کشمیر: ’میں تو عام آدمی ہوں، مجھے کرفیو کی سزاکیوں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے سخت ترین کرفیو نافذ ہے

سورج آج بھی میری کھڑکی سے جھانک رہا ہے لیکن مجھے اس میں کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی دوستی ہے۔

گذشتہ کچھ عرصے سے مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے یہ مجھے تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

*کشمیر کے حالات معمول پر کیسے لائے جائیں؟

٭ ’پیلٹ گن مارتی نہیں زندہ لاش بنا دیتی ہے‘

٭’حکومت سستے میں چھوٹنا چاہتی ہے‘

سورج دن بھر میری وادی کشمیر کا چکر لگا کر آتا ہے اور میں، جی ہاں، میں اپنے اس کمرے میں گذشتہ تقریباً ایک ماہ سے قید ہوں۔

اکثر سوچتا ہوں کہ مجھے کس جرم میں اس کرفیو کی قید کی سزا دی گئی ہے۔

میں تو ایک عام کشمیری ہوں۔ میں نہ فوجی ہوں اور نہ ہی جہادی۔ میں نے نہ کبھی کسی مظاہرے میں حصہ لیا ہے اور نہ ہی سنگ بازی کی۔

پھر بھی میرا فون ایک ماہ سے کیوں بند کر دیاگیا، میرا انٹرنیٹ کیوں بند کیا گیا ہے۔ میرا کیبل نیٹ ورک کیوں نہیں چل رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی فورسز کی فائرنگ سے اب تک ساٹھ سے زیادہ نوجوان ہلاک اور ہزاروں کی تعداد زخمی ہوچکے ہیں

اور یہ سورج، اس پر تو کوئی کرفیو یا پابندی نہیں ہے۔ اس پر کوئی پتھر بھی نہیں پھینک سکتا اور نہ ہی کوئی گولی یا پلیٹ گن سے حملہ کر سکتا ہے۔

میں تو کرفیو کی وجہ سے اپنے ہی صحن میں آ کر اس کو اپنی بھرپور نگاہوں سے بھی نہیں دیکھ سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر میں بھارتی فورسز کے خلاف عوامی مظاہروں میں تمام سختیوں کے بعد بھی کمی نہیں آئی ہے اور لوگ ہر روز سڑکوں پر نکل رہے ہیں

ہر کشمیری کی ہی طرح دن کا آغاز دودھ سے تیار کردہ نمکین چائے سے کرنے کی عادت ہے۔ لیکن گذشتہ تقریباً ایک ماہ سے بازار بند ہیں، دودھ کہاں سے ملے گا۔ نمکین چائے کا سیاہ مرکب پی پی کر اب دماغ خراب ہو گیا ہے۔

گذشتہ ماہ کی 12 تاریخ سے چھوٹے بیٹے کی یونیورسٹی کے امتحانات شروع ہونے والے تھے۔ کتنے شوق سے وہ انتظار کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ڈیڈی اس سال میں نے پوری تیاری کی ہے۔ حالات بھی ٹھیک ہیں، اب کی بار اچھے نمبرز آئیں گے۔

اور پھر اچانک جیسے کشمیر کے بازاروں، سکول جانے والے ننھے بچوں اور مسکراتے چہروں کی رونق کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک بار پھر مظاہرے، سنگ بازی، کرفیو اور قتل و غارت گری کا بدترین دور شروع ہوا۔ اب کچھ نہیں معلوم کہ بیٹے کے امتحانات ہوں گے بھی یا نہیں۔ اس کو بری نظر لگ گئی ہے۔

میرا بیٹا اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا رہتا ہے، گم سم۔ کسی سے بات تک نہیں کرتا۔ میں کچھ کہتا ہے تو غصہ کرتا ہے، حکومت کو برا بھلا کہتا ہے، مظاہرین کو برا بھلا کہتا ہوں اور غصے سے کہتا ہے ڈیڈي میرے امتحانات کا کیا ہوگا۔

کہیں اب کی بار بھی ایک سال کا سیمسٹر ڈیڑھ سال کا نہ ہو جائے، پھر رونا شروع کرتا ہے۔

میرا بیٹا جو موٹر سائیکل پر پورا شہر گھوم آتا تھا، دوستوں کے ساتھ ہنستا، کھیلتا تھا، کرفیو کی وجہ سے اب اس کی حالت دیکھی نہیں جاتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

گھر میں تنگ آکر کبھی کبھی سڑک تک نکلنے کی ضد بھی کرتا ہے۔ مگر ہم میاں بیوی دن بھر اپنے بچوں کی پہرے داري کرتے ہیں۔

کیا بھروسہ سڑک پر نکل کر سنگ بازوں کے پتھر کا نشانہ بن جائے یا پھر فوجیوں کی پلیٹ گن یا گولیوں کا نشانہ بن جائے۔

بیوی بھی پریشان ہے سبزی کے نام پر بھیڑ بکریوں کی طرح ایک ماہ سے خالی ساگ کھاتے آ رہے ہیں جو كچن گارڈن میں لگایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

گھر پر رکھا آٹا اور چاول اب تقریباً ختم ہو چکا ہے، سوچتا ہوں کرفیو اسی طرح چلتا رہا تو کیا کروں گا، بچوں کو کیا كھلاؤں گا۔

’پورا خاندان ڈپریشن کا شکار ہو چکا ہے۔ یا اللہ میری اس وادی کشمیر میں امن کے دن کب دوبارہ لوٹ کر آئیں گے۔‘

اسی بارے میں