سفرنامۂ چین: چین کی ترقی بھی چینی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
(بی بی سی فارسی کی فرانک عمیدی چین کے دورے پر گئیں۔ اس دورے کے بارے میں ان کی تحریریں سفرنامۂ چین کے عنوان سے بی بی سی اردو پر شائع کی جا رہی ہیں۔ یہاں اس سلسلے کی دوسری تحریر پیش ہے۔)

جب آپ بیجنگ پہنچتے ہیں تب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ چین کی ترقی کس قدر چینی ہے، اور یہ کہ چین ترقی تو ضرور کر رہا ہے لیکن اس کی ترقی کا مطلب مغرب زدہ بننا نہیں ہے۔

بیجنگ دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے کہ اور اس کی آبادی پچھلے 30 برسوں میں بڑھ کر دو گنا ہو گئی ہے۔ یہاں بہت سے عمارتیں نئی اور جدید ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مغرب زدہ ہیں۔

پچھلے دو ہزار برسوں میں چین کی سرحدیں اور جغرافیہ تقریباً جوں کا توں رہا ہے۔

٭ سفرنامۂ چین: چینی سب کچھ کیوں کھاتے ہیں؟

چینی قومی شناخت حضرتِ عیسیٰ سے بھی صدیوں پہلے قائم ہو چکی تھی اور ظاہر ہے کہ اس وقت مغربی شناخت نامی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین نے اپنی معاشی ترقی کو خطے میں سیاسی بالادستی قائم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے

چین کی اس قدیم شناخت کو سمجھنے کے بعد کہیں جا کر جدید چین کو سمجھا جا سکتا ہے، اور یہی وہ پہچان ہے جس نے چین کی سرحدوں کو ہزاروں سال سے محفوظ و مامون رکھا ہوا ہے۔

ایشیا میں جاپان وہ پہلا ملک تھا جس نے جدید رنگ میں رنگنا شروع کیا تھا، اور یہ عمل دراصل 19ویں صدی ہی میں شروع ہو گیا تھا۔

تاہم چینی اور جاپانی صنعت کاری میں بہت فرق ہے۔ جاپانی صنعت کاری میجی دور میں شروع ہوئی، اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جاپان کو مغربی ممالک سے خطرہ لاحق تھا۔

جاپان کے لیے اپنی آزادی اور خودمختاری برقرار رکھنے کا واحد طریقہ یہ تھا کہ وہ صنعتی انقلاب برپا کر کے مغربی ملکوں کے ہم پلہ ہو جائے۔

چین نے اس وقت یہ کام نہیں کیا جس کا نتیجہ اسے جنگِ افیون کے بعد مغرب خصوصاً برطانیہ کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ماؤ زے تنگ کے انتقال کے بعد چینی ترقی کی رفتار میں تیزی آ گئی

دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایک بار پھر جاپان کی تیزرفتار ترقی کا محرک بیرونی خطرات (امریکہ) تھے۔ 40 سے 50 کی دہائی تک جاپان مغرب کی طرف جھکاؤ رکھتا تھا اور اس دوران اس کا خطے میں کسی قسم کا سیاسی یا فوجی اثر و رسوخ نہیں تھا۔

اس کے برعکس چین میں صنعت کاری کا محرک اندرونی تھا۔ یہ عمل 1911 کے جمہوری انقلاب کے بعد شروع ہوا اور سست رفتاری سے آگے بڑھتا رہا۔ البتہ کمیونسٹ انقلاب کے بانی ماؤ زے تنگ کے 1976 میں انتقال کے بعد اس میں تیزی آ گئی۔

چین اس لیے جدید اور صعنتی ملک بننا چاہتا تھا کہ حکمران کمیونسٹ جماعت کو ملک پر اپنی سیاسی گرفت مضبوط رکھنے اور عوام کی ثقافتی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے اس کی ضرورت تھی۔

اس کے علاوہ جاپان سے دوسرا فرق یہ ہے کہ چین نے معاشی ترقی کو نہ صرف خطے میں بلکہ دوسرے براعظموں (مثلاً افریقہ) میں بھی سیاسی بالادستی قائم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

اس دوران چین نے نہ صرف اپنے سیاسی معاملات مغرب سے الگ رکھے ہیں بلکہ کئی موقعوں پر وہ مغرب کے خلاف بھی کھڑا ہوا ہے۔

اسی بارے میں