’کھانا آگ اور پانی کا کھیل ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption پینے کا صاف پانی ایک اہم مسئلہ ہے

بے رنگ و بو کا یہ سیال خدا کی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ انسان کھانے کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر نہیں۔

صاف پانی پینے کا حق ہر انسان کو حاصل ہے۔ آج ہم آر او اور اکیوا گارڈ کی بات کرتے ہیں لیکن آج سے ہزاروں سال قبل ہمارے آباؤ اجداد مشینوں کی مدد کے بغیر صاف شفاف پانی پیتے تھے اور ہم سے زیادہ تندرست اور صحت مند تھے۔

٭ گرمیوں کے پکوان: سلمیٰ حسین کے ساتھ بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو

٭ پان:’خداداد خوبیوں کا مالک سادہ سا پتہ‘

٭ لکھنؤ: نوابوں کی سرزمین کے ذائقے

٭ ’بارے آموں کا کچھ بیاں ہو جائے‘

مقدس روایات کے مطابق پانی کو صاف شفاف معطر، راحت بخش اور چاندی کی طرح چمکتا ہوا ہونا چاہیے اور یہی پانی پینے کے قابل ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کے ذخائر، ندیوں اور تالابوں میں پانی کو معطر بنانے کے لیے کنول اگایا جاتا تھا۔

پانی کی خاصیت دریافت کرنے کا طریقہ بھی بڑا دلچسپ تھا۔ پانی کے برتن میں ابلے ہوئے چاول ڈال کر چھوڑ دیے جاتے تھے اور اگر چاول کا رنگ بدل جائے یا چاول کے دانے ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو فوراً وہ پانی رد کر دیا جاتا تھا کیونکہ آلودہ پانی پینے سے پیٹ کے کئی امراض ہو سکتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Image copyrightWATERAID RONNY SEN
Image caption بے شمار لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں

ہندوستان کے مختلف مذاہب نے بھی پانی کو مقدس تسلیم کیا ہے۔ ہندوؤں کے تہواروں اور پوجا میں پانی ایک اہم عنصر ہے۔ جین عقیدے کے پیروکار اسے ہر چھ گھنٹے میں ابال کر استعمال میں لاتے ہیں اور بدھ مت کے بھکشو بارش کے پانی پرگزارہ کرتے تھے۔

پینے کے پانی کو کانسی کے برتن میں اُبال کر دھوپ میں رکھا جاتا پھر مٹی کے برتنوں میں ڈھانپ کر زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا۔ یہ پانی ٹھنڈا اور فرحت بخش رہتا تھا۔

ہندوستان میں دریائےِ گنگا کو اہم مقام حاصل ہے۔ سالہا سال سے بہنے والا یہ دریا ہندوستانی تہذیب کا اٹوٹ حصہ ہے جسے پاک اور مقدس تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اب گنگا کی چادر میلی ہے!

تاريخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ ساتویں صدی میں راجہ ہرش وردھن صرف اور صرف گنگا کا پانی استعمال کرتے تھے۔ دہلی کے سلاطین بھی گنگا کے پانی کو صاف شفاف گردانتے تھے۔ محمد بن تغلق کے شاہی ہرکارے سرپٹ گھوڑے دوڑاتے دولت آباد سے 1500 کلو میٹر دور جاکر بادشاہ کے لیے گنگا کا پانی فراہم کرتے تھے۔

مغل حکمرانوں نے بھی گنگا کے پانی کو اہمیت دی اور اس کے طبی فوائد کے پیش نظر بادشاہ اکبر نے اسے ’حیات جاوداں‘ کے خطاب سے نوازا۔

ابوالفضل اپنی تصنیف آئین اکبری میں لکھتے ہیں: ’پانی کا انتظام ایک خس شبہ آبدار خانہ کے سپرد تھا جہاں عالی مرتبت اور تجربہ کار افسران خدمت کے لیے مامور تھے۔ آگرہ اور فتح پور سیکری میں یہ پانی سورن ندی سے لیا جاتا اور جب بادشاہ کا قیام پنجاب میں ہوتا تو ہرکارے مہر بند کوزوں میں گنگا کا پانی ہری دوار سے لاتے تھے۔ پانی کے لوازمات ہر دم بادشاہ کے ساتھ رہتے تھے، جنگ کا میدان ہو یا شکار گاہ۔‘

