بے قصور مسلمانوں کی رہائی کے لیے زکوٰۃ

Image caption انڈیا کے مسلمان زکوٰۃ کی رقم ان مسلم نوجوانوں کی رہائی پر خرچ کرتے ہیں جنہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے

انڈیا میں ایک مسلم تنظیم زکوٰۃ کی رقم ان بے قصور مسلم نوجوانوں کی رہائی کے لیے خرچ کرتی ہیں جنہیں مبینہ طور پر پولیس جھوٹے مقدما ت میں پھنسا کر جیل میں ڈال دیتی ہے۔

گذشتہ ماہ ہی عدالت نے 23 برس کے طویل عرصے کے بعد ایک مسلم نوجوان نثارالدین احمدکو دہشت گردی کے الزمات سے باعزت بری کیا تھا۔

اپنی رہائی کے بعد احمد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہیں ان کی زندگی برباد ہونے پر اس قدر افسوس ہے کہ اس کو سوچ کر رہائی کے بعد بھی خوشی نہیں ملتی ہے۔

انڈيا میں اس طرح کی خبریں اکثر آتی رہتی ہیں کہ انصاف میں بہت تاخیر ہوئی لیکن مسلم نوجوانوں کے ساتھ یا خاص طور پر جو کچھ بھی نثارالدین کے ساتھ ہوا بدقسمتی سے اس بارے میں سننے کو کم ہی ملتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملک میں بہت سے مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزامات یا ملک سے جنگ کرنے کے الزامات کے تحت برسوں جیل میں رکھا جاتا ہے

ملک میں بہت سے مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزامات یا ملک سے جنگ کرنے کے الزامات کے تحت برسوں جیل میں رکھا جاتا ہے پھر طویل قانونی جد و جہد کے بعد عدالتیں انہیں تمام الزامات سے بری کر دیتی ہے۔

اس تاخیر کی ایک وجہ یا تو قانونی لڑائی کی مہنگي فیس ہے یا پھر مقدمہ لڑنے کے لیے کسی اچھے وکیل کا تلاش کرنا، دونوں ہی مشکل کام ہیں۔

اسی مشکل کو آ‎سان کرنے کی غرض سے مسلمانوں کی مذہبی تنظیم جمعیت علما ہند نے ایسے لوگوں کی مدد کرنے کی غرض سے زکوٰۃ کی رقم استعمال کرنی شروع کی ہے۔

جمعیت نے اب تک اس طرح کے مقدمات لڑنے کے لیے تقریباً 20 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔

جمعیت میں لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی کا کہنا کہ رمضان کے مہینے میں مسلمان زکوٰۃ و صدقات زیادہ کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انہوں نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم مسلمانوں کو جمعے کے خطبے میں اس بہتر کام کے لیے چندہ دینے کی درخواست کرتے ہیں۔ لوگوں نے اس کا جواب بھی اچھا دیا ہے۔‘

جمعیت کی اس کوشش کے اچھے نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں۔

گلزار کہتے ہیں کہ ان کی تنظیم 65 مختلف دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسائے گئے ایسے 560 مسلمانوں کے کیسز لڑ رہی ہے۔

لیکن کسی کا مقدمہ لینے سے پہلے تنظیم اس کیس کا اچھی طرح مطالعہ کرتی ہے اور اسی کا کیس تنظیم لیتی ہے جس کے بارے میں یہ یقین ہو کہ اسے غلط طریقے سے پولیس نے پھنسایا ہے۔

گلزار کہتے میں: ’اللہ کے کرم سے سو سے زائد ایسے مسلم نوجوانوں کو، جنہیں نچلی عدالتوں نے قصوروار ٹھہرایا تھا، اعلیٰ عدالتوں نے بری کر دیا ہے۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں موت کی یا پھر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔‘

Image caption جمعیت کو سب سے پہلے ایسی کامیابی دو برس قبل اس وقت ملی تھی جب سپریم کورٹ نے 2002 میں گجرات کے ایک معروف مندر پر حملہ کرنے کے الزام جیل میں سزا کاٹ رہے چھ نوجوانوں کو بری کیا تھا

حال ہی میں ایسے ان نو لڑکوں کو رہائي ملی ہے جنھیں مالیگاؤں کے بم دھماکے کے بعد دس برس قبل گرفتار کیا گيا تھا۔

جمعیت کو سب سے پہلے ایسی کامیابی دو برس قبل اس وقت ملی تھی جب سپریم کورٹ نے 2002 میں گجرات کے ایک معروف مندر پر حملہ کرنے کے الزام جیل میں سزا کاٹ رہے چھ نوجوانوں کو بری کیا تھا۔

نچلی عدالتوں نے ان تمام نوجوانوں کو قصوروار ٹھہرایا تھا جس میں سے دو کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

ریاست مغربی بنگال کے سابق وزیر صدیق اللہ چودہری، جن کا تعلق گرچہ دوسرے حریف گروپ سے ہے لیکن انصاف کے لیے جمعیت کے اس مشن کے وہ حامی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جمعیت علما ہند 65 مختلف دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسائے گئے ایسے 560 مسلمانوں کے کیسز لڑ رہی ہے

وہ کہتے ہیں: ’یہ ہماری اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے کہ ہم ان مسلم نوجوانوں کی قانونی مدد کریں جنہیں غلط طریقے سے دہشت گردی کے مقدمات میں پھنسایا گيا ہے۔‘

کولکتہ کی مسجد کے ایک امام قاری محمد شفیق کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے پیسے خرچ کرنا بالکل درست ہے۔

انہوں نے بتایا: ’وہ مسلمان جنہیں غلط مقدمات میں پھنسایا گيا ہے ان کی مدد کرنا لازم ہے۔ ان میں سے متعدد کے پاس کیس لڑنے کے لیے پیسے ہی نہیں ہیں۔ اور ان کی قانونی مدد کے لیے زکوٰۃ کا پیسہ خرچ کیا جا سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں