’کشمیریوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تمہیں کیا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جنرل حسنین سرینگر میں مقیم فوج کی پندرہویں کور کے کمانڈر رہ چکے ہیں

کشمیر میں مظاہروں اور تشدد کی تازہ لہر کے بعد انڈیا میں زیادہ تر مبصرین اور تجزیہ نگار بات چیت کی وکالت کر رہے ہیں، پاکستان سے نہیں کشمیر کے عوام سے۔

اور کچھ کا مشورہ ہے کہ حکومت انا کوچھوڑ کر ان لوگوں کو اینگیج کرے جن کے غصے اور مایوسی نے انھیں سڑکوں پر پہنچا دیا ہے۔

’کشمیری کبھی بھی اتنا بدظن نہیں ہوئے‘

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین کا کہنا ہے کہ ’ کشمیر میں حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ جس کسی نے بھی کشمیر میں کام کیا ہے اور وہاں کی شورش کو قریب سے دیکھا ہے، وہ آپ کو بتائے گا کہ وہاں سب سے بڑا مسئلہ وہ خلیج ہے جو حکومت، سیاستدانوں اور عوام کے درمیان پیدا ہوگئی ہے۔۔۔ اور یہ کمی صرف انتخابات سے پوری نہیں ہوسکتی۔‘

جنرل حسنین سرینگر میں مقیم فوج کی پندرہویں کور کے کمانڈر رہ چکے ہیں۔

سیاسی امور کے ماہر دیپانکر گپتا کا کہنا ہے کہ شمالی آئرلینڈ اور سپین کے باسک علاقے میں سرگرم باغیوں، اور فلسطین اور کشمیر میں سرگرم علیحدگی پسندوں میں ایک یکسانیت ہے: وہ ٹوٹے ہوئے کانچ پر چلنا پسند کریں گے لیکن تحریک سے دستبردار نہیں ہوں گے۔۔۔ ایسا تب ہوتا ہے جب مزاحمت کلچر کا حصہ بن جائے اور افسوس کہ یہ ہی کشمیر میں ہوا ہے۔‘

دیپانکر گپتا نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ مسئلے کا حل یہ ہے کہ کناڈا کے علاقے کیوبیک، باسک اور شمالی آئر لینڈ سے سبق سیکھا جانا چاہیے۔ چند سال پہلے تک وہاں مسلح تحریکیں جاری تھیں، لیکن ان تحریکوں کے رہنما آج مقامی حکومتوں میں شامل ہیں کیونکہ سپین اور برطانیہ کی حکومتوں نے انہیں دوبارہ قومی دھارے میں لانے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے اور اس کے لیے انہیں غیر معمولی رعایتیں دینا پڑیں، ایسے اقدامات جن کا ماضی میں تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں تشدد کی تازہ لہر حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم کناڈا، سپین یا برطانیہ کی نقل تو نہیں کر سکتے، لیکن ان سے تحریک لےکر اپنے ذہن ضرور کشادہ کر سکتے ہیں۔‘

سینیئر صحافی کرن تھاپر نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ’ہندوستان ایک آزاد جمہوری ملک ہے جہاں لوگ گجراتی، راجستھانی، تمل یا ملیالی۔۔۔ ہوسکتے ہیں لیک ساتھ ہی وہ ہندوستانی بھی ہیں، لیکن کشمیری ایسا محسوس نہیں کرتے۔‘

ان کے مطابق اگر اس صورتحال کو بدلنا ہے ’تو ہمیں یہ پوچھنا ہوگا کہ وہ چاہتے کیا ہیں، ہم ان کے مطالبات کس حد تک پورا کرسکتے ہیں اور کیا ہمارے درمیان کوئی سمجھوتہ ممکن ہے؟‘

کرن تھاپر کا کہنا ہے کہ ایک حقیقی جمہوریت مسائل کا سامنا کرتی ہے انہیں حل کرنے کی ذمہ داری پولیس پر نہیں چھوڑ دیتی۔ ’بدقسمتی سے ہم نے ایسا ہی کیا ہے۔‘

وہ بھی شمالی آئرلینڈ کی مثال دیتے ہیں جہاں ان کے مطابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ان سے پہلے جان میجر نے فوجی حل کے بجائے سیاسی حل کو ترجیح دی اور انجام کار نتیجہ یہ ہوا کہ ’مسلح تحریک چلانےوالی آئرش رپبلکن آرمی کا سیاسی چہرہ شن فین آج حکومت میں شامل ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کرن تھاپر کا کہنا ہے کہ ایک حقیقی جمہوریت مسائل کا سامنا کرتی ہے انہیں حل کرنے کی ذمہ داری پولیس پر نہیں چھوڑ دیتی

ان کا مشورہ ہے کہ حالات کو سنبھالنے کے لیے ابھی بھی وقت ہے، لیکن ’یہ کام آسان نہیں ہوگا، سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس ایسی سیاسی قیادت ہے جو اس کام کو انجام دے سکے؟‘

این ڈی ٹی وی کی سینیئر ایڈیٹر برکھا دت نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ وادی کی پیچیدہ صورتحال کو اگر بہتر بنانا ہے تو سچائی اور مصالحت کی ضرورت ہے، ’پرائم ٹائم اینکرز کی طرف سے حالات کو بھڑکانے کی نہیں۔۔۔ ضرورت قیام امن کے عمل کی ہے لیکن اس سب سے زیادہ اس ہمدردی کی جس کا مظاہرہ اٹل بہاری واجپئی نے کشمیری عوام سے یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ ’انسانیت کے دائرے میں جو کچھ بھی ممکن ہے، وہ کرنے کو تیار ہیں۔‘

مصنفہ شوبھا ڈے نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ کشمیریوں سے کوئی یہ پوچھنے کو تیار نہیں کہ ’تمہیں کیا چاہیے؟ دونوں برسر پیکار فریق بے رحمی کے ساتھ اپنی حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیں، اس بات کی کسی کو فکر نہیں کہ ان کے تشدد کا نشانہ بننے والے لوگ کیا چاہتے ہیں؟ اب یہ معلوم کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘

کشمیر میں تشدد کی تازہ لہر حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی اور تشدد کے واقعات میں اب تک تقریباً 40 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ انھیں اس بات پر کوئی حیرت نہیں کہ کشمیر پھر ابال پر ہے، ’حیرت اس بات پر ہے وزیر اعلی مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد حالات کو اس نہج پر پہنچنے میں اتنے مہینے لگ گئے۔‘

ان کا موقف ہے کہ حکومتوں نے ایک بنیادی غلطی کی ہے اور وہ یہ کہ کشمیر کے مسئلے کو انھوں نے زمین کے ٹکڑے سے منسوب کیا ہے، کشمیریوں سے نہیں۔

اسی بارے میں