کشمیر میں کل جماعتی وفد اور عوام کی ناامیدی

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں دو ماہ سے جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے بھارتی پارلیمنٹ کا کل جماعتی وفد وادی کے دورے پر ہے لیکن عام کشمیریوں کو اس تازہ اقدام سے کامیابی کی کوئی امید نہیں ہے۔

انتطامیہ کے مطابق وفد کے ارکان سے اب تک دو سو سے زائد کشمیروں نے ملاقات کی ہے۔ وفد سے ملاقات کرنے والوں میں انجینئیر رشید بھی شامل ہیں جنہوں نے بات چیت کے دوران برملا طور پر رائے شماری کا مطالبہ دہرایا ہے۔

٭ مسئلہ کشمیر پاک و ہند سیاسی بھنور میں معلق

٭ کشمیر:’کنپٹی پر بندوق رکھنے سے موقف نہیں بدلےگا‘

انہوں نے کہا کہ چھرے چلائیں یا توپ، لوگوں کا مطالبہ آزادی ہے۔ ’حکومت ہند وقت ضائع کئے بغیر رائے شماری کرانے پر آمادہ ہو جائے تو امن قائم ہو سکتا ہے۔‘

انجینئیر وجیح قادری کو بھی اس وفد اور دلّی کی جانب سے کی جانے والی کوششوں میں کوئی نئی چیز نظر نہیں آتی۔

’یہ سب ہم دیکھ چکے ہیں۔ چھ سال قبل دلّی والوں نے یہاں وفد بھیجے اور مذاکرات کاروں کو بھی روانہ کیا۔ رپورٹیں بنائی گئیں۔ آج وہ سفارشات اور رپورٹیں کوڑے دان میں ہیں۔ یہ لوگ وقت لینا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

کل جماعتی پارلیمانی وفد کی اہمیت کے بارے میں صحافی اور تجزیہ نگار خورشید وانی کہتے ہیں کہ چھ سال قبل حکومت ہند کی ایسی کوشش تب ہوئی جب یہاں حالات بہتر تھے۔

’لیکن آج یہ اقدام ایسے وقت اُٹھایا گیا جب لاکھوں لوگ سڑکوں پر آزادی مانگ رہے ہیں۔ اگر وفد نے کوئی ٹھوس پالیسی اختیار نہ کی تو آنے والے دنوں میں حالات مزید کشیدہ ہوں گے۔‘

قبل ازیں بھارت کا کل جماعتی وفد اتوار کو سرینگر پہنچتے ہی براہ راست ڈل جھیل کے کنارے پر فوجی حصار والے شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر پہنچا جہاں باری باری یہاں کی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے ان سے ملاقات کی۔

اس موقع پر بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت کے ترجمان نعِیم اختر نے اس اقدام کو قیام امن کی جانب اچھی شروعات سے تعبیر کیا۔

وفد میں کانگریس کے غلام نبی آزاد، حیدرآباد کے ایم پی اسد الدین اویسی اور کمیونست پارٹی کے سیتا رام یچوری بھی شامل ہیں۔ مسٹر یچوری نے بتایا کہ وہ علیحدگی پسندوں سمیت سب کے ساتھ غیرمشروط طور پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسدالدین اویسی نے حریت رہنما میرواعظ عمرفاروق کے ساتھ ملاقات کرنے کی کوشش کی تاہم میرواعظ نے ان سے ملنے سے انکار کردیا۔ شام کو سیتارام یچوری اور اسدالدین نےسید علی گیلانی کے ساتھ بھی ملاقات کی ناکام کوشش کی۔

واضح رہے 2010 کی احتجاجی تحریک کے دوران بھی سیتا رام یچوری ایسے ہی ایک وفد میں شامل تھے، لیکن اُس وقت یہ وفد باری باری سبھی علیحدگی پسندوں کے گھر گیا تھا۔ اس حوالے سے مسٹر یچوری نے کہا کہ اس بار کس سے کب اور کہاں بات کرنی ہوگی یہ فیصلہ یہاں کی وزیراعلی محبوبہ مفتی کریں گی۔

واضح ر ہے محبوبہ مفتی نے ہفتے کو ہی علیحدگی پسندوں کو مذاکرات کے لیے مدعو کیا تھا۔ لیکن یہ دعوت نامہ انہوں نے ریاست کی وزیراعلی کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنی پارٹی پی ڈی پی کی صدر ہونے کی حیثیت سے جاری کیا تھا۔ علیحدگی پسندوں نے پہلے ہی اس دعوت کو مستراد کرتے ہوئے کہا ہے کہ محبوبہ مفتی کو ایسا کرنے میں نئی دلّی کی حمایت حاصل نہیں ہے ۔

حزب مخالف نیشنل کانفرنس کے رہنما عمرعبداللہ نے بھی وفد کے ساتھ بات چیت کی تاہم انہوں نے محبوبہ مفتی کے دعوت نامہ کو مضحکہ خیز بتایا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ میں لکھا ہے ’اگر مذاکرات کے لیےدعوت نامہ بھیجاگیا، تو کل جماعتی وفد کو ان جیلوں کا پتہ بھی بتانا ضروری تھا جہاں علیحدگی پسندوں کو قید کیا گیا ہے۔‘