طلاق کےخواہشمند خوش وخرم چینی جوڑے

Image caption چینی قانون کے تحت میاں بیوی کو ایک اکائی یا ایک خریدار کے طور پر لیا جاتا ہے

آپ نے یہ تو سُنا ہو گا کہ امریکہ کے مشہور شہر لاس ویگس میں کئی خوش جوڑے جوق در جوق شادی کے بندھن میں بندھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، لیکن شاید یہ نہ سنا ہو کہ چین میں کچھ خوش و خرم جوڑے اس رشتے سے بخوشی نکلنے کے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

جی ہاں، اطلاعات کے مطابق اس ہفتے چین کے سب سے بڑے شہر شینگھائی میں کئی شادی شدہ مرد اور خواتین طلاق کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں۔

Image caption سوشل میڈیا سائیٹ ویبو پر طلاق کے خواہش مند حضرات و خواتین کی تصاویر دکھائی جا رہی ہیں

اس رجحان کی وجہ سن کر آپ کو حیرت ہو گی کیونکہ بتایا جاتا ہے کہ ان شادی شدہ جوڑوں کو یہ خدشہ ہے کہ اگر وہ ایک دوسرے سے الگ نہ ہوئے تو وہ اس قانونی سقم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے جس کے تحت شادی میں رہتے ہوئے آپ کے لیے دوسری جائیداد خریدنا زیادہ مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔

چین میں جس قانون کے تحت آپ گھر خریدتے ہیں اس میں دونوں میاں بیوی کو ایک اکائی یا ایک خریدار کے طور پر لیا جاتا ہے۔ موجودہ قوائد کے تحت اگر شینگھائی کا کوئی رہائشی مکان خریدنا چاہتا ہے تو وہ کُل قیمت کا 30 فیصد ایڈوانس دے کر ایسا کر سکتا ہے اور اس کے لیے وہ بینک سے جو قرض لے گا وہ اسے 10 فیصد سود کے رعایتی نرخوں پر ملے گا۔ قوائد کے مطابق ایک شادی شدہ جوڑا زیادہ سے زیادہ دو جائیدادیں خرید سکتا ہے اور دوسری جائیداد کے لیے انھیں 50 سے 70 فیصد ایڈوانس مہیا کرنا ہو گا۔

Image caption شینگھائی میں لوگوں کی جانب سے انتہائی قدم اٹھانے کے لیے جائداد کی قیمتوں کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ دستاویزات میں اپنے موجودہ میاں یا بیوی سے الگ ہو جاتے ہیں تو بطور جوڑا آپ ایک مرتبہ پھر کم پیسے ادا کر کے ایک نیا گھر خرید سکتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اس قانون سقم سے شینگھائی میں لوگ ایک عرصے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو شہر میں جائیداد کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں جہاں دو مکان تو کُجا ایک گھر بھی خریدنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

لیکن حالیہ عرصے میں طلاقوں کے رجحان میں اچانک اضافے کی وجہ یہ افواہ بتائی جاتی ہے کہ حکام کو قانونی سقم کا علم ہو گیا ہے اور وہ اب قانون میں تبدیلی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

Image caption ’آج سے ہم ایک دن میں زیادہ سے زیادہ طلاقوں کی تعداد مقرر کر رہے ہیں: روزانہ صرف 50 طلاقیں‘

اس سلسلے میں معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر جو افواہ سب سے زیادہ گردش کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ یکم ستمبر سے صرف ان جوڑوں کو دوسرا گھر خریدنے میں رعایت فراہم کی جائےگی جنھیں ایک دوسرے سے الگ ہوئے دو سال کا عرصہ گزر چکا ہو گا۔

اگرچہ سرکاری حکام اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ قوائد میں اس قسم کی کوئی تبدیلی کی جا رہی ہے، لیکن ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کے باوجود شینگھائی میں طلاق لینے کے خواہش مند جوڑوں کی بھیڑ میں کسی قسم کی کمی نہیں دیکھی گئی ہے۔۔

معاشی موضوعات کے ایک چینی رسالے کے مطابق 30 اگست کو شینگھائی کے ایک ضلعی شادی دفتر کے باہر ایسے جوڑوں کی طویل قطار دیکھی گئی جو دفتر میں اپنی طلاق کا جلد از جلد اندارج کرا کے یہ یقینی بنانا چاہتے تھے کہ وہ قانون کی نظر میں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر بھی ایسی کئی تصاویر دیکھنے میں آ رہی ہیں جن میں شادی و طلاق کے اندراج کے دفاتر کے باہر طلاق کے مبینہ خواہش مند جوڑوں کی قطاریں دکھائی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں