’بارے آموں کا کچھ بیاں ہو جائے‘

Image caption آم کے پیلے رنگ کے سامنے باقی پھلوں کے رنگ پیلے پڑ جاتے ہیں

موسم گرما کے شروع ہوتے ہی ذہن میں ایک پھل کا نام سب سے زیادہ آتا ہے اور وہ ہے پھلوں کا بادشاہ آم۔

غذائیت سے بھرپور جب یہ پھل بازار میں آتا ہے تو اپنی متنوع اقسام اور ذائقوں سے جی کو للچانے لگتا ہے۔

٭ اسلامی دسترخوان کا ارتقا

٭ مغل دسترخوان نفاست اور غذائیت کا امتزاج

٭ دلّی کے نہ تھے کُوچے، اوراقِ مصوّر تھے

اس کا شاہی پیلاپن دوسرے تمام پھلوں کے رنگوں کو دھندلا کر دیتا ہے۔ آم اپنی مٹھاس کے ساتھ مزے سے پُر، گودے دار اور رسیلا پھل ہے۔

ستم ظریفی ہی ہے کہ بھارت اور پوری دنیا میں پھلوں کے بادشاہ کے نام سے معروف اس پھل آم کا دیسی زبان میں مطلب ہی عام ہوتا ہے۔

سنسکرت ادب میں یہ آمر کے نام سے مذکور ہے اور 4000 سال سے موجود ہے۔

انگریزی میں مینگو تمل کے لفظ منگائی سے آیا۔ اصل میں پرتگالیوں نے تمل سے لے کر اس کو منگا کے طور پر قبول کیا، جہاں سے انگریزی کا لفظ مینگو تیار ہوا۔

برصغیر اساطیری یا لوک کہانیوں کا ملک ہے، جن میں اکثر ثقافتی رسم و رواج اور مذہبی رسومات شامل ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آم اپنے ہر دور میں پتے سے لے کے چھاؤں تک کے لیے اہمیت کا حامل ہے

آم ور اس کے درخت سے منسلک بہت ساری کہانیاں ہیں۔ بھارتی رزمیوں رامائن اور مہابھارت میں بھی آم کا ذکر ہے۔

آم کے درخت کا کئی جگہ كلپ وركش یعنی ہر خواہش پوری کرنے والے پیڑ کے طور پر ذکر ملتا ہے۔

اس درخت کے سائے کے علاوہ اس سے بہت سے مذہبی عقیدے بھی منسلک ہیں جیسے رادھا کرشن کے رقص، شیو اور پاروتی کی شادی وغیرہ۔

گوتم بدھ کی پسندیدہ جگہ آم کا باغ تھا۔ بدھ مت کے فنی نمونوں میں اس کی موجودگی قابل ذکر ہے۔

ایک صدی قبل مسیح کے سانچي ستوپ کے دروازے پر ایک آرٹ ورک ہے جس میں ایک يكشي (اساطیر میں دیوی سے کم درجے کی) پھلوں سے لدی ایک ڈال سے لپٹی ہوئی نظر آتی ہے۔

بھارت کے پہلے نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کو بھی آم بہت پسند تھے اور انھوں نے آم پر ایک نظم لکھی ہے۔

عظیم اردو شاعر غالب کی آم کی رغبت سے کون واقف نہیں۔ آم کے بارے میں مرزا غالب اور ان کے ایک دوست کا واقعہ بہت مشہور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہرسال بھارت میں آم کی نمائش لگتی ہے

غالب کے دوست نے دیکھا کہ ایک گدھا آم کے ڈھیر تک گیا اور سونگھ کر واپس آ گیا۔

دوست نے کہا، ’دیکھا، گدھے بھی آم نہیں کھاتے۔‘

غالب کا جواب تھا، ’بالکل، صرف گدھے ہی آم نہیں کھاتے۔‘

صوفی شاعر امیر خسرو نے فارسی شاعری میں آم کی خوب تعریف کی تھی اور اسے فخر گلشن کہا تھا۔

تاہم، ایسا نظر آتا ہے کہ سنہ 632 سے 645 عیسوی کے دوران ہندوستان آنے والے سیاح ہوانسانگ پہلے ایسے شخص تھے جنھوں نے ہندوستان کے باہر کے لوگوں سے آم کا تعارف کرایا تھا۔

یہی نہیں، آم تمام مغل بادشاہوں کا پسندیدہ پھل تھا۔ اس فصل کو فروغ دینے ان کی کوششیں شامل تھیں اور بھارت کی زیادہ تر تیار قلمی قسموں کا سہرا انھی کے سر جاتا ہے۔.

