غیرملکی سیاح اب بھی افغانستان جاتے ہیں؟

حال ہی میں طالبان کا افغانستان میں حملہ جس میں کم از کم چھ غیرملکی سیاح زخمی ہوئے، ملک کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا حملہ نہیں ہے۔

تاہم ایک ایسے ملک میں جہاں عام شہریوں کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں، سیاحوں پر حملے نسبتاً شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔

بعض لوگوں کے لیے یہ بات باعثِ حیرت ہو گی کہ افغانستان میں اب بھی سیاح آتے ہیں، اور کئی کمپنیاں اس ملک کے سیاحتی دوروں کی پیشکشیں کرتی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیاحت کے ادارے یو این ڈبلیو ٹی او کو افغان حکومت کی جانب سے سیاحوں کے بارے میں اعداد و شمار فراہم نہیں کیے جاتے، اس لیے یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ وہاں کتنے لوگ سیر و سیاحت کی غرض سے آتے ہیں۔

تاہم افغانستان یو این ڈبلیو ٹی او کو سیاحوں کے اخراجات کی تفصیل ضرور فراہم کرتا ہے۔

ان کے مطابق وہاں سیاحوں کی جانب سے خرچ کردہ رقم میں کمی آئی ہے۔ سنہ 2012 میں یہ رقم 16.8 کروڑ ڈالر تھی جو سنہ 2014 میں کم ہو کر 9.1 کروڑ رہ گئی۔

Image caption بامیان میں بدھ کے مجسمے جنھیں طالبان نے تباہ کر دیا تھا

مقیم جمشیدی کابل میں واقع افغان لاجسٹکس اینڈ ٹورز کے چیف ایگزیکٹیو ہیں، جو ملک کے محفوظ علاقوں میں سیاحوں کے تفریحی دوروں کا اہتمام کرتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2003 میں تین سو سیاحوں نے ان کی خدمات سے استفادہ کیا لیکن یہ تعداد اب کم ہو کر ایک سو فی سال رہ گئی ہے۔

اس کی وجہ افغانستان میں تشدد کے باعث ہونے والی اموات میں اضافہ ہے۔

برٹش فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس (ایف سی او) افغانستان کے اکثر علاقوں میں سفر کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہاں ’دہشت گردی کا سخت خطرہ ہے، اور حملوں کے طریقے بدلتے جا رہے ہیں۔‘

امریکی دفترِ خارجہ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر کہتا ہے کہ افغانستان میں ’اغوا، فوجی کارروائیاں، بارودی سرنگیں، ڈاکہ، سیاسی اور قبائلی دھڑوں کی آپس کی دشمنیاں، جنگجوؤں کے حملے، براہِ راست اور بالواسطہ فائرنگ، اور گھریلو ساخت کے بم حملوں‘ کا خطرہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہرات شہر جسے سکندرِ اعظم نے 330 قبلِ مسیح میں فتح کیا تھا

افغان صحافی بلال سروری کہتے ہیں کہ افغانستان کے بڑے علاقے سیاحوں کے لیے ’نو گو ایریا‘ ہیں۔ بلال اپنے فیس بک پیج ’وہ افغانستان جو آپ کبھی نہیں دیکھتے‘ کی مدد سے سیاحوں کو راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’امریکی دفترِ خارجہ، ایف سی او، سبھی کہتے ہیں کہ محفوظ نہیں ہے۔ یہ سری لنکا یا مالدیپ نہ سہی، لیکن لیبیا یا شام بھی نہیں ہے۔ افغانستان میں ایسی جگہیں ہیں جو سیاحوں کے لیے بالکل محفوظ ہیں۔ اگر آپ جہاز کے ذریعے کابل آئیں اور پھر جہاز ہی سے بامیان یا ہرات چلے جائیں تو یہ محفوظ طریقہ ہے۔‘

اگر آپ افغانستان آنا چاہتے ہیں تو بلال آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ آپ سڑک کی بجائے ہوائی سفر کو ترجیح دیں۔

ملک کے مغربی علاقے میں غور اور ہرات کے درمیان ایسے سیاحوں پر بھی حملے ہوئے ہیں جو سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں سفر کر رہے تھے۔

ہرات خود نسبتاً محفوظ ہے، لیکن بلال اس بات پر حیرت ہے کہ سیاح اب بھی وہاں سڑک کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بامیان کی ایک جھیل

بی بی سی کی چیف انٹرنیشنل نامہ نگار لیس ڈوسٹ 1988 سے افغانستان آ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’افغانستان میں ایسے علاقے بھی ہیں جو طالبان کے اثر سے محفوظ رہے ہیں۔ وہاں آپ افغانوں کی مہمان نوازی، مہربانی اور نرم دلی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ دلکش نظارے دیکھیں اور اچھے ہوٹلوں میں ٹھہریں۔‘

لیس کہتی ہیں کہ خطرہ کسی ایک جگہ نہیں بلکہ جگہوں کے درمیان سفر میں ہے۔

ہرات میں حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب یہ تاریخی شہر زیادہ سیاحوں کو لبھانے کے لیے کوشاں ہے۔

لیس کہتی ہیں: ’تجارت اور سیاحت کے معاملے میں یہ ملک دنیا سے کٹا ہوا ہے۔ جو افغان بہتر مستقبل دیکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ بات بہت حوصلہ شکن ہے، کیونکہ ہر بار وہ ایک قدم آگے جانا چاہتے ہیں اور انھیں ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔‘

اسی بارے میں