مغل بادشاہوں کا گوشت سے اجتناب

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مغل بادشاہ اورنگزیب نے حکومت کی عنان سنبھالنے کے بعد گوشت سے بہت حد تک پرہیز کر لیا تھا

یہ ایک عام عقیدہ ہے کہ مغل سلطنت کے بادشاہ طبعاً گوشت خور تھے اور جب بھی مغلیہ دور کے کھانوں کی بات ہوتی ہے گوشت، مرغ اور مچھلی سے بنائے کھانوں کا ذکر ہوتا ہے۔

لیکن تاریخ کے صفحات پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اکبر جہانگیر اور اورنگزیب سبزیوں اور ترکاریوں کے دلدادہ تھے۔

٭ برکھا بہار آئی، رس کی پھوہار لائی

٭ گرمیوں کے پکوان: سلمیٰ حسین کے ساتھ بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو

٭ پان:’خداداد خوبیوں کا مالک سادہ سا پتہ‘

٭ لکھنؤ: نوابوں کی سرزمین کے ذائقے

٭ ’بارے آموں کا کچھ بیاں ہو جائے‘

اکبر گوکہ ایک عمدہ شکاری تھا لیکن اسے گوشت سے کوئي خاص رغبت نہیں تھی تاہم ایک وسیع سلطنت کی باگ ڈور سنبھالنے اور اپنی جسمانی قوت کو برقرار رکھنے کے لیے وہ گاہے بگاہے گوشت کا استعمال کرتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption اورنگزیب کو بغیر گوشت کا پلاؤ مرغوب تھا

اپنی حکومت کے ابتدائی دور میں وہ ہر جمعے گوشت سے پرہیز کیا کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ اتوار بھی اس میں شامل ہو گيا۔ پھر چاند کی ہر پہلی تاریخ، مارچ کا پورا مہینہ اور پھر اکتوبر جو اس کی پیدائش کا مہینہ تھا ان میں بھی وہ گوشت سے پرہیز کرنے لگا۔ بادشاہ کے کھانے کی ابتدا دہی اور چاول سے ہوتی تھی۔

ابوالفضل جن کا شمار اکبر کے نو رتنوں میں ہوتا ہے، اپنی تصنیف آئین اکبری میں لکھتے ہیں۔ اکبر کے باورچی خانے کا کھانا تین قسموں پر مشتمل تھا۔ اول وہ کھانے جن میں گوشت شامل نہیں تھے۔ یہ کھانے صوفیانہ کھانے کہلاتے تھے۔ دوم وہ کھانے جن میں گوشت اور اناج ایک ساتھ پکایا جاتا تھا اور سوم وہ کھانے جن میں گوشت گھی اور مصالحوں کے ساتھ پکایا جاتا تھا۔

یہ تفصیل اس بات کو آشکار کرتی ہے کہ بادشاہ کی پہلی پسند وہ کھانے تھے جن میں دال ، موسمی ترکاریوں سے بنے سالن اور پلاؤ بادشاہ کے خاصے میں شامل تھے۔

Image caption مغل حکومت کے بانی بابر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے ہمایوں کو گائے کی مذہبی اہمیت بتائی تھی

اکبر کی طرح جہانگیر کو بھی گوشت سے کچھ خاص رغبت نہیں تھی۔ وہ ہر اتوار اور جمعرات کو گوشت سے پرہیز کیا کرتا تھا۔ نہ وہ صرف گوشت کھانے سے پرہیز کرتا تھا بلکہ ان دنوں جانوروں کو ذبح کرنے پر بھی پابندی عائد تھی۔

یہ ایک ایسا نکتہ ہے جو مغل بادشاہوں کی مذہبی رواداری کا مظہر ہے۔ باورچی بادشاہ کے مزاج کے مدنظر ترکاریوں کے عمدہ پکوان تیار کیا کرتے تھے اور انواع و اقسام کے پلاؤ جن میں گوشت شامل نہیں ہوتے تھے شاہی دسترخوان پر پیش کرتے اور بادشاہ سے داد و تحسین حاصل کرتے۔ سلطنت میں پھلوں کی کاشت کے فروغ کے لیے کاشتکاروں پر لگائے جانے والے محصول بھی معاف تھے۔

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اورنگزیب کچھ اور آگے نکل گئے۔ عمر کے ابتدائی حصوں میں وہ مرغن اور لذیذ کھانوں کے بے حد شوقین تھے۔ رقعات عالمگیری کے مطابق اورنگزیب کا ایک شوق کھانوں سے ان کی رغبت ہے۔ ایک مرتبہ اپنے بیٹے کو خط میں لکھا: ’تہمارے یہاں کی کھچڑی اور بریانی کا مزہ اب بھی مجھے یاد ہے۔ میں نے تمھیں لکھا تھا کہ سلیمان باورچی جس نے بریانی تیار کی تھی اسے میرے پاس بھیج دو لیکن تم نے اسے شاہی باورچی خانے میں آ کر پکانے کی اجازت نہیں دی۔ اگر اس کا کوئی شاگرد جو اسی معیار کا کھانا پکاتا ہو اور تمہارے پاس موجود ہو تو اسے بھیجو۔ اب بھی اچھے کھانوں کا شوق میرے مزاج میں موجود ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption مغل دسترخوان میں دالوں کا زیادہ استعمال ہوتا تھا

لیکن بادشاہ سلامت نے تاج کیا پہنا اور جنگ و جدال کی سرگرمیوں میں ایسے الجھے کہ اچھے کھانوں کا شوق داستان پارینہ بن کر رہ گیا اور اورنگزیب کا گوشت سے پرہیز ان کی عادت بن گیا۔ ان کا دسترخوان سادہ کھانوں سے مزید رہتا تھا اور شاہی باورچی ترکاریوں اور سبزیوں کے اعلیٰ سادہ پکوان بنانے کی حتی الامکان کوشش کیا کرتے تھے۔ تازہ پھل اورنگزیب کی کمزوری تھے اور رقعات عالمگیری میں بیشتر جگہ آم کا ذکر ملتا ہے۔

اورنگزیب ہندوستان کے ایک طاقتور حکمراں تھے۔ ان کی سلطنت شمال میں کشمیر سے لے کر جنوب میں کیپ کیموری اور مغرب میں کابل سے لے کر مشرق میں چٹاگانگ تک پھیلی ہوئی تھی۔ انھوں نے وہ سب کچھ حاصل کیا جس کی جدوجہد کی۔

مغلوں کی جسارت اور شجاعت ان میں موجود تھی۔ جوانی میں شکار کا شوق تھا لیکن پیری میں شکار کو ’بیکار لوگوں کی تفریح‘ قرار دیا۔

Image caption موسمی پھل اور سبزیوں کا استعمال بھی بہت تھا

ایک عظیم الشان بادشاہ کا گوشت سے تیار مرغن غذاؤں سے پرہیز واقعی حیران کن بات ہے۔ گندم سے بنے کباب اور چنے کی دال سے بنے پلاؤ اورنگزیب کی پسندیدہ غذا تھی۔ پنیر سے بنے کوفتے اور پھلوں کے استعمال سے بنی غذائی عہد اورنگزیب کی دین ہیں۔

٭ (سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں جس کی یہ آٹھویں کڑی ہے۔)

اسی بارے میں