’انڈیا سے نہیں پالیسیوں سے نفرت کرتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہری حقوق کی علم بردار کویتا کرشنن نے کہا کہ حکومت کشمیر میں باقی ملک سے مختلف پالیسیاں اختیار کرتی ہے

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کی تاریخی عمارت جنتر منتر پر سارا سال مظاہروں کا میلہ لگا رہتا ہے۔ یہ دہلی کا ہائیڈ پارک ہے۔ جسے حکومت سے کوئی شکایت ہو، اور شنوائی نہ ہو رہی ہو، تو وہ جنتر منتر کا ہی رخ کرتا ہے۔

شاید اس امید میں کہ قریب ہی واقع پارلیمان تک اس اس کی آواز پہنچ جائے گی۔

٭ ہلاکتوں میں مزید اضافہ، یومِ شہدا پر احتجاج کی کال

٭ ’سیاح کشمیر میں رہنے اور آنے سے ڈرتے ہیں‘

بدھ کی دوپہر وہاں کشمیر کی موجودہ صورت حال کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔ کشمیرمیں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وہاں 35 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور وادی کے زیادہ تر علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔

مظاہرے کی اپیل انسانی اور شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کی تھی اور خاموش مارچ میں شرکت کے لیے پہنچنے والے زیادہ تر چہرے جانے پہچانے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے وابستہ ہیں اور اکثر جنتر منتر پہنچ کر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔

بہرحال، کچھ تقاریر ہوئیں اور کچھ مشورے دیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مظاہرے کی اپیل انسانی اور شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے دی تھی

دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طالب علم رہنما شہلا رشید نے کہا کہ برہان وانی کو گرفتار کیا جانا چاہیے تھا، پھر ان پر مقدمہ چلتا اور عدالت جو مناسب سمجھتی، انھیں وہ سزا دیتی۔

قریب ہی کھڑے ایک صحافی نے کہا کہ ’میڈم وہاں مسلح تحریک چل رہی ہے۔۔۔‘

شہری حقوق کی علم بردار کویتا کرشنن نے کہا کہ حکومت کشمیر میں باقی ملک سے مختلف پالیسیاں اختیار کرتی ہے۔ ’جب ہریانہ میں پر تشدد مظاہرے ہو رہے تھے تو پولیس کی گولیوں سے کتنے لوگ مارے گئے تھے؟‘

مظاہرے میں بنیادی طور پر یہ مطالبہ کیا گیا کہ جموں و کشمیر سے وہ قانون ہٹایا جائے جس کے تحت وہاں مسلح افواج کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں، اور حکومت مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ شروع کرے۔

لیکن یہ بات چیت پہلے بھی کئی مرتبہ ہو چکی ہے اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔ مظاہرے میں صرف دو تین کشمیری نوجوان ہی شریک تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا: ’ہم انڈیا سے نہیں حکومت کی پالیسیوں سے نفرت کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیرمیں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وہاں 35 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں

ایک اور کشمیری نوجوان نے کہا کہ امن کی اپیلوں سے کچھ نہیں ہوتا، وزیر اعظم کو خاموشی توڑنی چاہیے اور کشمیر کے مسئلے کو ترجیحات کی فہرست میں سب سے اوپر لایا جانا چاہیے۔

کسی نے کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کہ برہان وانی جزب المجاہدین کے کمانڈر تھے، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ لوگ ان کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکتے، یا ان کے گھر والوں کے ساتھ ہمدردی نہیں کر سکتے۔

مظاہرے کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے بھی وہاں کچھ نوجوان موجود تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ فوج اور حکومت کی حمایت میں وہاں آئے تھے۔ انھوں نے ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائے۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ ’اس دیش میں آزادی نہ ہوتی تو یہ لوگ یہاں آ کر دیش کے خلاف باتیں کرنے کی ہمت نہ کرتے۔‘

کشمیر پر کوئی بحث ہو تو وہ کبھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچتی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ فریقین اپنے موقف میں ذرا بھی نرمی دکھانے کو تیار نہیں۔ یہی شاید اس مسئلے کے حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اسی بارے میں