لاجواب پکوان جسے ائیر پورٹ پر بھی نہیں روکا جاتا

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ریاست کا دارالحکومت پٹنہ کبھی برِ صغیر میں ثقافت کا مرکز ہوا کرتا تھا

لِٹّی جو لذت سے بھرپور بم ہیں اور اس کے ساتھ چوکھا جو بینگن، ٹماٹر، اور آلو کے ساتھ روایتی ذائقوں کا امتزاج ہے انڈیا کے سٹریٹ فوڈ میں میری پسندیدہ خوراک ہے۔

یہ انڈیا کی ریاست بہار کا پکوان ہے۔ بہاریوں کو لِٹّی چوکھا انتہائی پسند ہے۔

میں پہلی بار جب بہار کے دارالحکومت پٹنہ گیا تو میرے دفتر کے کئی لوگ مجھ سے التجا کر رہے تھے واپسی پر یہ ساتھ لیتا آؤں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں پوری کوشش کروں گا لیکن خبردار بھی کیا کہ شاید مجھے ہوائی اڈے پر سکیورٹی چیک کے دوران کھانے کی چیزیں نہ لانے دی جائیں۔

واپسی میں دو بیگز میں سامان بھر کر آیا۔ پٹنا کے ہوائی اڈے پر سکیورٹی افسروں نے مشکوک اندز میں میرا سامان سونگھا لیکن جب میں نے انھیں بتایا کہ اندر کیا ہے اور کیوں ہے تو وہ مسکرائے اور مجھے بلا روک ٹوک جانے دیا۔

صاف ظاہر تھا کہ انھوں نے جان لیا تھا کہ بھوکے شائقین کے لیے ریاست کی سب سے پسندیدہ خوراک لے جانا کسی بھی اصول یا ضابطے سے زیادہ اہم تھا۔

لِٹّی بھنی ہوئی چنے کی دال کے مصالحے دار ستو سے بھری کچوریاں ہوتی ہیں۔انھیں چوکھا، رائتے اور اچار کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

میرا خیال ہے آپ کے منہ میں پانی آ رہا ہے۔

جہاں جہاں بہاری جاتے ہیں وہاں لِٹّی ملتی ہے۔ چونکہ اس وقت لگ بھگ سارے انڈیا میں بہاری موجود ہیں اس لیے آپ کو کہیں بھی لِٹّی کھانے کو مل جائےگی۔

بیشتر دھان پان نظر آنے والے بہاریوں کی ایک اور وجہ شہرت ہجرت بھی ہے۔

Image caption لِٹّی بھنی ہوئی چنے کی دال کے مصالحے دار ستو سے بھری کچوریاں ہوتی ہیں۔انھیں چوکھا، رائتے اور اچار کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے

ریاست کا دارالحکومت کبھی برِصغیر میں ثقافت کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ سنہ 302 قبل مسیح میں جب یونان کے سفیر مگاستنس نے یہاں کا دورہ کیا تو اس وقت پٹنا پتلی پترا کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

یہ شہر گنگا کے کنارے 10 میل تک پھیلا ہوا ہے۔ اس وقت اس شہر کے 64 دروازے، 570 مینار اور متعدد باغات، محلات مندر اور جنگ کے لیے ہاتھیوں کے اصطبل تھے۔

مگاستنس نے لکھا ہے ’میں نے مشرق کے عظیم شہر دیکھے، میں نے فارسی محلات دیکھے لیکن یہ دنیا کا عظیم ترین شہر ہے۔‘

لیکن آج پٹنہ آنے والا کوئی شخص یہ نہیں کہے گا۔

بدھا نے بہار سے شہرت پائی، اس ریاست میں دنیا کی پہلی سکونتی یونیورسٹی بنی، اور یہاں سے ہی طاقت حاصل کر کے اشوکا نے حکومت بنائی۔

لیکن اس شہر کی قدیم خوبصورتی برقرار نہیں رہی۔سچ کہیں تو بے ڈھنگے انداز میں پھیلتے اس شہر میں غربت کا راج ہے۔

یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ بہار میں 10 کروڑ سے زیادہ آبادی ہے جو کسی بھی مغربی ملک کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے اور یہ انڈیا کی غریب ترین ریاستوں میں سے ایک ہے۔

سنہ 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق یہاں فی کس آمدنی 682 ڈالر ہے۔

گذشتہ برس میں یونیسف اور انڈین حکومت کے ایک مشترکہ ہیلتھ سروے کی نقل حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ گو کہ اس رپورٹ کو اکتوبر سنہ 2014 میں جاری کیا جانا تھا لیکن انڈین حکومت نے اسے راز رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اس رپورٹ کے اوراق پلٹتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ ایسا کیوں کیا گیا۔ آپ کو یہاں آ کر پتا چلے گا کہ بہاری کام کے لیے دوسرے علاقوں میں کیوں جاتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 اور سنہ 2014 کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے نصف بچے نشو و نما کی کمی کا شکار تھے جبکہ ان میں سے ایک تہائی کا وزن ان کی عمر کے لحاظ سے کم تھا۔ اور تین چوتھائی لوگ کھلے عام رفع حاجت کرتے ہیں۔

لیکن اب اچھی خبر ہے۔ چند برس قبل یہاں کی ریاستی حکومت نے معاشی خوشحالی کو اپنی ترجیح بنایا اور نسلی تفاوت، جرائم اور بد عنوانی کا دوسرا نام کہلانے والی بہار کی ریاست کی معاشی ترقی کا ہندسہ دو عددی ہو گیا۔

یہ بہار کے لوگوں کے لیے تو اچھا ہے لیکن میری طرح لِٹّی کے چاہنے والوں کے لیے نہیں۔کیونکہ اس کے نتیجے میں بہاریوں کی نقل مکانی میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے۔

اب خدشہ یہ ہے کہ انڈیا میں جگہ جگہ لِٹّی چوکھا کے سٹالز بھی واپس گھر کو لوٹ جائیں گے جہاں اس کی لذّت کا اصلی مزہ ملتا تھا۔ ایسا ہونے پر اس لاجواب سٹریٹ فوڈ کا ملنا مشکل ہو جائے گا۔

اسی بارے میں