چین کے کنوارے مردوں کا گاؤں

Image caption ژیانگ شادی نہ ہونے کا سبب یہںا کی بری سڑکوں کو قرار دیتے ہیں

’یہ علاقہ کٹا ہوا ہے اور یہاں آمدورفت بہت مشکل ہے۔‘ یہ کہنا تھا ژیانگ جیگن کا۔ پہاڑ کی چوٹی پر بنے ان کے گھر کے باہر مرغیوں کا دڑبا اور مکئی کے کھیت دکھائی دے رہے ہیں۔

43 سالہ غیر شادی شدہ ژیانگ کو چینی میں ’خالی شاخ‘ کہا جاتا ہے جس کے معنی تنہا، غیر شادی شدہ یا کنوارے کے ہیں۔

* چین میں مشترکہ بیوی کی تجویز پر ہنگامہ

* چین: جنسی عدم توازن میں اضافہ

ایک ایسے ملک میں جہاں مردوں کے 20 سال سے اوپر کے ہوتے ہی ان سے شادی کر لینے اور گھر بار چلانے کی توقع کی جاتی ہے ، یہ وہ لقب ہے جو ان جیسے مردوں کو دے دیا جاتا ہے جو اپنے لیے بیوی ڈھونڈنے میں ناکام رہتے ہیں۔

ژیانگ مشرقی چین لاویا کے نامی گاؤں میں رہتے ہیں۔

اس گاؤں تک جانے والا تیز ترین راستہ ایک گھنٹے کی سست رفتار مسافت پر محیط ہے۔ یہ کچی سڑک آگے چل کر پیدل چلنے کے لیے موجود ایک کچے راستے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

ژیان کا گھر بانس اور درخت کی لکڑی سے بنا ہے۔ یہ ایک خوبصورت منظر ہے۔

Image caption لویا نامی یہ گاؤں کنواروں کے گاؤں کے نام سے مشہور ہے

کنواروں کا گاؤں

لاویا نامی یہ گاؤں کنواروں کے گاؤں کے نام سے مشہور ہے۔

سنہ 2014 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں کی کل 1600 کی آبادی میں 30 سے 55 سال کی عمر کے 112 کنوارے مرد تھے۔ جو انتہائی غیر معمولی بات ہے۔

ژیانگ خود ایسے 100 مردوں کو جانتے ہیں جو جو اب تک غر شادی شدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’میں اپنے لیے بیوی تلاش نہیں کر سکا۔ خواتین کام کے لیے کسی دوسرے علاقے میں چلی گئیں تو مجھے شادی کے لیے کوئی کیسے ملتا۔‘

انھوں نے پھر سڑک کا ذکر کیا۔

’یہاں آمد و رفت بہت مشکل ہے۔ ہم بارشوں میں دریا کے پار نہیں جا سکتے۔ عورتیں یہاں بسنا نہیں چاہتیں۔‘

ان کے گاؤں دور دراز کے علاقے میں ہے لیکن اعدادو شمار بھی ژیانگ کے خلاف ہیں۔

Image caption ژیانگ اپنے چچا کو تنہا چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے

چین میں مردوں کی تعداد عورتوں سے زیادہ ہے۔ یہاں اگر 115 لڑکوں کے مقابلے میں صرف 100 لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں۔

یہاں کی ثقافت میں لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دی جاتی ہے اور سنہ 1980 کے دہائی کے بعد کمیونسٹ پارٹی کی ایک بچے والی پالیسی نے اسقاطِ حمل کو بڑھاوا دیا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکیسویں صدی میں مردوں کی شادی کے مواقع کم ہو گئے۔

والدین آج بھی یہاں بچوں کے رشتے کروانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جبکہ دیہاتوں میں رشتہ کروانے والے بھی مقبول ہیں۔

ژیانگ کا کہنا ہے کہ انھوں نے بھی ان سے رابطہ کیا تھا ’کچھ خواتین یہاں آئی تھیں لیکن وہ لوٹ گئیں کیونکہ انھیں یہاں آنے کا راستہ پسند نہیں آیا۔

کیا انھیں کسی سے محبت ہوئی تھی؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ’ان کا ایک خاتون سے تعلق تو بنا تھا لیکن بات نہیں بن پائی۔ اس کو شکایت تھی کہ میرا گاؤں اس کے لیے اچھا نہیں ہے خاص طور پر یہاں کی سڑکیں۔

Image caption چینی نوجوانوں میں اپنے بزرگوں اور پرورش کرنے والوں کے لیے یہ فرض کا یہ احساس چینی معاشرے کا اہم حصہ ہے

یہاں گاؤں کی خواتین شہروں میں کام کی تلاش میں چلی گئیں اور اکثر وہیں شادی بھی کر لیتی ہیں۔

خواتین کی طرح مرد بھی باہر جا کر کام کرتے ہیں لیکن وہ وہاں شادی نہیں کرتے۔ کئی مرد یہیں رک گئے کیونکہ انھیں اپنے عمر رسیدہ والدین کی دیکھ بھال کرنا تھی۔

.ژیانگ جیگن نے بھی یہیں رک کر اپنے چچا کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا۔

ژیانگ جیگن کا کہنا تھا ’اگر میں بھی چلا گیا تو انھیں کھانا کون دے گا۔ اور یہ نرسنگ ہوم بھی نہیں جا سکتے۔‘

چینی نوجوانوں میں اپنے بزرگوں اور پرورش کرنے والوں کے لیے یہ فرض کا یہ احساس چینی معاشرے کا اہم حصہ ہے۔

لاویا چونکہ دور دراز علاقہ ہے اس لیے یہاں بنایا گیا ایک نیا گھر بھی کسی عورت کو واپس آ کر ژیانگ جیگن کی بیوی بننے پر رضا مند نہیں کر سکا۔

یہ محض ’کنواروں کا گاؤں‘ نہیں ہے بلکہ یہ چینی دیہاتوں کی مشکلات کا عکاس ہے۔ غربت سے فرار کی کوشش، اپنی زمین سے جڑے رہنا، صنفی عدم توازن، بزرگوں کے فرائض اور بری سڑکیں۔

اسی بارے میں