Image caption غالب نے آم کے تعلق سے کئی اشعار کہے ہیں

اکبر اعظم (1556-1605 ء) نے بہار کے دربھنگہ میں ایک لاکھ آم کے درختوں کا باغ لگوایا تھا۔

آئین اکبری (1509) میں بھی آم کی قسموں اور ان کی خصوصیات کی تفاصیل موجود ہیں۔

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے عہد میں بھی لال قلعے میں آم کا باغ تھا، جس کا نام تھا حیات بخش تھا اور اس میں بعض مخصوص آم کے درخت تھے۔

سنسکرت ادب میں آم کا ذکر الوکک یعنی غیر مرئی محبت کی علامت کے طور پر ہے۔

گنیش اور بھگوان شیو سے منسلک ایک اور دلچسپ واقعہ ہے۔ شیو اور پاروتی کو برہما کے بیٹے نارد نے ایک سنہرا پھل دیا تھا اور کہا تھا کہ اسے صرف ایک شخص ہی کھائے۔

اب دونوں بیٹوں میں کسے یہ پھل دیا جائے، اس پر شیو اور پاروتی یہ شرط رکھتے ہیں کہ جو سب سے پہلے کائنات کے تین چکر لگا کر آئے گا اسے یہ پھل دیا جائے گا۔

گنیش نے اپنے ماں باپ کے تین چکر لگائے اور یہ کہتے ہوئے اپنے بھائی کارتک سے پہلے پہنچ گئے کہ: میرے لیے میرے ماں باپ ہی کائنات ہیں۔

آج کے زمانے میں ریاست بہار کے بھاگلپور ضلع کے دھرہرا گاؤں میں 200 سالوں سے ایک روایت چلی آ رہی ہے، جس کے مطابق، لڑکی پیدا ہونے پر اہل خانہ کو دس آم کے درخت لگانے ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ KANNAGI KHANNA
Image caption آم کو آئس کریم کے ساتھ پیش کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے

اس کے پس پشت یہ خیال ہے کہ اس سے بچی کی حفاظت اور اس کے مستقبل کے خدشات کم ہوتے ہیں۔ شادیوں میں آم کے پتے لٹکائے جاتے ہیں۔ اس رسم سے سمجھا جاتا ہے کہ نئے جوڑے کے زیادہ بچے ہوں گے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب جب آم کی ڈالی میں نئے پتے آتے ہیں، تب لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ پڑوسیوں کو ولادت کی اطلاع دینے کے لیے دروازوں کو آم کے پتوں سے سجایا جاتا ہے۔

بھارت میں کپڑوں، تعمیرات اور زیوارت کے ڈیزائنوں میں کیری اور امبيا کے نمونے عام ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں آموں کی 1500 سے زیادہ قسمیں ہیں جن میں 1000 قسمیں ہندوستان میں تیار ہوئی ہیں۔

بھارت میں تیار بعض مقبول قسمیں اس طرح ہیں: ہاپس (جسے الفانسو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے)، مالدہ، راجہ پري، پیری، سفیدا، فضلی، دشہري، توتاپري اور لنگڑا۔

دہلی میں جولائی کے مہینے میں بین الاقوامی آم فیسٹول کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں 500 سے زیادہ قسموں کی نمائش ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption آم کا استعمال کھٹے کے طور پر بھی عام ہے

مغل آم سے ایک ڈش تیار کرتے تھے جس امبا قلیہ کہتے ہیں۔ اس بنانے کا طریقہ اس طرح ہے۔

مٹن ایک کلو، نمک ذائقے کے مطابق، گھی ایک کپ، کشمش دو چمچہ، پستے کے ٹکڑے دو چمچے، بادام کے ٹکڑے دو چمچے، چینی ایک کپ، کچا آم ایک کلو کا تین چوتھائی، رائس پیسٹ ڈیڑھ چمچہ، دار چینی آدھا چائے کا چمچہ، لونگ آدھا چمچہ، الائچی چار، پسی ہوئی کالی مرچ ایک چائے کا چمچہ، زعفران ایک چوتھائی چائے کا چمچہ،

پکانے کا طریقہ

گوشت کے ٹکڑے کریں اور دہی اور مصالحے میں ملا کر يخني بنا لیں پھر گوشت کے ٹکڑے علیحدہ کر کے پانی نچوڑ لیں۔

ان ٹکڑوں کو دوبارہ يخنی میں لونگ کے ساتھ ملائیں۔ پھر اس میں خشک پھل ڈالیں اور علیحدہ رکھ دیں۔ شکر کا گھول بنائیں۔ نصف آم کو کاٹ لیں اور انھیں چاقو سے گود لیں اور پانی میں ابالیں، پھر نکال کر شکر کے قوام دھیمی آنچ پر پکائیں۔ پھر اسے نکال لیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TBK
Image caption بھارت میں مختلف علاقوں میں کھانے کی پیشکش بھی مختلف ہیں

باقی بچے آموں کو پانی میں اتنا ابالیں کہ ہاتھ سے اس کا گودا نکل جائے۔ اس گودے کو بچے ہوئے قوام میں ملائیں اور ابالیں۔

اب اس میں يخني کو ملائیں اور دھیمی آنچ پر پکائیں۔

جب کری تھوڑی پک جائے تو بچے ہوئے آم کے ٹکڑے اور رائس پیسٹ کو ملائیں اور ایک بار ابال لیں۔ اب اس پر مصالحے اور زعفران چھڑک دیں۔ آپ کا قلیہ امبا کھانے کے لیے تیار ہے۔

سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں جس کی یہ چوتھی کڑی ہے۔

اسی بارے میں