Image caption پینے کے صاف پانی حاصل کرنے کا ایک قدیم طریقہ

شاہی باورچی خانے میں بارش کا پانی گنگا کے پانی کی آمیزش کے ساتھ ذخیرہ کر لیا جاتا تھا اور پکانے کے استعمال میں لایا جاتا تھا۔

جہانگیر نے بھی باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گنگا کے پانی کو پینے کے لیے استعمال کیا۔ سونے کی تھالی میں چاندی یا سونے کے کوزے اور پیالے کمخواب اور اطلس کے سرپوش سے ڈھکے رہتے اور ایک غلام اس کے ساتھ بادشاہ کی ہمرکابی میں رہتا۔

آج کل خوشبودار پانی کے اشتہار جگہ جگہ نظر آتے ہیں لیکن شاید لوگ اس بات کو نہیں جانتے کہ خوشبودار پانی کا رواج ہندوستان میں دور قدیم سے چلا آ رہا ہے۔ مختلف پھولوں، پتوں، جڑوں اور مصالحوں سے پانی خوشبودار بنایا جاتا تھا اور حکیموں کے صلاح مشورے سے ہر کھانے کی تاثیر کے مطابق ان کا استعمال کیا جاتا تھا جو کہ کھانے کو اشتہا انگیز اور زود ہضم بناتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کھانے کو آگ اور پانی کا کھیل کہا جاتا ہے

خوشبودار پانی نہ صرف پینے بلکہ کھانا بنانے میں بھی کام آتا تھا۔ مثلا معطر پانی سے آٹا گوندھنے سے آٹا ہلکا اور ہاضمہ آور ہوتا ہے جبکہ آم اور لیموں کے پتوں کے ساتھ مچھلی اُبالنے سے اس کی بساند کم ہو جاتی ہے۔ ہارسنگھار کے پھول زعفران کا بدل ہیں اور یہ پھول نہ صرف اپنے رنگ بلکہ بھینی بھینی خوشبو سے پکوان کو نئی لذت بخشتے تھے۔

کہتے ہیں کہ کھانا آگ اور پانی کا کھیل ہے۔ آنچ موزوں اور پانی مناسب نہ ہو تو کھانے کا سارا مزا غارت ہو جاتا ہے۔ ایک تجربہ کار ماہر باورچی ان دو باتوں کا استاد ہوتا ہے اور اسی لیے ان کی زیر نگرانی پکایا کھانا نہ صرف نگاہوں کو سرور بلکہ زبان کو بھی لذت سے آشنا کرتا ہے۔

ریفریجریٹر کی عدم موجودگی میں پانی شورے سے ٹھنڈا کیا جاتا تھا۔ پانی کے کوزے رات بھر بڑے بڑے برتنوں میں شورہ ملا کر رکھ دیے جاتے تھے اور صبح دم پانی بر‌ف کی طرح ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISTOCK
Image caption ہمالیہ سے نکلنے والے دریائے گنگا کو مقدس تصور کیا جاتا ہے

پانی کے لیے یہ اہتمام اور قدر و منزلت عہد قدیم سے ہمارے ساتھ ہے۔ پان کی طرح پانی نے بھی ایک بڑی صنعت کو مروج کیا۔ ایک طرف کمہار نے سوندھی مٹی گھول کر مختلف شکل کی صراحیاں، کوزے اور پیالے بنائے تو دوسری طرف کانسی، چاندی اور سونے کے پیالے بنے۔

سقہ نے چمڑے کی مشکیں بنائیں، کنویں کے پانی سے اسے بھر کر کٹورہ چھلکاتا سڑکوں پر آوازیں لگاتا چلا آتا، ’میاں آب حیات ہے، آب کوثر کا مزہ، جو پیے جی جائے نہ پیے پچھتائے‘۔ یہ تھی دلی کے چوک کی ایک آواز۔ اب نہ سقہ ہے اور نہ یہ آواز۔

٭ (سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں جس کی یہ نویں کڑی ہے۔)

اسی بارے میں