برطانیہ افغانستان میں اضافی فوجی بھیجے گا

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption اضافی فوجی افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گے

برطانیہ نے افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور صلاح مشورے کے لیے اضافی 50 فوجی اہلکار بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانیہ کی جانب سے بھیجے جانے والے 50 اضافی فوجی وہاں پہلے سے تعینات 450 اہلکاروں کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔

افغانستان میں تعینات برطانوی فوجی افغان سکیورٹی فورسز کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور قائدانہ صلاحیتوں میں اضافے کے حوالے سے تربیت دیں گے۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اضافی فوجی افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔

افغانستان میں تعینات برطانوی فوجیوں نے پہلے رواں برس واپس آ جانا تھا لیکن اب ان کے مشن کو آئندہ سال کے اختتام پر بڑھا دیا گیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون واسا میں نیٹو کے اجلاس میں اضافی برطانوی فوجیوں کی تعینات کا باضابط اعلان کریں گے۔

برطانیہ کی جانب سے یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جو امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ ہفتے افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کے انخلا کے عمل کو آہستہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

برطانوی حکام کے مطابق اضافی 50 فوجیوں میں سے 21 انسداد دہشت گردی مشن، 12 افغان فوج کے افسران کی اکیڈیمی میں قائدانہ صلاحیتوں میں اضافے کے مشن میں اور 13 نیٹو کے مشن میں شمولیت اختیار کریں گے۔

نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے وارسا میں آمد کے موقع پر برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ نیٹو’ افغان حکومت اور افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے تاکہ دہشت گردوں کو اس ملک سے دور کرنے میں مدد کر سکیں۔‘

انھوں نے کہا کہ برطانوی فوجیوں کی تعیناتی اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ یورپی اتحاد سے نکلنے کے فیصلے کے باوجود برطانیہ عالمی سطح پر مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔

’برطانیہ دنیا میں اپنے کردار کو کم نہیں کرنے جا رہا، ہم بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہم اپنی قوت کو استعمال کرتے ہوئے اور نیٹو کے ذریعے، نیٹو کے ذریعے بھی برطانوی اقدار اور ان چیزوں کو پھیلاتے رہیں گے جن پر ہمارا یقین ہے۔

برطانیہ نے افغان سکیورٹی فورسز کو دی جانے والی سات کروڑ پاؤنڈ سالانہ امداد کو 2020 تک بڑھانے کا اعلان بھی کیا ہے اور اس کے علاوہ افغان حکومت کو اضافی 17 کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔

اسی بارے میں