بدعنوانی کے جرم میں خالدہ ضیا کے بیٹے کو سزا

تصویر کے کاپی رائٹ focus bangla

بنگلہ دیش کی عدالت نے ملک میں حزبِ اختلاف کی رہنما خالدہ ضیا کے بیٹے کو منی لانڈرنگ کے جرم میں سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

جمعرات کو یہ فیصلہ بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے سنایا۔

بنگلہ دیشں میں حزبِ اختلاف کی جماعت نیشلسٹ پارٹی کی رہنما خالدہ ضیا سنہ 2008 سے لندن میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور اُن کے بڑے بیٹے طارق رحمان بھی لندن ہی میں مقیم ہیں۔

عدالت نے منی لانڈرنگ کے جرم میں 25 لاکھ ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ انھوں نے بدعنوانی اُس وقت میں کی جب اُن کی والدہ کی جماعت برسرے اقتدار تھی۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

51 سالہ طارق رحمان کو سنہ 2013 میں پہلی بار بدعنوانی کے جرم میں ذیلی عدالت نے سات جیل کی سزا سنائی تھی۔

خالدہ ضیا دو بار بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہ چکی ہیں اور اُن کے بڑے بیٹے طارق رحمان کو اُن کا سیاسی جانشین تصور کیا جاتا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے کہا کہ طارق رحمان نے اپنا سیاسی اثرورسوخ استعمال کر کے اپنے قریبی دوست غیاث الدین مامون کو 20 کروڑ ٹکا کی منی لانڈرنگ کرنے میں معاونت کی۔

مامون نے یہ رقم ایک پاور پلانٹ کو ٹھیکے دلوانے کے لیے رشوت کے طور پر لی اور یہ رقم اُن کے سنگاپور کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئیں۔

رشوت کے طور پر لی گئی اس رقم میں طارق رحمان کو چار کروڑ 50 لاکھ ٹکا ملے۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد طارق رحمان اُس وقت سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے جب تک سپریم کورٹ اُنھیں کرپشن کے الزامات میں بری نہیں کر دیتی۔

اسی بارے میں