کیجریوال بی جے پی کیلیے خطرہ کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نئی دہلی میں جس غیر معمولی حمایت کےساتھ اقتدار میں آئی تھی اس طرح کی مقبولیت ماضی میں انڈیا میں بہت شاذ و نادر ہی سیاسی جماعتوں کو ملی ہے لیکن انڈیا کی تاریخ میں شاید وہ ایسی پہلی منتخب حکومت ہے جسے سیاسی رقابت اور خوف کے سبب پوری طرح مفلوج کر دیا گیا ہو۔

اقتدار میں آنے کے بعد ‏‏عام آدمی پارٹی کے کم از کم دس ارکان اسمبلی کے خلاف خواتین سے دس درازی، دھمکی دینے، فرضی کاغذات جمع کرنے، لڑائی جھگڑے کرنے، بیوی کو زد وکوب کرنے اور اس طرح کے دوسرے معاملات میں درجنوں مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

دہلی حکومت کے بہت سارے قوانین جن سے وہ شہر کے انتظام میں زبردست تبدیلیاں لانا چاہتی ہے مرکزی حکومت کی منظوری کے انتظار میں مہینوں سے پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے دہلی حکومت پوری طرح مفلوج ہے۔

وزیراعلی اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی نہ صرف دہلی کی شکست فاش کا ان سے بدلہ لے رہے ہیں بلکہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں بھی ان سے خوفزدہ ہیں اس لیے وہ انھیں ہر قیمت پر سیاسی طور پر ختم کر دینا چاہتے ہیں۔

‏عام آدمی پارٹی بد عنوانی مخالف ایک تحریک سے وجود میں آئی ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم سے سیاسی جماعت میں تبدیلی کا عمل بہت تیز رہا ہے۔

یہ جماعت ابھی مختلف تجربات سے گزر رہی ہے۔ سیاست کے بہت سے ہنر سیکھنا ابھی باقی ہے۔ دہلی میں کامیابی کے بعد یہ آئندہ چند مہینوں میں پنجاب، گوا اور مودی کی اپنی ریاست گجرات میں انتخاب لڑنے والی ہے۔

بعض ابتدائی جائزوں میں پنجاب میں کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کے امکانات اچھے بتائے جا رہے ہیں۔ مقامی تجزیہ کاروں کے مطابق گوا میں بھی عام آدمی پارٹی کا اثر بڑھ رہا ہے۔ گجرات میں بی جے پی تقربیاً 20 برس سے اقتدار میں ہے اور وہاں واضح طور پر رائے دہندگان کا رحجان حکمراں جماعت کے خلاف ہے۔

ان ریاستوں کے ساتھ ساتھ ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی نے یہاں فتح حاصل کرنے کے لیے جنگی پیمانے پر تیاری کی ہے لیکن وزیر اعظمم نریندر مودی کی نطر پنجاب پر مرکوز ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

بی جے پی اور آر ایس ایس کو پتہ ہے کہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی جیت بھارت کی سیاسی تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔ بی جے پی ایک ہندوئیت مائل دائیں بازو کی جماعت ہے جب کہ عام آدمی پارٹی ایک غیر مذہبی دائیں بازو کی جماعت ہے۔ بی جے پی کے لیے وہ خود بی جے پی کی ہی طرزکا چیلنج ہے۔

اگر کیجریوال کی جماعت پنجاب میں فتحیاب ہوتی ہے تو وہ پہلی بار ایک مکمل ریاست کے اقتدار پر قابض ہو گی اور مودی کی مرکزی حکومت اسے دہلی کی طرح مفلوج نہيں کر سکے گی۔ ساتھ ہی ایک سیاسی جماعت کے طور پر ملک میں اپنا وجود قائم کر چکی ہو گی۔

کانگریس پارٹی ملک گیر سطح پر کمزور پڑ چکی ہے۔ کوئی موثر رہمنا نہ ہونے کےسبب یہ پارٹی رفتہ رفتہ انتشار کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اگر وہ ان انتخابات میں یو پی اور گجرات میں موثر مقام نہ حاصل کر سکی تو پارٹی کے بہت سے رہنماؤں کے لیے ‏عام آدمی پارٹی ایک متبادل بن سکتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کی نظر سنہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات پر ہے ۔ کانگریس سے انھیں فی الفور کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن پنجاب میں عام آدمی پارٹی کا جیتنا مودی کے منصوبے کو برباد کر سکتا ہے۔

عام آدمی پارٹی نے گذشتہ ڈھائی برس میں کانگریس اور بالخصوص بی جے پی کے لیے جتنی مشکلیں پیدا کی ہیں شاید ہی ماضی میں کسی نے کی ہوں۔

کیجریوال بی جے پی کے مستقبل کے لیے ہی نہیں آر ایس ایس کی نطریاتی اساس کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس سے زیادہ اس صورتحال کو کوئی نہیں سمجھتا۔

پنجاب میں کیجریوال کی شکست بی جے کے بہتر مستقبل کے لیے ناگزیر ہے اسی لیے مودی کی حکوت نے دہلی میں کیجریوال کی منتخب حکومت کو ضابطے کےنام پر پوری طرح مفلوج کر رکھا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس پنجاب الیکشن دہلی میں جیتنا چاہتی ہیں۔

اسی بارے میں