کشمیر کی بساط پر بلوچستان کی شاہی چال

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نریندر مودی نے بلوچستان کے ذکر کے ساتھ کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے یوم آزادی کی تقریر میں بلوچستان، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت کا ذکر کر کے بھارت کی پاکستان کے بارے میں پالیسی میں ایک نئی جارحانہ حکمت عملی کا پیغام دیا ہے۔

حسبِ توقع پاکستان کے خلاف سخت موقف کی حمایت کرنے والے تمام حلقوں میں مودی کی اس بدلی ہوئی حکمت عملی سے اچانک توانائی پیدا ہو گئی ہے۔

٭ ’پاکستان کو اب بلوچستان میں زیادتیوں کا جواب دینا ہو گا‘

وزیر اعظم مودی نے یہ بیان بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی زیادتیوں اور حقوق انسانی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی سطح پر سوال اٹھائے جانے کے جواب میں دیا ہے۔

کشمیر میں ایک شدت پسند کمانڈر کی ہلاکت کے بعد گذشتہ ایک مہینے میں کم از کم 60 نوجوان ہلاک ہو چکے ہیں اور پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔ شورش زدہ وادی میں تقریباً چھ ہفتوں سے کرفیو نافذ ہے اور وادی کےعوام سڑکوں پر نکل کر آزادی کا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں۔

بلوچستان، گلگت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا ذکر کر کے مودی نے کشمیر کی ہلاکتوں اور آزادی کےنعروں سے توجہ ہٹا کر پاکستان کی طرف مبذول کرا دی ہے۔ بحث اب کشمیر پر نہیں بلوچستان کی شورش، پاکستان کے زیر انتطام کشمیر اور گلگت میں پاکستانی فورسز کی مبینہ زیادتیوں اور مودی کی نئی حکمت عملی پر ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں گذشتہ کئی ہفتوں سے کرفیو جاری ہے

سابق خارجہ سکریٹری کنول سبل کا حوالہ دیتے ہوئے ایک سرکردہ انڈین اخبار نے لکھا ہے کہ کشمیر کا سوال اٹھانے پر پاکستان کو کھرا جواب دینے کے لیےمودی کی ستائش کی جانی چاہیے۔

ایک اور سابق سفارت کار جی پارتھا سارتھی نے مودی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بھارت نے کشمیر کے سوال پر اس پاکستانی پروپگنڈے پرکہ کشمیر تقسیم ہندکا تصفیہ طلب مس‏‏ئ‏لہ ہے ابھی تک ضرورت سے زیادہ تحمل سےکام لیا ہے۔‘ پارتھا سارتھی کےمطابق ’بلوچستان کا مسلہ بھی تقسیم ہندکا ورثہ ہے۔‘

روزنامہ ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ اس بدلی ہوئی حمکت عملی کے ساتھ مودی نے یہ اشارہ کیا ہے کہ بھارت بلوچستان میں آزادی کے حامیوں اور گلگت اور پاکسان کے زیرانتظام کشمیر کے بیزار عوام کو ’مالی، سیاسی اور اخلاقی مدد‘ فراہم کر سکتا ہے۔

اخبار کے مطابق اگر انڈیا ایسا کرتا ہے تو پاکستان کے لیے بلوچستان کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ وہ اس وقت طالبان اور دوسری شدت پسند تنظیموں سے برسرِ پیکار ہے۔

عالمی امور کے سرکردہ تجزیہ کار سی راجہ موہن نے لکھا ہے کہ انھیں مودی کی اس بدلی ہوئی حکمت عملی پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ ’اپنے پیش روؤں کے برعکس مودی خطرہ مول لینے کے لیے تیار رہتے ہیں، اور بہتر نتیجے کے حصول کے لیے وہ بڑا داؤ بھی کھیل سکتے ہیں۔‘

روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ مودی کی بدلی ہوئی حکمت عملی خطرات سے پر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مودی نے اقتدار میں آنے سے پہلے پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد گذشتہ ڈھائی برس میں انھوں نے جو پالیسی اختیار کی وہ کسی کی سمجھ میں نہیں آئی۔ انھوں نےکوئی ایسی جارحانہ پالیسی بھی نہیں اختیار کی لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے تعلقات مزید خراب ہو گئے۔ وہ بات چیت کے راستے خود ہی کھولتے اور بند کرتے رہے۔

بھارت میں آئندہ چند مہینوں میں اتر پردیش، پنجاب اور گجرات جیسی اہم ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بہت سےمبصرین کا خیال ہے کہ بہت ممکن ہے کہ انھوں نے یہ نئی حمکت عملی اپنے بیزار ہوتے ہوئے ووٹروں کی حمایت حاضل کرنے کے لیے اختیار کی ہو۔

آئندہ چند دنوں میں مزید بحث و مباحثے اور بیانات کے بعد ہی مودی کی اس نئی حمکت عملی کے بارے میں کچھ واضح ہو سکے گا۔ لیکن فی الحال انھوں نے توجہ نہ صرف بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی سنگین صورت حال سے دوسری طرف موڑ دی ہے بلکہ انھوں نے سفارت کاری کی گیند پاکستان کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال پر انڈیا پہلے بھی تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے

پاکستان کشمیر کی بساط پر مودی کی بلوچستان سے متعلق شاہی چال کے لیے قطعی طور پر نہیں تھا۔ اس کا پہلا ردعمل بھارت کی توقع کے عین مطابق دفاعی اور شکایتی تھا۔ پاکستان اپنے اندرونی حالات اور امریکہ کی گھٹتی ہوئی دلچسپی کے سبب پہلے ہی ایک سیاسی تغیر سےدو چار ہے۔

کشمیر کے جواب میں بلوچستان اور گلگت کی مودی کی حمکت عملی مصالحتی نہیں جارحانہ ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسئلۂ کشمیر کے حل میں مودی کی یہ حمکت عملی ’گیم چینجر‘ یعنی پانسہ پلٹ ثابت ہو سکتی ہے۔

مودی نے کشمیرکی بساط پر ایک خطرناک لیکن سفارت کاری کی ایک شاطرانہ چال چل دی ہے۔

اسی بارے میں