کیا سچن اور لتا ’بھارت رتن‘ کے حقدار ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرکٹ کھلاڑیوں اور فلمی ستاروں کو پارلیمان کی رکنیت ملنے سے بھی ایسا ہی ہوتا ہے

’بھارت رتن‘ انڈیا کا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے اور میرا خیال ہے کہ اسے صرف باصلاحیت اور مشہور ہونے کی وجہ سے کرکٹ کھلاڑی اور فلمی دنیا کے لوگوں کو دینا ایک غلطی ہے۔

ایسا کرنے سے اس اعزاز کی عزت کم ہوتی ہے اور اس کے غلط استعمال ہونے کے امکانات بھی رہتے ہیں۔

میں تو یہ بھی کہوں گا کہ کرکٹ کھلاڑیوں اور فلمی ستاروں کو پارلیمان کی رکنیت ملنے سے بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

میں اس سلسلے میں یہاں دو ناموں کا ذکر کروں گا۔ پہلا نام ہے سچن تندولکر کا اور دوسرا گلوکارہ لتا منگیشکر کا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سچن ان دنوں اپنے پرانے بزنس پارٹنر کو وزیر دفاع سے ملوانے کے تعلق سے شہ سرخیوں میں ہیں۔ انہوں نے ڈیفینس ایریا کے نزدیک کسی کاروباری تعمیر کے سلسلے میں اپنے دوست کو وزیر دفاع سے ملوایا تھا

ان دونوں میں سے کوئی بھی بھارت رتن کا حقدار نہیں تھا اور دونوں نے ہی اپنی مقبولیت کا غلط فائدہ اٹھایا ہے۔

سچن ان دنوں اپنے پرانے بزنس پارٹنر کو وزیر دفاع سے ملوانے کے تعلق سے شہ سرخیوں میں ہیں۔

انھوں نے دفاعی علاقے کے نزدیک کسی کاروباری مرکز کی تعمیر کے سلسلے میں اپنے دوست کو وزیر دفاع سے ملوایا تھا۔

جب اس ملاقات کی خبر باہر آئی تو سچن نے ایک بیان جاری کیا کہ اس معاملے میں ان کا کوئی بھی کاروباری مفاد نہیں ہے۔

شاید نہ بھی ہو لیکن بھارت رتن پانے والی کسی ہستی کا کسی وزیر کے سامنے کاروباری مقصد سے جانا کیا درست ہے؟

سچن کو راجیہ سبھا میں ایک رکن کی حیثیت سے اپنا پہلا سوال پوچھنے میں تین سال کا وقت لگ گیا تھا۔ میں ایسے لوگوں کو بھارت رتن دیے جانے کے حق میں نہیں ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rakhee
Image caption بھارت رتن ملنے کے بعد بھی سچن بي ایم ڈبلیو جیسے برانڈ کے لیے اشتہار کرنا جاری رکھے ہوئے تھے

بھارت رتن ملنے کے بعد بھی سچن بي ایم ڈبلیو جیسے برانڈ کے لیے اشتہار جاری رکھے ہوئے تھے۔ کیا یہ ایک عوامی زندگی جینے والے شخصیت کے لیے صحیح ہے، خاص طور پر سچن جیسے امیر پروفائل کے لیے؟

یہ واقعی میں ایک شرمناک اور احترام کو ٹھیس پہنچانے والی بات ہے۔

جب ہم ایسے لوگوں کو بھارت رتن دیتے ہیں تو ہم ان کی صلاحیتوں کا تو احترام کر رہے ہوتے ہیں لیکن ہم ان سماجی خدمات کو نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں جو کہ کسی بھی شہری اعزاز کا اصل مقصد ہے۔

سچن نے پہلے بھی اپنے رسوخ کا غلط استعمال کیا ہے۔ ایک بار جب انہیں تحفے میں فیراری کار ملی تھی تو انھوں نے حکومت سے درآمد پر ٹیکس کی رعایت کے لیے کہا تھا۔

آخرکار عدالت نے انھیں ٹیکس دینے پر مجبور کیا تھا۔ جب انھوں نے باندرا میں کوٹھی بنوائی تو حکومت سے کہا کہ انھیں رعایت کے طور پر چھوٹ دی جائے تاکہ وہ منظور شدہ حد سے زیادہ تعمیر کروا سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

