دنیا کے غمزدہ ترین قطبی ریچھ کے لیے مہم

Image caption تنظیم کا کہنا ہے کہ پیزا بڑے تنگ حالات میں رہتا ہے جہاں اسے قدرتی ماحول بالکل بھی فراہم نہیں کیا گیا

جانوروں کی فلاح کے علمبردار چند کارکن اس قطبی ریچھ کو آزاد کرانے کی کوشش میں ہیں جو نمائش کے لیے چین کے ایک شاپنگ سینٹر میں رکھا گيا ہے۔

اس ریچھ کو پیزا کے نام سے پکارا جاتا ہے اور ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے اسے دنیا کا سب سے غمزدہ قطبی ریچھ کہا جانے لگا ہے۔

ویڈیو میں بھالو اپنے احاطے میں جس بے بسی کے انداز سے گر کر لیٹ جاتا ہے۔

یہ قطبی ریچھ گوانگہو میں واقع گرانڈ ویو سینٹر کے ’اوسین تھیم پارک‘ میں بند ہے اور اس کی آزادی کے لیے تقریباً چار لاکھ افراد نے ایک درخواست پر دستخط بھی کیے ہیں۔

اوسین تھیم پارک میں وہیل، لومڑی جیسے کئی دیگر سمندری جانور بھی ہیں۔

لیکن اس ریچھ کو وہاں سے نکالنے کے لیے ایک تنظیم ’اینیمل ایشیا‘ نے مہم شروع کی تھی۔

اس ادارہ نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں پیزا کو اس وقت روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب سیاح فوٹو لینا بند کر دیتے ہیں۔

Image caption یہ قطبی ریچھ گوانگہو میں واقع گرانڈ ویو سینٹر کے ’اوسین تھیم پارک‘ میں ہے

تنظیم کا کہنا ہے کہ تھیم پارک کے مالکان نے قطبی ریچھ کے رہنے کے لیے جو جگہ تیار کی ہے اس میں وہ ماحول بنانے کی کوئي کوشش نہیں کی جس کی ایک زندہ ریچھ کو رہنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔

یہ پارک گذشتہ جنوری میں کھولا گيا تھا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ پیزا بڑے تنگ حالات میں رہتا ہے جہاں اسے قدرتی ماحول بالکل بھی فراہم نہیں کیا گیا۔

لیکن مالکان کا کہنا ہے کہ اس جانب توجہ دلانے کے بعد انھوں نے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے اینیمل ایشیا نامی تنظیم سے جانوروں کی زندگي گزارنے سے متعلق تجاویز بھی مانگي ہیں۔

لیکن اینیمل ویلفیئر کے ڈائریکٹر دوے نیل کا کہنا ہے کہ ان کا سٹاف اس بات سے ہی ناواقف ہے کہ ایک قطبی ریچھ کو کیسے رکھا جانا چاہیے۔

جانوروں سے متعلق فلاحی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے جانوروں کو مال یا شاپنگ سینٹر میں رکھنا ہی بذات خود ایک ظالمانہ فعل ہے۔

اسی بارے میں