’انسان جو اپنے لیے سوچتا ہے وہی سب سے اہم‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انسانی سمگلنگ اور جسم فروشی سے بچ کر نکلی ایک عورت کی کہانی انھی کی زبانی۔

میرا شوہر مجھے ایک کمرے میں لے گیا، جہاں بہت سی لڑکیاں بیٹھی تھیں، اور بولا کہ تم میرے خلاف گھریلو تشدد کا کیس کروگی، تو بیشک میں تمہیں یہاں لے آیا، اب زندگی بھر یہیں رہنا۔

٭ ’اب میں گندی لڑکی ہوگئی تھی‘

’یہ ایک کوٹھا تھا۔ میرے شوہر مجھ سے بدلہ لینے کے لیے مجھے یہاں دھوکے سے لے آیا تھا۔ میں 16 سال کی تھی جب اس سے شادی کر دی گئی، وہ بہت مار پیٹ کرتا تھا۔

میں پڑھی لکھی نہیں تھي پر ہمت کر کے واپس گھر بھاگ آئی اور اس کے خلاف گھریلو تشدد کا مقدمہ دائر کر دیا۔

یہ اسی کا بدلہ تھا۔ بنگال کے ایک گاؤں سے وہ مجھے نشے کی دوا کھلا کر پُونے کے کوٹھے میں لے آیا تھا۔

وہاں مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا تھا۔ روز ہر وقت روتی رہتی، یہی سوچتے ہوئے کہ کب گھر واپس جا سکوں گی۔

اس دوران میرے اندر بہت سارا غصہ اور انصاف پانے کی ضد پیدا ہو گئی۔

پولیس نے جب چھڑایا اور پُونے سے واپس بنگال آئی تو وکیل کے پاس گئی اور کہا کہ شوہر کے خلاف انسانی سمگلنگ کا کیس کرنا ہے۔

انہوں نے بہت سارے پیسے مانگ ڈالے۔ پر میرے پاس کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ کئی بار تو کھانے کے لیے بھی نہیں ہوتا تھا۔

Image caption ایک سماجی تنظیم نے تربیت دی اور دکان شروع کرائی

پھر ایک سماجی تنظیم نے تربیت دی اور دکان شروع کرائی۔

میں راشن کا سامان فروخت لگی۔ خوف کو پیچھے کر، ایک بار پھر لوگوں کا سامنا کرنے کی ہمت ہوئی۔

اسی ادارے کی مدد سے شوہر کے خلاف انسانی اسمگلنگ کا مقدمہ بھی دائر کروایا۔

اپنے خاندان میں پہلی خاتون ہوں جس نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر جب بیان دینے کے لیے ایک بار پھر پُونے جانا پڑا تو پھر مشکلات شروع ہوئیں۔

گاؤں والوں نے طعنے دینے شروع کر دیے۔ وہ کہتے، کہاں جاتی ہو؟ کیا کرتی ہو؟ ایک بار جہاں سے ہو آئی وہاں اب کیوں جاتی ہو؟

خاندان سے کہتے کہ اتنی بڑی لڑکی ہے، ایک بار شادی خراب ہوئی تو کیا، طلاق دلاؤ اور پھر کرا دو، گھر میں رکھنے سے شرم نہیں آتی؟

اور یہ سب سن کر میرا خاندان مجھ سے ہی جھگڑتا ہے۔ بس یہی مجھے سب برا لگتا ہے۔

میں جب اتنی کوشش کر رہی ہوں کہ سب ٹھیک ہو جائے، میری دکان چلے، اس کے بعد خاندان والے بالکل ساتھ نہیں دیتے، کہتے ہیں تم سے ہوتا ہے تو کرو، ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔

تو میں نے اب یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک انسان جو اپنے لیے سوچتا ہے وہی سب سے اہم ہے۔

اگر میں ہی سوچوں کہ میں گندی ہوں تو سب خراب ہو جائے گا۔ پر میں نے سمجھا ہے کہ میں ٹھیک ہوں تو اب ٹھیک لگتا ہے۔

اسی بارے میں