’دلتوں سے ہمدردی، مسلمانوں پر خاموشی‘

تصویر کے کاپی رائٹ narendramodi.in
Image caption مودی کو لگاتار دو بار گائے کے خودساختہ محافظوں پر تنقید کرنی پڑی

اگر کسی ملک کے وزیراعظم کو طیش میں آ کر کہنا پڑے کہ ’گولی مارنی ہے تو مجھے ماریے‘، تو سمجھ لیا جانا چاہیے کہ اسے اپنی سیاسی زمین پر پھیلی پھسلن صاف نظر آنے لگی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک ہفتے میں دو بار گائے کے خود ساختہ محافظوں کو سخت و سست کہتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی بات عوامی فورم پر کرنی پڑی کیونکہ انھیں یہ سمجھ میں آ گیا ہے کہ اگر اس پھلسن پر ایک بار ان کا پیر پھسل گیا تو سہارا دے کر اٹھانے والا کوئی نہیں ملے گا۔

* ’گائے کے 80 فی صد محافظ ناجائز کاموں میں ملوث ہیں‘

*’گائے کے لیے انسانوں کو نہ ماریں‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سیاسی پھسلن اسی گجرات سے پیدا ہوتی اور پھیلتی نظر آ رہی ہے جسے دہائیوں سے ’ہندوتوا کی لیبارٹری‘ کہا جاتا رہا ہے اور جہاں نریندر بھائي مودی نے 15 برس تک حکومت کرکے ’ہندو ہردے سمراٹ‘ کا تمغہ حاصل کیا۔

آخر انھیں کیوں ان گئو ركشكوں (گائے کے محافظوں) کو براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہنا پڑا: ’اگر وار کرنا ہے تو مجھ پر کیجیے، میرے دلت بھائیوں پر وار کرنا بند کر دیجیے۔ گولی چلانی ہے تو مجھ پر چلایے میرے دلت بھائیوں پر مت چلایے۔‘

مودی ہی نہیں بلکہ بی جے پی کو پیدا کرنے والی تنظیم آر ایس ایس کو بھی گائے کے محافظوں کے خلاف باقاعدہ بیان جاری کرنا پڑا۔

کیا چند ماہ قبل یہ تصور کیا جا سکتا تھا کہ گائے کو انڈیا کی قومیت اور ہندو وقار سے جوڑ کر ’قوم پرست بمقابلہ غدار وطن‘ کی سیاسی بحث میں بدلنے والی تنظیم آر ایس ایس مبینہ گئو ركشكوں کے خلاف بولے گی؟

یہ دلت یکجہتی کی کامیابی ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ دنوں ہندو کے پسماندہ طبقے پر ہونے والے حملے کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا گيا

گجرات سے لے کر اترپردیش تک دلتوں میں اٹھنے والے غصے نے وزیر اعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کے منتظم اعلیٰ بھياجي جوشی کو گئو ركشكوں کے خلاف کھلے عام بیان دینے پر مجبور کر دیا۔

آر ایس ایس اور وزیر اعظم مودی اس وقت تک خاموش رہے جب تک گئو ركشكوں کی فوج ہندوتوا کے کھیت کی حفاظت کر رہی تھی اور مسلمانوں کو ’گائے کے قاتل‘ کے طور پر نشان زد کرکے ان پر حملہ کر رہی تھی۔

لیکن جب باڑ ہی کھیت کو کھانے لگی تو سنگھ پریوار چوکنا ہو گیا کیونکہ ہندوتوا کی علامتوں کی حفاظت کرنے کے بجائے اب مسلح گئو ركشك ’وسیع ہندو خاندان‘ کو متحد کرنے کے سنگھ پریوار کے منصوبے میں ہی تیلی لگانے لگے ہیں۔

ورنہ گذشتہ دو برسوں میں شمالی بھارت کے تمام چھوٹے بڑے قصبوں اور شہروں میں ڈنڈے، نیزے، چاقو اور لاٹھیاں لیے گئو ركشك ہاٹ بازار سے لے کر ہائی ویز پر موٹر سائیکلوں پر سوار جھنڈ بنا کر نکلتے رہے، ٹرک ڈرائیوروں، ان کے خلاصیوں، جانوروں کے تاجروں کو بے رحمی سے پیٹتے دھتكارتے رہے اور ان کے اس کام میں پولیس بڑھ چڑھ کر ان کی مدد کرتی رہی۔

جب تک گئو ركشكوں کے نشانے پر مسلمان تھے تب تک نہ وزیر اعظم نریندر مودی کو غصہ آیا اور نہ ہی سنگھ پریوار میں ہی کسی طرح کی بے چینی محسوس کی گئی۔

28 ستمبر سنہ 2015 کی شام دارالحکومت دہلی کے پاس دادری گاؤں میں یکجا مشتعل ہجوم نے گائے کا گوشت رکھنے کے شبے میں اخلاق احمد کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا اس وقت ثقافت کے وزیر ڈاکٹر مہیش شرما نے کہا: ’اسے ایک حادثہ کہنا چاہیے۔‘

ریاست جھارکھنڈ کے جھابرا گاؤں میں رواں سال 18 مارچ کو 35 سال کے مظلوم انصاری اور ان کے ساتھ 12 سال کے امتیاز خان کو چند گئو ركشكوں نے درخت سے لٹکا کر پھانسی دے دیا کیونکہ وہ گائے اور بیلوں کی خریداری کرتے تھے۔ لیکن اس پر وزیر اعظم نے سماج کے تانے بانے ٹوٹنے کی فکر کا اظہار نہیں کیا۔

