جنگی جرائم: اسلامی رہنما کا رحم کی اپیل کرنے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹربیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے

بنگلہ دیش میں جیل کے حکام کا کہنا ہے کہ سنہ 1971 کی جنگ آزادی میں جنگی جرائم کے ارتکاب میں سزائے موت پانے والے مجرم نے صدر سے رحم کی اپیل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

جمعے کو جیل حکام کا کہنا ہے کہ جماعتِ اسلامی سے وابستہ رہنما میر قاسم علی کو عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

٭ بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے امیر کو پھانسی دے دی گئی

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے ان کی جانب سے سزائے موت کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

سپریم کورٹ میں اپیل مسترد ہونے کے بعد جب حکام نے جماعت اسلامی کے رہنما میر قاسم علی سے صدر سے رحم کی اپیل کرنے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے انکار کر دیا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمان نظامی پھانسی دی گئی تھی۔

میر قاسم علی کا شمار جماعت اسلامی کے اہم ترین رہنما کے طور پر ہوتا ہے وہ ایک معروف کاروباری شخصیت ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ میر قاسم علی کے فیصلے کے بارے میں وزارتِ داخلہ کو مطلع کریں گے جس کے بعد اُن کو پھانسی دینے کے لیے وقت کا تعین کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں تحریک آزادی کے دوران جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے جرم میں اب تک پانچ افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

میر قاسم علی جماعت اسلامی کے چھٹے رہنما ہوں گے جنھیں پھانسی دی جائے گی۔

بنگلہ دیشن میں موجودہ حکومت نے جنگی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے خصوصی عدالت بنائی تھی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹربیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریقۂ کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

اسی بارے میں