کرناٹک میں گائے کے بیوپاری کی ہلاکت پر 17 گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ ALOK PUTUL
Image caption ہندو مذہب میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے

انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں پولیس نے 17 افراد کو ایک ہندو شخص کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر گائیوں کا بیوپاری تھا۔

انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بی جے پی سے تعلق رکھنے والے پروین پجاری کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ گائے کے بچھڑوں کو ریڑھے کی مدد سے گاؤں میں لاتے تھے۔

٭’ہندوؤں کے گناہ کی وجہ سے بیف کھا رہے ہیں‘

٭’کیرالہ میں گائے کا گوشت سیکیولر ہے‘

٭ گائے کے محافظ ناجائز کاموں میں ملوث

ہندوستان ٹائمز کے مطابق 28 سالہ پروین پجاری اس حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہوگئے تھے جبکہ ان کے ساتھ موجود 20 سالہ اکشے دیوادیگا ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

پولیس کے سپرٹنڈنٹ کے ٹی بالاکرشنا نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ یہ دونوں افراد گاڑی میں تین بچھڑے لے کر ہبری نامی گاؤں سے گزر رہے تھے جب17 افرد نے ان پر تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

Image caption گائے کا کاروبار کرنے والے ان کی حفاظت پر مامور یا پھر مسلمان کئی بار مختلف ریاستوں میں نشانہ بن چکے ہیں

ہندو بیوپاری کی ہلاکت انڈیا میں گائے کو مقدس تصور کرنے اور اس کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھنے والے ’گاؤ رکھشکوں‘ کی جانب سے تازہ ترین کارروائی ہے۔

اس سے قبل اترپردیش، گجرات اور مدھیہ پردیش میں بھی گائے کے نام پر مسلمانوں اور دلت یعنی پسماندہ طبقے کے لوگوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں ہی انڈینوزیراعظم نریندر مودی نے اس قسم کے حملوں پر تنقید کی تھی اور ریاستی حکام سے کہا تھا کہ وہ ان حملوں کو روکیں۔

گذشتہ ماہ مدھیہ پردیش میں خواتین کو گائے کا گوشت لے جانے پر ہندو افراد نے زدوکوب کیا تھا تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ گائے کا نہیں بلکہ بھینس کا گوشت تھا۔

گذشتہ برس بھی دہلی سی متصل دادری نامی علاقے میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر گاؤں والوں نے ایک مسلمان خاندان پر حملہ کر دیا تھاجس میں ایک 50 سالہ شخص ہلاک ہوگیا تھا۔

اس واقعے کے چند ہفتوں بعد بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں بعض مقامی لوگوں نے ٹرک میں گائے لے جانے والے بعض افراد پر حملہ کر دیا جس میں ایک شخص ہلاک ہوگيا۔

اسی بارے میں