انڈیا: پانچ ریاستوں میں سیلاب، کم از کم 40 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیلاب کے سبب لوگ اونچی جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں

انڈیا کی پانچ شمالی ریاستوں میں سیلاب نے سنگین صورت حال پیدا کر دی ہے جس میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور ہزاروں بےگھر ہو گئے ہیں۔

خبررساں ادارے اے پی نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ مدھیہ پردیش میں 17 جبکہ بہار میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سیلاب کی وجہ دریائے گنگا اور دوسرے دریاؤں میں طغیانی ہے اور یہ دریا جگہ جگہ خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سیلاب زدہ علاقوں میں تمام طرح کی امداد کا وعدہ کیا ہے اور ان ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے ٹیلیفون پر بات بھی کی ہے۔

امدادی کاموں کے لیے پیر اور منگل کی شب نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی مزید دس ٹیموں کو بہار اور اترپردیش کے سیلاب زدہ علاقوں کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ smiratmaj mishra
Image caption بنارس میں لاشوں کو چھتوں پر جلایا جا رہا ہے

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ صورت حال پر نظر رکھ رہے ہیں اور وہ متاثرہ ریاستوں کی حکومتوں سے رابطے میں ہیں۔

اترپردیش، مدھیہ پردیش، بہار، مغربی بنگال اور جھارکھنڈ میں سیلاب سے وسیع پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں جبکہ راجستھان اور اتراکھنڈ کی ریاستیں بھی سیلاب سے متاثر ہوئي ہیں۔

این ڈی آر ایف کے ڈائرکٹر جنرل او پی سنگھ نے انڈین خبررساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’پانچ ٹیموں کو اوڈیشہ (اڑیسہ) میں ان کے بیس سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اترپردیش روانہ کیا جا رہا ہے جبکہ باقی پانچ ٹیموں کو پنجاب کے بھٹنڈا ہیلی کاپٹر کے ذریعے بہار روانہ کیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ ٹیمیں منگل کی صبح سے اپنا امدادی کام شروع کر دیں گي۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ niraj sahai
Image caption بہار میں سڑکیں ڈوب چکی ہیں

این ڈی آر ایف کے مطابق بہار، مدھیہ پردیش اور دوسری ریاستوں میں 26،400 سے زیادہ لوگوں کو بچایا گیا ہے۔ متاثرہ ریاستوں میں این ڈی آر ایف کی 56 ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

برسات کے زمانے میں انڈیا کی شمالی ریاستوں میں سیلاب آنا معمول کی بات ہے جو کئی بار بحرانی صورت حال اختیار کر لیتا ہے۔ رواں سال اس سے قبل مغربی بنگال اور آسام میں سیلاب سے درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ جنوبی ریاست تمل ناڈو اور کرناٹک میں بھی سیلاب نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ niraj sahai
Image caption گھروں میں پانی داخل ہو گیا ہے

اسی بارے میں