ہند نواز سیاستدان اور بدلتی وفاداریاں

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں 52 سالہ ہند نواز سیاسی رہنما افتخار مسگر انڈیا مخالف احتجاجی ریلی میں اچانک نمودار ہوگئے۔

انھوں نےگذشتہ روز آزادی کے حق اور کشمیر پر انڈیا کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔

٭ کشمیر میں ’آزادی مارچ‘ کی اپیل، کرفیو نافذ

٭ کشمیر میں ہلاکتوں کے خلاف پاکستان میں یومِ سیاہ

٭ کشمیر میں موبائل فون سروس کی جزوی بحالی

انھوں نے کہا ’میں نے اپنی سکیورٹی واپس کردی ہے۔ میری حفاظت میرے لوگ کریں گے۔‘

اس کے بعد عوامی اتحاد پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو کشمیری سیاسی کارکنوں نے بھی ہند نواز سیاست کو خیر باد کہتے ہوئے احتجاجی تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔

خیال رہے کہ حریت کانفرنس کے رہنماوں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے گذشتہ ہفتے ایک مشترکہ بیان میں ہند نواز اراکین اسمبلی اور دوسرے حلقوں سے ’اقتدار کی عیاشی کو ترک کر کے اپنے لوگوں میں واپس آنے کی اپیل کی تھی۔‘

سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ کشمیری سیاستدان جب بھارتی اقتدار کا حصہ بن جاتے ہیں تو وہ کشمیر میں جاری حق خودارادیت کی تحریک کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔

مصنف اور محقق جنید نبی بزاز کہتے ہیں ’چاہے ہند نواز کچھ بھی کہیں لیکن عوامی حلقے انھیں نئی دہلی کا ایجنٹ ہی سمجھتے ہیں۔‘

صحافی جنید کاٹجو کہتے ہیں ’26 روز سے جاری ہلاکتوں اور زیادتیوں کے دوران ہند نواز رہنماؤں نے متاثرہ کنبے سے تعزیت کرنے کی جرات نہیں کی اور نہ ہی کوئی سیاسی رہنما اب تک ہسپتالوں میں موجود سینکڑوں زخمیوں کی مزاج پرسی کے لیے جا سکا ہے۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ آٹھ جولائی کو جنوبی کشمیر کے کوکر علاقے میں پولیس نے ایک آپریشن کے دوران مقبول مسلح کمانڈر برہان وانی کو دو ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا تھا۔

اس کے ردعمل میں کشمیر کے طول و عرض میں ہند مخالف احتجاجی تحریک شروع ہوئی جسے دبانے کے لیے سرکاری افواج نے فائرنگ، آنسوگیس اور چھروں کا استعمال کیا۔

سرکاری کارروائی میں اب تک 50 سے زائد افراد ہلاک اور 2,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں 200 نوجوان اور بچے ایسے ہیں جن کی آنکھوں میں چھرے لگنے سے وہ بینائی سے محروم ہوگئے ہیں۔

احتجاجی تحریک کے دوران مظاہرین نے حکمران پی ڈی پی کے سینیئر رہنماوں محمد خلیل بند اور نعیم اختر کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔

نعیم اختر محبوبہ مفتی کی حکومت میں وزیرِ تعلیم ہونے کے علاوہ بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت کے ترجمان بھی ہیں۔ انھیں وزیرِ اعلی محبوبہ مفتی کا دست راست سمجھا جاتا ہے۔

مظاہرین نے پیر کی شام سرینگر میں واقع ان کی رہائش گاہ پر پیٹرول بموں سے حملہ کیا۔

دلچسپ بات ہے کہ گذشتہ 14 سالوں کے دوران کشمیر میں بھارتی پارلیمان اور مقامی اسمبلی کے لیے چھہ مرتبہ انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے بائیکاٹ کی اپیل کے باوجود لوگوں نے بھاری تعداد میں ووٹ ڈالے لیکن اس بار حالت یہ ہے کہ ہند نواز سیاست دان سخت سیکورٹی کے باوجود خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔

صحافی اور تجزیہ نگار خورشید وانی کہتے ہیں ’ہند نواز حلقہ گذشتہ 20 سالوں سے لوگوں کی ہمدردیاں بٹورنے کے لیے نت نئے سیاسی تجربات کرتا رہا لیکن انڈیا کی حکومت نے ہند نوازوں کے درمیانی راستہ کو کوئی اہمیت نہیں دی۔‘

خورشید وانی کا کہنا ہے ’نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے بھارتی آئین کے تحت خود حکمرانی کا نعرہ بلند کیا اور لوگوں سے کہا کہ وہ نئی دہلی والوں سے یہ مطالبہ منوائیں گے لیکن انڈین حکومت نے یہ مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے الٹا کشمیر کی سیاسی، آئینی اور مذہبی شناخت کو کمزور کرنے کے اقدامات میں ان ہی پارٹیوں کو استعمال کیا۔ لوگ اب اس درمیانی راستہ کو سمجھ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہند نواز سیاست کو اب عوامی غیض و غضب کا سامنا ہے۔‘

انجنئیر رشید کشمیر کی 87 رکنی قانون ساز اسمبلی کے منتخب رکن ہیں۔ وہ اسمبلی میں شمالی کشمیر کے کپوارہ میں ایک دُور افتادہ علاقہ لنگیٹ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ باقی اراکین کے برعکس انجنیئر رشید کا لہجہ علیحدگی پسندانہ ہے۔ وہ ایوان میں برملا کہتے ہیں ’انڈیا کو کشمیر میں رائے شماری کرا کے مسلۂ کشمیر کو ختم کرنا چاہیے۔‘

کیا انجنیئر رشید بھی سید علی گیلانی کی کال پر لبیک کہہ کر تحریک میں شامل ہوجائیں گے؟ وہ کہتے ہیں ’میں اسمبلی کو عبادت خانہ سمجھتا ہوں۔ میں نے ثابت کر دیا ہے کہ جو بات حریت کانفرنس اسمبلی کے باہر کہتی ہے میں وہ اسمبلی کے اندر کہتا ہوں۔ پوری دنیا جمہوری طریقوں سے آشنا ہے اور جب مسلہ اس قدر پیچیدہ ہو تو اسمبلی کے راستے کے بغیر کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘

لیکن انجنیئر رشید کے ایک قریبی ساتھی نے بھی جنوبی کشمیر میں عوامی تحریک میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ کشمیر میں لوگ بھارتی انتظامیہ کو دل سے تسلیم نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں کی ہند نواز سیاست پر بھی عوام کی سیاسی خواہشات کا غلبہ ہے۔

اسی بارے میں