کیسے ہوتا ہے؟

Image caption سونے کا بدلہ سونا ہے

سونے کے سرمایہ کار کو لوٹائے جانے والے اصل اور سود کی قیمت سونے میں ہی لگائی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص 100 گرام سونا جمع کرتا ہے اور اسے ایک فیصد کی شرح سے سود ملتا ہے تو مدت پوری ہونے پر 101 گرام سونا اس کے اکاؤنٹ میں آ جائے گا۔

سونے سے ہونے والی آمدنی کیپٹل گین ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس اور انکم ٹیکس سے آزاد ہوتی ہے۔ جمع سونے کی قیمت میں ہونے والے اضافے اور ملنے والے سود پر بھی کیپٹل گین ٹیکس نہیں لگتا ہے۔

اسی بارے میں