چین کی معیشت دباؤ کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سنہ 2021 تک چین کی اقتصادی ترقی کی شرح 5.8 فیصد تک ہو گی

چین کی اقتصادیات کے تازہ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے دنیا کی دوسری بڑی معیشت ان دونوں دباؤ کا شکار ہے۔ جولائی میں صنعتی پیداوار اور فروخت توقعات سے کم رہیں۔

ان اعدادوشمار سے یہ پتہ چلتا ہے کہ چین کے لیے معاشی ترقی کی بنیاد فیکڑیوں اور برآمدات کے بجائے صارفین اور مقامی فروخت پر منتقل کرنے سے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

٭ 2016 چین کی ’اقتصادی جنگ‘ کا سال

اس سے قبل چین کے تجارتی اعدادوشمار بھی توقعات سے کم تھے۔ قومی بیورو آف شماریات کے ترجمان نے بتایا کہ ملک کی معیشت اس وقت دباؤ کا شکار ہے۔

بین الااقوامی مالیاتی فنڈ کے اندازوں کے مطابق رواں سال چین کی معاشی ترقی شرح 6.6 فیصد تک رہنے کا امکان ہے ۔

آئی ایم ایف نے چین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی شرح نمو کی توقعات ظاہر کرنے کے بجائے سالانہ شرح نمو کا ہدف مقرر کرے۔

آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سنہ 2021 تک چین کی اقتصادی ترقی کی شرح 5.8 فیصد تک ہو گی۔

اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں ریٹل یا پرچون فروخت میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 10.2 فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن یہ گذشتہ ماہ یعنی جون کے مقابلے کم ہے۔

صنعتی پیداوار میں گذشتہ سال کے اس عرصے کے مقابلے میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن جولائی میں صنعتی پیدوار اقتصادی ماہرین کی توقعات سے کم تھی۔

انفراسٹیکچر پر کیے جانے والے اخراجات میں کمی آئی ہے۔

چین کے قومی بیورو آف شماریات نے سیلاب اور گرمی شدت میں اضافے سے ملکی معیشت ہونے والے اثرات کے بارے میں بھی بات کی ہے۔

یاد رہے کہ چین اپنی معیشت میں مقامی کھپت اور برآمدات کے درمیان توازن پیدا کرنا چاہتا ہے اور اسی وجہ سے بڑی صنعتوں خاص کر کے اسٹیل انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر ملازمتیں کم ہوئی ہیں لیکن اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ چین میں صارفین کے اخراجات یا کنزیومرازم میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں