’پاکستان کا خواب قیامت تک پورا نہیں ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption دیکھنے میں یہ آيا ہے کہ بھارتی حکومت نے حالیہ دنوں میں پاکستان کے ساتھ سخت رویہ اپنالیا ہے

انڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ خواب قیامت تک پورا ہونے والا نہیں کہ کشمیر اس کا حصہ بن جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’اس کا یہ خواب قیامت تک پورا ہونے والا نہیں ہے۔‘

سشما سوراج کا یہ بیان پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے کشمیر پر ایک حالیہ بیان کے بعد آیا ہے۔

٭ میں جتنا پاکستانی ہوں اتنا کشمیری ہوں: نواز شریف

* کشمیر میں’ریاستی تشدد`‘ پر پاکستان کی مذمت

٭’کشمیر میں انڈیا کی پالیسیاں امن کی راہ میں رکاوٹ‘

جمعرات کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کی کامیابی کے بعد ایک ریلی میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ

’ہم مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں پر ہونے والے مظالم کو نہیں بھلا سکتے دکھ کی اس گھڑی میں ہم ان کے ساتھ ہیں ۔اب کشمریوں کی آزادی کی تحریک کو کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ وقت دور نہیں جب کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہو گا اور وہ پاکستان کا حصہ ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر میں بدستور حالات کشیدہ ہیں جہاں تقریبا پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہسپتال میں ہیں۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ نے کہا: ’پاکستان حافظ سعید اور دیگر شدت پسندوں کے ذریعے ایک ایسے علاقے میں شدت پسندی کو انجام دے رہا ہے جو بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’پاکستان کشمیر میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔ اس نے وہاں انتہا پسندی کا درد دیا ہے۔ پاکستان کے منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ 8 جولائی کو ایک مقامی عسکریت پسند نوجوان کمانڈر برہان وانی کو ہلاک کر دیا گيا جس کے بعد سے کشمیر میں کشیدگی کا ماحول ہے۔

سشما سوراج نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے برہان وانی کو ایک’شہید‘ قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PML N

انہوں نے سوال کیا: ’ کیا وہ نہیں جانتے کہ برہان وانی حزب المجاہدین کا ایک کمانڈر تھا۔‘

کشمیر کی تازہ صورت حال کے تعلق سے انڈين حکومت پہلے بھی پاکستان پر بھارت کو غیر مستحکم کرنے اور یہاں دہشت گردی پھیلانے کا الزام لگا چکی ہے۔

لیکن کشمیر کے بیشتر علاقوں میں گذشتہ 15 روز سے کرفیو جاری ہے اور لوگوں کو فون، انٹرنیٹ اور دیگر بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔

اس وقت بھارتی وزیر داخلہ کشمیر کے دورے پر ہیں لیکن بیشتر مقامی تنظیموں، انجمنوں اور بعض سیاسی جماعتوں نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اسی بارے میں