’شیر، کھیر، کشمیر‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر پر انڈیا میں کئی طرح کی آرا ہیں، ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کانعرہ ہے کہ ’دودھ مانگوں گے تو کھیر دیں گے، اور کشمیر مانگو گے تو چیر دیں گے

جب یہ خبر شہہ سرخیوں میں شائع ہو کہ حکومت نے کشمیر پر کل جماعتی کانفرنس طلب کرنے کی مانگ تسلیم کر لی ہے، تو یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کہ کتنا سفر ابھی باقی ہے۔

کل جماعتی کانفرنس میں ایسا کیا کہا جائے گا جو پارلیمان میں پہلے نہیں کہا جاچکا، اور کشمیر جاکر کوئی کل جماعتی وفد ایسا کیا حاصل کر لے گا جو وہاں پہلے جانے والے کل جماعتی وفود نے حاصل نہ کیا ہو۔

پارلیمان میں کشمیر پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے دو اہم باتیں کہیں: کشمیر پر پاکستان سے بات نہیں کریں گے اور حکومت سیاسی جماعتوں، اعتدال پسندوں اور ’دیگر تنظیموں‘ سے بات کرنے کو تیار ہے۔

پارلیمان میں بحث سے صرف ایک دن پہلے وزیرا عظم نریندر مودی نے ایک جلسےسے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر میں وہ اٹل بہاری واجپئی کے دکھائے ہوئے راستے پر چلنا چاہتے ہیں اور کشمیریوں سے ’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت” کے دائرے میں بات کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کشمیر پر انڈیا میں کئی طرح کی آرا ہیں: ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کانعرہ ہے کہ ’دودھ مانگوں گے تو کھیر دیں گے، اور کشمیر مانگو گے تو چیر دیں گے‘ اور دوسری طرف وہ جو ریاست میں ریفرینڈم یا کم سے کم 1953 سے پہلے کے درجے کی بہالی کی بات کرتے ہیں۔

ان میں کانگریس کے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم بھی شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں کئی مرتبہ یہ کہا ہے کہ کشمیریوں سے جو وعدے کیے گئے تھے، وہ پورے کیے جانے چاہئیں۔ ان وعدوں کی فہرست لمبی بھی ہے اور پرانی بھی، لیکن یہ بات دلچسپ ہےکہ بدھ کو پارلیمان میں کشمیر پر بولنے والے 29 رہنماؤں میں پی چدمبرم شامل نہیں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ خود کانگریس ان کے’ذاتی‘ خیالات سے کنارہ کشی اختیار کر رہی ہے۔ کشمیر ایک حساس سیاسی مسئلہ ہے، کچھ اس حد تک کہ پارلیمان میں بحث کےدوران وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کھڑے ہوکر کہا کہ ’اراکین جہاں تک ممکن ہو ایک ہی آواز میں بات کریں۔۔۔‘

حکومت کو بھی شاید اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ شورش کی تازہ لہر کا زور ٹوٹنے کا انتظار کرنا زیادہ سمجھداری کی بات نہیں لیکن جیسا کہ اخبار انڈین ایکسپریس نے ایک اداریے میں لکھا ہے کہ جب نریندر مودی کشمیریت، جمہوریت اور انسانیت کی بات کرتے ہیں تو یہ ایک ’گھسا پٹا نعرہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ کشمیر کے حالات پر ایک مہینے تک خاموش رہے، اور شاید یہ بیان انہوں نے حزب اختلاف اور کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے دباؤ میں دیا ہے۔۔ لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ شاید مسئلے کی باریکی کو سمجھتے ہی نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اخبار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں بیٹ، بال اور لیپ ٹاپ دیکھنا چاہتے ہیں، وہ کشمریوں سے کہہ رہے ہیں کہ آپ زیادہ سیب پیدا کیجیے کیونکہ پورا ملک پورے سال کشمیری سیب کا انتظار کرتا ہے۔۔۔لیکن کشمیر میں موجودہ ناراضگی کا تعلق روزگار اور معیشت کی حالت سے نہیں ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ برسوں سے کشمیریوں کے سیاسی مطالبات کو نظر انداز کیا گیا ہے، ان سے بات نہیں کی گئی اور وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔‘

کشمیر میں مطالبات کی ایک ’رینج‘ ہے، اس میں ایک طرف علیحدگی ہے، بیچ میں کہیں زیادہ خود مختاری اور دوسری طرف سیلف رول۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

ریاست میں پی ڈی پی جیسی جماعتوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ’سافٹ سیپرٹیزم‘ کی سیاست کرتی تھیں، اب وہ بی جے پی کے ساتھ ملکر ریاست میں حکومت چلا رہی ہے۔ اخبار کشمیر آبزرور نے ریاست میں نئی حکومت کے قیام کے بعد اپنے ایک اداریے میں لکھا تھا کہ ’پی ڈی پی کا سیلف رول کا ایجنڈا ہی اس کی پہچان تھی، پارٹی نئی دلی کے ساتھ ایک نئے رشتے کا مطالبہ کر رہی تھی ( دہری کرنسی وغیرہ)۔۔۔لیکن اب وہ اس سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔۔۔اور وزیر اعلی کچھ یہ عندیہ دے رہی ہیں جیسے ریاست میں کوئی مسئلہ ہی نہ ہو۔۔۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شاید یہی مسئلے کی جڑ ہے۔ مسٹر چدامبرم کی طرح سیاستدان اپنے دور اقتدار میں کچھ کہتے ہیں اور اقتدار چھوڑنے کے بعد کچھ اور۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور جنرل پرویز مشرف نے کشمیر کی سرحدوں کو ’ار ریلیوینٹ‘ بنانے کی بات کی تھی تاکہ کشمیر کے دونوں حصوں میں لوگ آزادی کےساتھ آجا سکیں، کاروبار کر سکیں۔۔۔ بہت سے تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ کسی بھی دیر پہ حل کے لیے یہ ایک ’سٹارٹنگ پوائنٹ‘ یا اہم ابتدائی قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

لیکن حل چاہے کوئی بھی ہو، اس کے لیے ایک سیاسی پلان کی ضرورت ہوگی۔ اور جیسا کہ انڈین ایکسپریس نے لکھا ہے کہ یہ وقت ہی بتائے گا کہ حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی ہے یا وہ بات چیت کا وعدہ کرکے صرف موجودہ بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اخبار کے مطابق ہو سکتا ہے کہ تھک ہار کر مظاہرین گھر بیٹھ جائیں اور ہوسکتا ہے کہ حکومت اسی انتظار میں ہو، لیکن جب تک مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، وہ سب دوبارہ ہوتا رہے گا جو اب ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں