کشمیر میں کرفیو کے سائے تلے زندگی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کئی ہفتوں سے حالیہ سالوں میں وادی میں ہونے والے بدترین تشدد کی زد میں ہے۔ یہاں کرفیو نافذ ہے۔ احتجاجی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ایک معمول بن چکی ہیں۔ تشدد کا یہ نیا سلسلہ ہر دلعزیر نوجوان شدت پسند رہنما کی موت کے بعد شروع ہوا۔ صحافی گوہر گیلانی نے کشمیر میں کرفیو کے سایے میں زندگی پر ایک نظر ڈالی ہے۔

مجھے معلوم نہیں ہے کہ کرفیو کب سے نافذ ہے اور اس کا اطلاق کہاں کہاں ہو رہا ہے۔

پیر کے روز اسے اٹھائے جانے سے پہلے ہم نے 51 دن تک کرفیو کو برداشت کیا۔ ان تمام دنوں میں نے خود کو اپنے کشمیر میں ایک قیدی محسوس کیا جسے غیر ملکی لوگ اکثر ’زمین پر پائی جانے والی جنت‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔

ہماری جنت کو صحیح معنوں میں جہنم میں بدل دیا گیا ہے۔

میرے خیال میں کشمیریوں کو اب جیل میں جانے کا کوئی ڈر نہیں ہے کیونکہ ان میں سے اکثر پہلے ہی اس خوبصورت جیل میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

میں زیادہ تر اپنے گھر کی چاردیواری کے اندر محبوس رہا ہوں اور میں نے اپنا زیادہ تر وقت کشمیر کے بارے میں مقامی اور غیر ملکی ادیبوں کی لِکھی ہوئی کتابیں پڑھنے میں گزارہ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

علاقے میں موبائل ڈیٹا سروس اور موبائل ٹیلی فون نیٹ ورک کے بند ہونے کی وجہ سے میرا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔ سرینگر کی سب سے بڑی جامع مسجد میں سات ہفتوں سے جمعہ کی نماز ادا نہیں کی گئی۔

میں کئی بار ضروری اشیا لینے کے لیے گھر سے باہر نکلا ہوں لیکن اندرونی تنگ گلیوں میں شٹر گرا کے کاروبار کرنے والے دکانداروں نے مجھے بتایا ہے کہ ان کے پاس بھی سٹاک ختم ہو رہا ہے۔

شام کو میں عام طور ٹی وی چینلوں پر کشمیر کی صورتِ حال پر ہونے والی جانبدارانہ اور تند و تیز بحث سنتا ہوں۔ ایک تجزیہ کار ہونے کی وجہ سے میں نے خود بھی کئی دفعہ بحث میں شرکت کر کے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔

گھر میں خود کو ذہنی تناؤ سے بچانے کے لیے ڈنڈ پیلتا ہوں اور خود کو جسمانی طور پر فِٹ رکھنے کے لیے سیڑھیاں چڑھتا اور اترتا رہتا ہوں۔

باہر لوگ حقِ خود ارادیت مانگ رہے ہیں اور آزادی کی حمایت میں نعرے لگا رہے ہیں۔ غصہ سے بھرے کچھ نوجوان انڈین سکیورٹی فورسز پر پتھر پھینکتے ہیں۔ جواب میں ان پر آنسو گیس کے گولے پھینکے جاتے ہیں اور چھرے بندوقوں سے فائر کیے جاتے ہیں۔ اس سے لوگ ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اب تک 70 کے قریب افراد جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

تین ہزار سے زیادہ افراد جن میں زیادہ تر نوجوان لڑکے ہیں چھروں کی زد میں آئے ہیں جو سکیورٹی فورسز عام شہریوں کے خلاف استعمال کرتی آئی ہیں۔

یہ اب کشمیر میں ہمارا نیا معمول ہے۔

وادیِ کشمیر میں انڈیا کہ خلاف مسلح جدوجہد 1989 میں شروع ہوئی تھی جب کچھ گروپوں نے آزادی اور کچھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا تقاضا کرنا شروع کیا تھا۔

اس نے ہماری زندگیوں، قصے کہانیوں اور ادب سب کچھ کو تبدیل کر دینا تھا۔میں کشمیریوں کی اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جو تب سے تشدد کی ہولناکیاں دیکھتی آ رہی ہے۔

میرے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ کشمیر میں جاری تشدد کے سوتے دِلی سے پھوٹتے ہیں جو مسلسل اختلافِ رائے کے جمہوری حق کو بے رحمانہ طاقت سے دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

8 جولائی کو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے وادی دوبارہ سے قابو سے باہر ہے۔ زیادہ تر کشمیری چاہے وہ راستے نہ اختیار کریں جو وانی نے کیا تھا لیکن وہ اس کے باغیانہ رویے اور مزاحمت کی بڑھ چڑھ کر حمایت کرتے ہیں جو ان کے نزدیک علامتی حیثیت رکھتی ہے اور ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کئی مقامی افراد اس کو اسے لیے پسند کرتے ہیں کیونکہ اس نے پاکستان کی مدد کے بغیر لڑنے کا انتخاب کیا۔ کشمیر کی اس نئی بغاوت کو کئی وجوہات کی بنا کر پذیرائی مل رہی ہے۔

ایک یہ کہ باغی عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے۔

دوسرے یہ وہ وہ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے اپنے وڈیو پیغامات میں امرناتھ یاترا پر آنے والے ہندو زائرین کو خوش آمدید کہتے ہیں اور کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے حق میں ہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور آخر یہ کہ ان کی بغاوت کی علامتی لحاظ سے اہمیت ہے۔

کشمیری والدین اپنے گھروں میں محدود ہو کر اپنے وطن سے متعلق تاریخ کی کتابیں پڑھتے ہیں ان کے بچے ان سے سوال کرتے ہیں۔ انڈیا کیا ہے؟ جواہر لعل نہرو کون تھا؟ ریفرنڈم کسے کہتے ہیں؟ انڈیا نے ہماری زمین پر کیوں قبضہ کیا؟ ہمیں آزادی کب ملے گی؟

یہ حقیقت ہے کہ انڈیا کی مرکزی حکومت گذشتہ 69 سال سے’دل اور دماغ جیتنے‘ کی بات کرتی آ رہی ہے جو بجائے خود متنازع وادی میں اس کی حیثیت کا پتا دیتی ہے۔

کشمیر میں زیادہ تر لوگوں کے لیے یہ یاد اور بھول جانے کے عمل کے درمیان ہونے والی جنگ ہے اور یادیں آسانی سے دماغ سے محو نہیں ہوتیں۔

متعلقہ عنوانات