پورن سٹار کی آمد پر ایرانی حیران و پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ instagram
Image caption پورن سٹار نے ایران میں کی جانے والی پلاسٹک سرجری کے معیار کی تعریف کی ہے

ایران میں بہت سارے لوگ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک معروف برطانوی پورن سٹار کو ناک کی کاسمیٹک سرجری کے لیے ملک‌ میں آنے کی اجازت کیسے دے دی گئی۔

کینڈی چامز نامی پورن سٹار کی ایران آمد کے بارے میں لوگوں کو اس وقت پتا چلا جب وہ یہاں سے واپس چلی گئیں اور انھوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی تصویر جاری کی۔

اس تصویر میں انھیں ایک سیاہ سکارف میں دیکھا جا سکتا ہے جو ایران میں خواتین کے لباس سے مطابقت رکھتا ہے۔

انھوں نے لکھا: ’میں نے صرف قریبی دوستوں اور خاندان کو بتایا تھا، ٹوئٹر پر پابندی عائد تھی اس لیے رابطہ کرنا مشکل تھا۔‘ انھوں نے اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ ایرانی دارالحکومت تہران کے لوگ ’بہت رحم دل‘ اور ’فیاض‘ ہیں۔

انسٹاگرام میں یہ تصویر ہٹائے جانے سے پہلے اس کو بہت سارے لوگوں نے پسند کیا اور اپنے ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ کینڈی نے ہیکنگ کی کوششوں کے ڈر سے اپنا اکاؤنٹ بند کر دیا تاہم انھوں نے اسے دوبارہ استعمال کرنے کی امید کا بھی اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بہت سارے لوگ اس بات پر حیران تھا کہ وہ ایران کا ویزا کیسے حاصل کر سکیں۔

ایک ایرانی وزیر کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایک ٹویول ایجنسی کے ذریعے ایک مختلف نام کے ساتھ ویزا درخواست کیا تھا اور اپنی شناخت ایک بیوٹیشن کے طور پر کروائی تھی۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ حسن قشقاوی کے مطابق مختصرا یہ اسلامی جمہوریہ کی اعلیٰ اقدار ہیں کہ حکام کو پورن سٹار کے بارے میں معلوم ہی نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب ایک امریکی برطانوی نے ٹویول کمپنی کے ذریعے ویزا کی درخواست دی (اور ملک میں داخل ہوئیں)، کچھ نے پوچھا انھوں (ایجنٹس) نے انھیں پہچانا کیوں نہیں۔ لیکن ہمارے ساتھی اس قسم کی خواتین کو کیسے پہچان سکتے؟‘

یہ کہانی فارسی کی چیٹ ایپلی کیشن ٹیلی گرام پر بھی خاصی مشہور ہوئی۔

ایک صارف نے لکھا: ’وہ ایک پورن سٹار ہے، امریکی ہے اور ایک خاتون بھی، جو تہران ناک کی سرجری کے لیے آئی۔ اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ایران میں آزادی نہیں ہے۔‘

تاہم بیشتر صارفین کی جانب سے اس حوالے سے برہمی کا اظہار کیا گیا کہ ایسے کسی شخص کو ایران آنے کی اجازت کیوں دی گئی۔

ایرانی ایسوسی ایشن آف کاسمیٹک اینڈ پلاسٹک سرجنز کے مطابق ہر سال ملک میں تقریباً 40 ہزار کاسمیٹک سرجریاں کی جاتی ہیں، اور اس کا شمار دنیا بھر میں دس سرفہرست پلاسٹک سرجری کرنے والے ممالک ہوتا ہے۔

پورن سٹار نے بھی ایران میں کی جانے والی پلاسٹک سرجری کے معیار کی تعریف کی ہے۔

انھوں نے قائرو سین میگزین کو انٹرویو میں بتایا: ’ماڈلز کا سرجری کے لیے ایران جانا عام سی بات ہے، خاص طور پر چہرے کی، کیونکہ وہ بہترین کرتے ہیں۔‘

تاہم سوشل میڈیا پر اس ڈاکٹر کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے جنھوں نے ان کی سرجری کی۔

تاہم کچھ لوگ اس کو مزاح کے طور پر بھی لے رہے ہیں، دوم امام نامی ایک شخص نے ٹویٹ کیا: ’پورن سٹارز کا ایران میں آنا ایران اور مغرب کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔‘

کینڈی چارمز کا کہنا ہے وہ دوبارہ ایران جانا پسند کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے لوگوں سے پیار کیا اور یہ شرم کی بات ہے کہ اس کا اتنا منفی اثر ہوا کہ میں دوبارہ واپس جانا چاہوں گی۔‘

اسی بارے میں