گذشتہ سال اکتوبر میں جموں کشمیر کے ادھم پور میں ٹرک کلینر زاہد حسین کو گائے کی حفاظت کے نام پر مار ڈالا گیا، ہماچل میں نعمان کو ہجوم نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا، پنجاب میں ٹرک ڈرائیوروں کو مارا پیٹا گیا، ٹرکوں کو نذر آتش کیا گیا، راجستھان اور مدھیہ پردیش سے آئے دن بیف رکھنے کے شبے میں مسلمان عورتوں اور مردوں کو پیٹنے اور بے عزت کیے جانے کے ویڈیوز آتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مسلمانوں کو مختلف مقامات پر گائے کے لیے مارا پیٹا اور ہلاک کیا گیا ہے

دہلی کے پاس دو مسلمان نوجوانوں کوگوبر کھانے پر مجبور کیا گیا لیکن ایوان اقتدار میں کسی ذمہ دار آدمی نے ویسا غصہ نہیں دکھایا جیسا آج وزیر اعظم نریندر مودی دکھا رہے ہیں۔

اتوار کو تلنگانہ میں بھی وزیر اعظم نریندر مودی نے صرف دلتوں پر ہونے والے حملوں پر ’غصے‘ کا اظہار کیا۔

مودی نے کہا، ’وہ لوگ جو معاشرے کے تانے بانے کو توڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔۔۔اس طرح کے مٹھی بھر لوگ گئو ركشا کے نام پر معاشرے میں ٹکراؤ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

مودی کی تقریر میں ایک بار بھی مسلمانوں پر گذشتہ مہینوں ہونے والے حملوں کا ذکر نہیں تھا۔ انھوں نے یہ ضرور کہا کہ ہندوستان ’مختلف فرقہ وارانہ عقائد والا ملک ہے۔‘

دراصل وزیر اعظم کی فکر سنگھ پریوار کی اس فکر کا حصہ ہے جس کا مقصد وسیع ہندو سماج کو متحد کرنا ہے۔ اس میں دلت اور دوسری ہندو قومیں تو شامل ہیں کیونکہ سنگھ پریوار ہندو ووٹروں کا ایک ایسا وسیع بلاک تیار کرنا چاہتا ہے جس کی طاقت کے آگے سب جھکے ہوئے ہوں۔ لیکن اس وژن میں مسلمان نہیں ہیں۔

آر ایس ایس اگر صرف ہندوؤں کی بات کرتا ہے تو وہ سمجھ میں آتی ہے، لیکن خود کو سوا ارب ہندوستانیوں کا ’خادم اعلیٰ کہنے والے وزیر اعظم کی تشویش میں اگر مسلمانوں پر ہونے والے حملے نہیں جھلكتے تو یہ سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Manis Thapliyal
Image caption گائے کے یہ خود ساختہ محافظ کھلے بندوں گھومتے رہے

گئو ركشك (گائے کے محافظ) اور گوہنتا (گائے کے قاتل) کی جنگ میں جب تک مسلمانوں پر ’گو ہنتا‘ کا لیبل لگایا جاتا رہا تو یہ بات سنکھ پریوار کو راس آتی رہی۔

یہی وجہ ہے کہ پارلیمانی انتخابی مہم کے دوران خود نریندر مودی’پنک ریوليوشن‘ اور گائے پالنے اور گائے مارنے والے کے درمیان کے فرق کو سمجھاتے رہے لیکن جب گئو ركشكوں کی فوج دلتوں کو بھی گو ہنتا قرار دے کر ان پر حملے کرنے لگی تب ہندو معاشرے کی اندرونی دراڑ اچانک واضح ہوکر ابھر آئیں۔

وسیع ہندو اتحاد کو حاصل کرنے کے لیے سنگھ پریوار کی مختلف شاخیں مختلف طرح کام کرتی ہیں۔ ان میں ایک طرف تعلیم، خدمات، ترقی کے پروگرام چلانے والے ون واسی کلیان آشرم اور ودیا بھارتی جیسی تنظیمیں ہیں تو دوسری طرف بھالے کی شکل کے ترشول چلانے اور بندوق چلانے کی ٹریننگ دینے والا بجرنگ دل بھی ہے۔

جہاں ودیا بھارتی تعلیم کے میدان میں ہندو تہذیب و تمدن کو فروغ دینے کی بات کرتا ہے تو بجرنگ دل کو پرتشدد طریقوں سے بھی پرہیز نہیں ہے لیکن دونوں کا حتمی مقصد ایک ہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MIR IMRAN GREATER KASHMIR
Image caption آر ایس ایس کی مختلف شاخیں کھلے عام بڑے قصبوں اور شہروں میں نوجوانوں کو مسلح تربیت دیتی ہیں اور ان کا ایک ہی مقصد ہے

یہاں سوال یہ ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت بنتے ہی اچانک ان گئو ركشكوں کے حوصلے کس طرح اتنے بلند ہوگئے؟

کس طرح ان کے دلوں سے قانون کا خوف جاتا رہا؟ کس نے ان کو ہندو سماج اور گوماتا کا محافظ مقرر کیا؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ نریندر مودی اور بھياجي جوشی کی تنقید کے باوجود کیا گئو ركشك اور اس کے سرپرست اس طاقت کو یوں ہی جانے دیں گے جو انھوں نے ڈنڈے کے زور پر حاصل کی ہے اور جس کے بل بوتے پر مرکزی حکومت کو بھی دھمکی دی جا سکتی ہے؟

وزیر اعظم نریندر مودی کے غصے اور ان کی فکر کی شدت تبھی ثابت ہوگی جب وہ ’معاشرے کو تہ و بالا کرنے والے‘ گئو ركشكوں پر اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے بعد بھی لگام لگائے رکھیں ورنہ ان کی یہ تشویش بھی فقرے بازی ہی ہو کر رہ جائے گی۔

اسی بارے میں