کشمیر میں لیکچرار کی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اطلاعات کے مطابق فوج نے گاؤں کو گھیر لیا پھر آزادی کے نعرے لگانے اور مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کو اپنی تحویل میں لے کر انھیں خوب مارا پیٹا

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوجی حکام نے کالج کے ایک استاد کی مبینہ طور پر انڈین فوجیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

30 سالہ لیکچرار شبیر احمد منگو کی ہلاکت کا واقعہ بدھ کی شب ضلع پلوامہ کے علاقے کھیو میں پیش آیا تھا۔

٭ ’امید ہے کہ کشمیر میں تشدد روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش ہوگی‘

٭ کشمیر میں سکیورٹی سخت، دس ہزار اضافی فوجی تعینات

انڈین فوج کے جوانوں نے مبینہ طور پر شبیر اور دیگر دیہاتیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر ایک جگہ جمع کیا تھا اور پھر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

شبیر اس تشدد کے نتیجے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس احتجاجی تحرتک میں اب تک 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور پانچ ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں

آل انڈیا ریڈیو کے مطابق انڈین فوج کی 15ویں کور کے جی سی او لیفٹیننٹ جنرل ستیش دعا نے شبیر احمد کی ہلاکت پر افسوس اور پچھتاوا ظاہر کیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں فوج کے 50 آر آر یونٹ کے خلاف عائد الزامات کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق کشمیر میں پولیس نے بھی اس سلسلے میں نامعلوم سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

ادھر جموں کشمیر کی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی پر سماعت کے دوران سینٹرل ریزر پولیس فورس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں گذشتہ 32 روز میں اس کے جوانوں نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے چھرّوں والے تین ہزار کارتوس استعمال کیے ہیں جن میں تقریباً 13 لاکھ چھرے موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کشمیر میں کرفیو کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ پوری وادی کشمیر میں گذشتہ تقریبا 45 روز سے کرفیو نافڈ ہے جس سے عام لوگوں کی زندگی بہت مشکل ہوگئی ہے

کشمیر میں گذشتہ چھ ہفتے سے جاری احتجاج کے دوران اب تک ان چھرّوں سے ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ آنکھوں میں چھرّے لگنے سے سو سے زیادہ افراد کی بینائی چلی گئی ہے۔

یہ احتجاج آٹھ جولائی کو سکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن میں نوجوان عسکریت پسند رہنما برہانی وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا۔

اس احتجاجی تحریک میں اب تک 60 سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں جبکہ وادی کشمیر میں گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے کرفیو نافذ ہے جس سے عام لوگوں کی زندگی بہت مشکل ہوگئی ہے۔

انڈین حکام نے امر ناتھ یاترا میں شریک ہندو یاتریوں کی حفاظت پر مامور دس ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو بھی کشمیر میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اسی بارے میں