کشمیر میں ’مخملی دستانہ نہیں اب صرف فولادی ہاتھ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آٹھ جولائی کو مسلح کمانڈر برہان وانی کی پولیس آپریشن میں ہلاکت کے بعد وادی میں ہند مخالف احتجاجی لہر پھیل گئی تھی

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی سے سرینگر تک سیاسی حلقوں کا شور شرابہ اپنی جگہ لیکن کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری ہند مخالف احتجاجی تحریک ہر نئی ہلاکت کے ساتھ شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔

مظاہروں کا زور توڑنے کے لیے پہلے ہی مسلسل کرفیو، فون اور انٹرنیٹ رابطوں پر قدغن اور رات کے دوران بستیوں کو ہراساں کرنے کی کاروائیاں جاری ہیں لیکن بدھ سے دن کے ساتھ ساتھ رات کا کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔

* تلخی کے ایک نئے خطرناک باب کا آغاز؟

* کشمیر کی بساط پر بلوچستان کی شاہی چال

* ’ہر ماں ایک برہان پیدا کرے گی‘

پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی روک دی گئی ہے جب کہ دودھ، سبزیاں اور دیگر غذائی اجناس لے جانے والی گاڑیوں کو شہروں اور قصبوں میں داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔

ہلاکت کا تازہ واقعہ بدھ کی شب جنوبی قصبہ کھریو شار میں پیش آیا۔

مقامی باشندوں کے مطابق فوجی اہلکاروں نے رات کو گاؤں پر دھاوا بول دیا اور کئی نوجوانوں کو گرفتار کر کے کیمپ میں قید کر لیا۔

رات کے دوران ان نوجوانوں پر جسمانی تشدد کیا گیا جس کے دوران 30 سالہ لیکچرار شبیر احمد کی موت ہوگئی۔ جمعرات کی صبح جب شبیر کی لاش کھریو پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا۔

اس سے قبل 14 اور 15 اگست کو سخت ترین کرفیو کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات میں چھ نوجوان ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے آٹھ جولائی کو مسلح کمانڈر برہان وانی کی پولیس آپریشن میں ہلاکت کے بعد وادی میں ہند مخالف احتجاجی لہر پھیل گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے قبل 14 اور 15 اگست کو سخت ترین کرفیو کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات میں چھ نوجوان ہلاک ہوگئے تھے

اس تحریک کو دبانےکی فوجی کارروائیوں میں اب تک 66 افراد ہلاک اور 5,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 500 افراد کی آنکھوں یا دیگر جسمانی اعضا میں لوہے کے چھّرے یا پیلیٹس لگے ہیں اور ان میں سے بیشتر بینائی سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔

انڈین پارلیمان میں کشمیر کی صورتِ حال پر بہت بحث ہوئی۔ پارلیمانی اجلاس کے بعد انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گذشتہ ہفتے نئی دہلی میں کشمیر کی صورتِ حال سے متعلق کل جماعتی اجلاس کی صدارت کی لیکن اس اجلاس میں محض اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ کشمیر میں ’قوم دشمنانہ سرگرمیوں‘ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

15 اگست کو انڈیا کے یومِ آزادی کے موقعے پر نریندر مودی نے تاریخی لال قلعہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی صوبہ بلوچستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کا ذکر کرکے کشمیر کی صورت حال کو نظرانداز کردیا۔

دریں اثنا کشمیر میں حزب اختلاف کے رہنما عمر عبداللہ نے دیگر اپوزیشن گروپوں کے ہمراہ ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے انڈین صدر پرنب مکھرجی کے ساتھ ملاقات کا اعلان کیا ہے۔

لیکن ان سیاسی سرگرمیوں کا زمینی صورت حال پر کوئی اثر مرتب نہیں ہو رہا ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ نریندر مودی اور مقامی وزیرِ اعلی محبوبہ مفتی نے اب تک جو بھی بیانات دیے ہیں ان سے عوامی غم و غصہ میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

مثال کے طور پر 15 اگست کو محبوبہ مفتی نے انڈیا زندہ آباد کا نعرہ بلند کر کے سب کو حیران کر دیا اور لوگوں سے اپیل کی کہ ’بندوق اور تشدد سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘

معاشی امور کے ماہر اعجاز ایوب کہتے ہیں ’ان بیانات سے لگتا ہے کہ حکومت حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے سیاسی سے زیادہ فوجی وسائل کا استعمال کرنے پر آمادہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption اگست کو انڈیا کے یومِ آزادی کے موقعے پر نریندر مودی نے تاریخی لال قلعہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی صوبہ بلوچستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کا ذکر کرکے کشمیر کی صورت حال کو نظرانداز کردیا

واضح رہے کہ جمرات کو جنوبی کشمیر میں واقع ہندوؤں کی مقدس امرناتھ گھپا کی 48 روزہ یاترا اختتام پذیر ہوئی۔

یاترا کی حفاظت پر دس ہزار نیم فوجی اہلکار مامور تھے۔ یاترا ڈیوٹی سے فراغت کے بعد اس فورس کو شہروں، قصبوں اور حساس دیہات میں اضافی طور پر تعینات کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل چار ہزار اہلکاروں کا اضافی دستہ نئی دہلی سے کشمیر پہنچ چکا ہے۔ کشمیر میں ڈیڑھ لاکھ پولیس اہلکار، 60,000 سی آر پی ایف اور دوسری فورسز کے اہلکار پہلے ہی ہند مخالف کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔

سابق شدت پسندوں پر مشتمل غیرمستقل مسلح اہلکاروں کی تعداد بھی 30,000 ہزار ہے جب کہ ریاست کی بستیوں میں اور سرحدوں پر پانچ لاکھ بھارتی افواج تعینات ہیں۔

محقق اور کالم نویس یاسر میر کہتے ہیں ’کچھ ماہ میں اترپردیش اور دوسری ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں ۔ایسے میں مودی حکومت کشمیر کے حوالے سے سیاسی رعایت دینے پر آمادہ نہیں ہے اور مقامی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی بھی اپنی سیاسی مجبوریوں کے باعث مودی سے رعایات کا مطالبہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ایسے میں ہمیں خدشہ ہے کہ عوامی تحریک کو دبانے کے لیے ایک فُل سکیل کریک ڈاؤن ہوگا۔‘

واضح رہے کشمیر میں گذشتہ 27 برس کے دوران حکومت ہند کی جو پالیسی رہی ہے اسے مخمل کے دستانے میں فولادی ہاتھ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یعنی زیادہ سخت گیر عناصر کو قید کیا جائے اور اعتدال پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا ایسا سلسلہ شروع کیا جائے جس کا کوئی واضح نتیجہ نہ نکلے۔

یاسر میر کہتے ہیں ’لیکن اب کی بار مودی سرکار نے مخمل کے دستانے کو پھینک دیا ہے اور صورت حال سے نمٹنے کے لیے دہلی کا فولادی ہاتھ برہنہ ہوگیا ہے۔‘

اسی بارے میں