سمرتی ایرانی کا ’غیر معمولی سیاسی سفر‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جادو کی چھڑی گھمائی اور پلک جھپکتے ہی انسانی وسائل کی وزیر سمرتی ایرانی کا سیاسی قد کم ہوگیا۔

انڈیا میں منگل کو وزارتی کونسل میں ہونے والے رد و بدل کی یہ سب سے بڑی خبر ہے۔

٭ بھارتی کابینہ میں توسیع، 19 نئے وزرا شامل

٭ نئی بھارتی کابینہ کا نوجوان چہرہ سمرتی ایرانی

اس سے پہلے سمرتی ایرانی کا سیاسی سفر کسی پریوں کی کہانی سے کم نہیں تھا، وہ نہ کبھی کوئی الیکشن جیتیں اور نہ ہی وفاقی کابینہ کی پانچ سب سے اہم وزارتوں میں سے ایک کی ذمہ داری دیے جانے سے پہلے انھیں کسی سرکاری عہدے پر کام کرنے کا تجربہ تھا۔

وہ ایک سابق اداکارہ ہیں اور انھوں نے ٹی وی کے ڈراموں سے شہرت حاصل کی، پھر بی جے پی میں شامل ہوگئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے بی جے پی نے انھیں پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کے خلاف اپنا امیدوار بنا دیا۔

سمرتی الیکشن تو بھاری اکثریت سے ہار گئیں لیکن اس کے باوجود نریندر مودی نے صرف 38 سال کی عمر میں انھیں کابینہ میں شامل کر کے تعلیم کی وزارت کی ذمہ داری سونپ دی حالانکہ وہ صرف 12 ویں جماعت تک پڑھی ہیں۔

ان کے مخالفین کا کہنا تھا کہ کوئی ایسا شخص جو کبھی کالج نہ گیا ہو اسے وزیر تعلیم کیسے بنایا جاسکتا ہے؟

سمرتی تب سے ہی تنازعات میں گھری رہیں۔ وہ گریجوئیٹ ہیں یا نہیں، سرکاری سکولوں میں سنسکرت پڑھائی جائے یا جرمن، یونیورسٹیوں میں قومی پرچم لہرایا جائے یا نہیں، حیدرآباد یونیورسٹی میں خود کشی کرنے والے طالب علم روہت ویمولا دلت تھے کہ نہیں، دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طلبا یونین کے صدر کنہیا کمار ملک کے غدار ہیں یا نہیں، تنازعات کی فہرست لمبی ہے۔

شاید اسی کا خمیازہ انھیں بھگتنا پڑا لیکن یہ سب قیاس آرائیاں ہیں کیونکہ انھوں نے جن پالیسیوں کا اطلاق کرنے کی کوشش کی وہ ان کی اپنی نہیں، حکومت اور اس کی نظریاتی سر پرست تنظیم آر ایس ایس کی رہی ہوں گی۔

چونکہ وہ ایک نوجوان وزیر ہیں اس لیے کئی جنگیں انھوں نے ٹوئٹر پر لڑیں۔ ان میں سب سے حیرت انگیز تبادلہ بہار کے وزیر تعلیم کا تھا جنھوں نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا ’ڈیئر سمرتی ایرانی جی، تعلیم کی قومی پالیسی کا کیا بنا۔؟‘

جواب میں سمرتی ایرانی نے کہا اشوک جی، خواتین کو ڈیئر کہہ کر کب سے مخاطب کرنے لگے؟ اور بات بڑھتی چلی گئی۔

سمرتی ایرانی کو وزارت تعلیم سے ہٹائے جانے کے بارے میں لوگ ٹوئٹر پر کیا لکھ رہے ہیں؟

ایک شخص منیش کمار نے لکھا کہ سمرتی ایرانی کو وزارت تعلیم سے ہٹایا جانا، تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کی راہ میں ایک بڑا قدم ہے۔

جواب میں کسی کا کہنا ہے کہ لوگ طاقتور خواتین کو برداشت نہیں کر پاتے اور سمرتی ایرانی کو اس کا نقصان اٹھانا پڑا۔

پارلیمان میں روہت ویمولا کی خود کشی پر بحث کے دوران تقریر کرتے ہوئے سمرتی ایرانی نے کہا تھا ’مایاوتی جی، اگر آپ میرے جواب سے مطمئن نہ ہوئیں، تو میں اس ایوان میں کہتی ہوں کہ سر قلم کر کے آپ کے قدموں میں چھوڑ دوں گی۔‘

تقریر کے بعد مایاوتی نے کہا وہ سمرتی ایرانی کے جواب سے مطمئن نہیں ہیں، ’کیا اب وہ اپنا وعدہ پورا کریں گی۔؟‘

سمرتی ایرانی اب کپڑے کی وزارت سنبھالیں گی جہاں انھیں اپنے سیاسی کرئیر کا تانا بانا دوبارہ سے سنبھالنے کے لیے کافی وقت ملے گا۔

اسی بارے میں