انھیں یہ رعایت کیوں ملنی چاہیے؟ ہم میں سے تو کوئی بھی ایسی اجازت نہیں مانگتا ہے۔

اس سال 13 جون کو اخبارات میں خبر آئی کہ سچن تندولکر نے بنگال کے ایک سکول کو 76 لاکھ روپے بطور عطیہ دیے ہیں۔ اس خبر نے میری دلچسپی میں اضافہ کر دیا کیونکہ ان کا یہ قدم ان کے پہلے کے رویے کے برعکس تھا۔

جب اس کے بارے میں گہرائی سے پتہ کیا گيا تو پتہ چلا کہ سچن نے جو پیسے دیے ہیں وہ ان کے نہیں تھے۔ یہ پیسے راجیہ سبھا کے فنڈ کے تھے اور سرکاری پیسہ دے کر وہ کسی پر احسان نہیں کر رہے ہیں۔

سچن کوئی باکسر محمد علی جیسے نہیں ہیں جنھیں ان کے ظلم اور نسل پرستی کے خلاف مسلسل جدوجہد کرنے کے لیے شہری اعزاز حاصل ہوا تھا۔

محمد علی اپنے نظریات کی وجہ سے جیل جانے کو تیار رہتے تھے۔ کبھی کسی نے سنا ہے کہ سچن نے مشکل حالات میں کسی اہم معاملے پر کوئی بھی بامعنی بات کہی ہو؟ نہیں۔ ان کا زیادہ تر وقت تو سامان فروخت کرنے میں مصروف رہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لتا منگیشکر کو 2001 میں بھارت رتن دیا گیا تھا۔ کچھ سالوں کے بعد انہوں نے کہا کہ اگر ممبئی میں ان کے گھر کے پاس روڈ پر فلائی اوور بنتا ہے تو وہ دبئی چلی جائیں گی

لتا منگیشکر کو 2001 میں بھارت رتن دیا گیا تھا۔ کچھ سالوں کے بعد انھوں نے کہا کہ اگر ممبئی میں ان کے گھر کے پاس روڈ پر فلائی اوور بنتا ہے تو وہ دبئی چلی جائیں گی۔

وہ اور ان کی بہن آشا بھوسلے نے فلائی اوور کی تعمیر کی اتنی مخالفت کی کہ یہ فلائی اوور اب تک نہیں بن پایا ہے۔

اپریل 2012 میں آئی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ لتا منگیشکر کا پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں موجود رہنے کے معاملے میں سب سے خراب ریکارڈ رہا ہے۔ یہ سچن تندولکر اور لتا منگیشکر کی غفلت کو ظاہر کرتا ہے اور میں کہتا ہوں کہ یہ ملک کی توہین ہے۔

کیا بھارت رتن کے اعزاز سرفراز شخصیات سے اس طرح کے رویے کی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات اور خود غرضی کو دوسروں کے مفادات سے اوپر رکھیں؟

Image caption اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا کہ ایسے لوگوں کو ان کی صلاحیت کی وجہ سے نہ کہ ان کی سماجی خدمات کی وجہ سے اس طرح کے اعزاز سے نوازا گیا ہے

اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا کہ ایسے لوگوں کو ان کی صلاحیت کی وجہ سے نہ کہ ان کی سماجی خدمات کی وجہ سے اس طرح کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

ان لوگوں نے خود کو کافی امیر بنایا ہے۔ یہ ٹھیک اور صحیح بھی ہے۔ ان لوگوں نے خوب پیسہ اور مقبولیت حاصل کی ہے۔ وہ عوامی زندگی میں مناسب برتاؤ سے ہمارا احترام بھی کما سکتے تھے لیکن وہ اس سے لاپرواہ رہے۔

حکومتیں اکثر مقبولیت سے متاثر ہوتی ہیں اور ایسے لوگوں کو عزت دے کر خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں۔ (اکثر ایسے لوگوں کے لیے بڑے پیمانے پر لابنگ ہوتی ہے۔)

یہ بند ہونا چاہیے۔ ہمیں لوگوں کی صلاحیت اور ان کی خدمات کو الگ الگ کر کے دیکھنا چاہیے۔ صرف سماجی خدمات انجام دینے والوں کو ہی قومی ایوارڈز سے نوازا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں