کشمیر: اقوامِ متحدہ میں پاکستانی احتجاج پر انڈیا کا شدید ردعمل

Image caption کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے مظاہرین اور پولیس کی جھڑپوں میں کم سے36 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

پاکستان کی جانب سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پرتشدد واقعات کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائے جانے پر انڈیا کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

دریں اثنا پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی حکومت کی پالیسیاں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور بھارت کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب رہا ہے۔

سلامتی کونسل میں انڈیا کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ ایک ایسے ملک کو حقوقِ انسانی کی بات زیب نہیں دیتی جو ’دہشت گردی کو ریاستی پالیسی‘ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

٭ ’کشمیر میں انڈیا کی پالیسیاں امن کی راہ میں رکاوٹ‘

٭ ’انڈیا سے نہیں پالیسیوں سے نفرت کرتے ہیں‘

٭ ’کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے, پیچھے نہیں ہٹیں گے‘

جمعرات کو جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق کے موضوع پر خصوصی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی مندوب سید اکبر الدین کی جانب سے یہ ردعمل انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اسی کانفرنس سے اپنے خطاب میں کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کو ’کشمیری رہنما کا ماورائے عدالت قتل‘ قرار دیا تھا۔

Image caption سید اکبرالدین نے کہا کہ پاکستان کا ’ٹریک ریکارڈ‘ ایسا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کی رکنیت کے عالمی برداری حمایت حاصل نہیں کر سکا

ان کا کہنا تھا کہ انڈین فوج کشمیریوں کو کچل رہی ہے۔

ملیحہ لودھی نے کہا: ’حال ہی میں ایک کشمیری لیڈر کو ماورائے عدالت گولی مار دی گئی اور دیگر درجنوں بےگناہ کشمیریوں کو بے رحمی سے ہلاک کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر میں انڈیا کی قابض فوج طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کی آزادی کے حق کو کچل رہی ہے۔‘

خیال رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے مظاہرین اور پولیس کی جھڑپوں میں کم سے36 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 1500 سے زائد زخمی ہیں جن میں سے درجنوں کی آنکھوں میں چھرّے لگنے کی وجہ ان کی بینائی جانے کا بھی خدشہ ہے۔

انڈین حکام کے مطابق ایسے زخمیوں کے علاج کے لیے مرکزی حکومت نے تین ڈاکٹروں پر مشتمل خصوصی ٹیم بھی کشمیر بھجوائی ہے۔

بھارتی مندوب سید اکبرالدین نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

سید اکبر الدین نے کہا کہ ’افسوس کے ساتھ، ہم نے دیکھا کہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو غلط مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ پاکستان جیسا ملک کر رہا ہے جو اپنی سر زمین کو دوسروں کے لیے استعمال ہونے دیتا ہے، جو دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتا ہے اور دہشت گردوں کے گُن گاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ ملک جو اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے افراد کو پناہ دیتا ہے، وہ انسانی حقوق اور حق خود اردیت کے لیے اپنی حمایت ظاہر کرنے کے لیے دکھاوا کر رہا ہے۔‘

انڈین مندوب سید اکبرالدین نے کہا کہ پاکستان کا ’ٹریک ریکارڈ‘ ایسا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کی رکنیت کے عالمی برداری حمایت حاصل نہیں کر سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوامِ متحدہ میں اپنے خطاب میں برہان وانی کی ہلاکت کو کشمیری رہنما کا ماورائے عدالت قتل قرار دیا تھا

پاکستان کشمیر میں حالیہ احتجاجی لہر کے آغاز کے بعد سے ہی کشمیریوں سے روا رکھے جانے والے سلوک پر آواز بلند کر رہا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے بھی اپنے بیان میں علیحدگی پسند کشمیری رہنما برہان وانی کی ہلاکت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ کشمیر میں جاری کشیدگی کے حوالے سے وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت بھی کی تھی لیکن کشمیری رہنماؤں نے اُن کی جانب سے وادی کی صورتحال پر تشویش کو ’بے معنی‘ قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں