آپ کیوں سوئے یا سوئے ہی نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption راہل گاندھی کو فائدہ یہ ہے کہ انھیں خود اپنا دفاع نہیں کرنا پڑتا

کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی نے پارلیمان میں ذرا آنکھیں کیا موند لیں، بس قیامت آگئی۔

ویسے تو حزب اختلاف کی جماعتیں انھیں یہ کہہ کر نشانہ بناتی ہیں کہ وہ کسی کام کہ نہیں، وہ جز وقتی سیاست کرتے ہیں، ملک کو درپیش سنگین مسائل میں نہ ان کی دلچسپی ہے اور نہ سمجھ، وہ پارلمیان میں مہمان کی طرح آتے ہیں اور بحث مباحثوں میں کبھی حصہ نہیں لیتے۔۔۔

* کانگریس پارٹی آپریشن تھیٹر میں؟

٭ کانگریس اور راہول کا سیاسی امتحان

تو اگر یہ سب سچ ہے تو پارلیمان میں بیٹھ کر انسان اور کیا کرے؟

بےچارے راہل اگر ایوان میں ہنگامہ کریں تو ان پر الزام ہوگا کہ پارلیمان کی کارروائی نہیں چلنے دیتے، اگر خاموشی سے آنکھیں بند کر کے تقریر سنیں تو الزام ہے کہ وہ سو رہے تھے!

یہ تو راہل ہی بتا سکتے ہیں کہ جھپکی آئی تھی یا نہیں، جو تصویر اخبارات میں چھپی ہیں انھیں دیکھ کر وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

تصویر میں ان کی آنکھیں بند ہیں، سر کو ہاتھ سے سہارا دے رکھا ہے، اور چہرے پر سکون ہے، یہ تینوں ہی چیزیں سوتے ہوئے بھی ممکن ہیں اور جاگتے ہوئے بھی۔

لیکن جن لوگوں نے پارلیمنٹ کی ایئر کنڈشننگ کا اثر دیکھا ہے وہ صرف راہل نہیں دیگر بہت سے مصروف سیاستدانوں کی مشکل کو سمجھ سکتے ہیں۔

جہاں تک مجھے علم ہے پارلیمان میں ہلکی سی جھپکی لینا کوئی جرم نہیں۔ پارلیمان میں آپ کچھ بھی کریں اس کے لیے آپ کے خلاف کسی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔

یہاں تک کہ جب نرسمہا راؤ وزیر اعظم تھے تو ’کیش فار ووٹس‘ کے نام سے مشہور ہونے والے گھپلے میں کچھ اراکین پارلیمان کے خلاف بدعنوانی کے الزام میں صرف اس لیے کارروائی نہیں کی جاسکی تھی کہ انھوں نے رشوت کے عوض ووٹ ڈالے تھے اور سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ چونکہ ووٹ پارلیمان میں ڈالے گئے لہذٰا اس ووٹ کے سلسلے میں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ (اسے امیونٹی کہا جاتا ہے)

تو سونا کیا بڑی بات ہے؟ اور ابھی تو یہ بھی طے نہیں کہ وہ سوئے بھی تھے یا نہیں۔ آج کل ملک میں ماحول کچھ ایسا ہے کہ ذرا احتیاط سے کام لینا ہی بہتر ہے۔

رواں ہفتے سپریم کورٹ نے راہل گاندھی سے کہا ہے کہ وہ یا تو یہ ثابت کریں کہ مہاتما گاندھی کے قتل میں ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کا ہاتھ تھا یا اپنے اس الزام پر تنظیم سے معافی مانگیں۔

بہرحال، سونا بھلے ہی جرم نہ ہو، لیکن موقع محل بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ ویسے تو شاید کوئی نوٹس نہ کرتا لیکن جب راہل نے آنکھیں بند کیں تو لوک سبھا میں دلتوں یا نام نہاد نچلی ذاتوں کے خلاف گجرات میں مبینہ زیادتیوں کے مسئلے پر بحث ہو رہی تھی۔

انڈیا کی کئی بڑی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں اور ہر پارٹی دلتوں کی حمایت حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہے۔ دلت جس طرف جھکیں گے، اس پارٹی کی مشکلیں آسان ہو جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آپ کچھ بھی کریں اس کے لیے آپ کے خلاف کسی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا

اس لیے اب راہل کو اس الزام کا بھی سامنا ہے کہ دلتوں کے مسائل میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں۔ لیکن کہتے ہیں کہ جب جاگو تبھی سویرا۔

راہل آج گجرات میں اس دلت خاندان سےملنے پہنچے جس کے ساتھ کچھ نوجوانوں نے مار پیٹ کی تھی اور جس کے بعد سے پوری ریاست میں دلت بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔

بہر حال، راہل گاندھی کو فائدہ یہ ہے کہ انھیں خود اپنا دفاع نہیں کرنا پڑتا۔

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اور کانگریس کے ترجمان ابھی شیک منوسنگھوی کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف اپنا موبائل فون چیک کر رہے تھے، اور ان کے مطابق موبائل چیک کرنا بھی کوئی جرم نہیں۔

بی جے پی نے کہا کہ راہل کے’سونے‘ سے کانگریس کا ’دہرا چہرہ‘ بے نقاب ہوگیا ہے!

پارٹی کے ایک لیڈر شری کانت شرما نے کہا کہ ’ہماری معلومات کے مطابق ان کی راتیں لمبی ہوتی ہیں، اس لیے وہ پارلیمنٹ میں آرام کرتے ہیں۔‘

کانگریس کی سابق وفاقی وزیر رینوکا چودھری نے کہا کہ ’باہر سورج بہت تیز ہے، جب ہم ایوان میں داخل ہوتے ہیں تو آنکھوں کو نم کرنے کے لیے کچھ دیر کے لیے بند کر لیتے ہیں، اور آپ بولتے ہیں وہ سو رہے ہیں۔۔ وہاں اتنا ہنگامہ ہو رہا تھا، اتنے شور شرابے میں کون سو سکتا ہے!‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جن لوگوں نے پارلیمنٹ کی ائیر کنڈشننگ کا اثر دیکھا ہے وہ صرف راہل نہیں دیگر بہت سے مصروف سیاستدانوں کی مشکل کو سمجھ سکتے ہیں

کانگریس کی ہمدرد مانی جانے والی تحسین پوناوالا نے کہا کہ ’کسی کی بات سننے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ آنکھیں بند کر لیں، سانس لیں اور سنیں، میں خود وپاسنا (میڈیٹیشن) کرتی ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ راہل گاندھی سو نہیں رہے تھے۔‘

ٹوئٹر پر راہل کو اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک شخص رمیش شریوتس نے ٹوئٹر پر لکھا:

مارٹن لوتھر کنگ: میں نے ایک خواب دیکھا ہے

راہل گاندھی: میں نے بھی

جواب میں کسی نے لکھا ہے کہ جو لوگ راہل گاندھی کے سونے پر تنقید کر رہے ہیں، وہ ٹی وی پر بھی دس منٹ پارلیمنٹ کی کارروائی برداشت نہیں کر پاتے!

اور یہ سب کچھ دیر کے لیے صرف آنکھیں موندنے پر، یہ اب بھی واضح نہیں کہ آنکھ لگی بھی تھی یا نہیں!

اسی بارے میں