ایک ماہ میں ایرانی اور امریکی بحریہ پانچویں بار آمنے سامنے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’رواں ہفتے کے دوران ایرانی جہاز نے متعدد بار امریکی جہازوں کے قریب آئے‘

امریکی وزارت دفاع یعنی پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز خلیج فارس میں سات ایرانی فوجی کشتیاں امریکی گشتی کشتیوں کے بہت قریب آ گئیں جس کے باعث امریکی کشتیوں نے اپنا رخ تبدیل کر دیا۔

پینٹاگون کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس نے کہا کہ ایران کی پاسداران انقلاب گارڈز کی فاسٹ اٹیک کشتیاں یو ایس ایس فائربولٹ کی جانب بڑھیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ان ساتوں ایرانی کشتیوں نے اپنی مشین گنوں کے اوپر سے کوّر اتارے ہوئے تھے تاہم ان کا رخ امریکی کشتی کی جانب نہیں تھا۔

* بحری عملے کی رہائی پر امریکہ ایران کا شکرگزار

ترجمان کے مطابق ’تین کشتیاں امریکی جہاز کے بہت قریب پہنچیں اور 500 گز کے فاصلے پر رہتے ہوئے اس کا پیچھا کیا۔

امریکی وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ ایرانی کشتیاں اس وقت امریکی جہاز کا پیچھا ختم کیا جب ایک کشتی سیدھی یو ایس ایس فائر بولٹ کی جانب بڑھی اور اس کے عین سامنے آ کر رک گئی۔‘

’اس موقعے پر یو ایس ایس فائر بولٹ نے ایرانی کشتی سے بچنے کے لیے اپنا رخ تبدیل کیا۔ امریکی سیلرز نے ریڈیو کے ذریعے ایرانیوں سے رابھے کی کوشش بھی کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption خلیجی ملک بحرین میں امریکی نیوی کا پانچواں بحری بیڑا تعینات ہے

پینٹاگون کے ترجمان نے بتایا کہ ایرانی بحریہ کی حرکات ’غیر محفوظ اور غیر پیشہ وارانہ اور معمول سے ہٹ کر تھیں۔‘

پینٹاگون نے بتایا کہ گذشتہ ایک ماہ میں ایرانی فوجی کشتیوں کی جانب سے غیر محفوظ اور غیر پیشہ وارانہ حرکات کا یہ پانچواں موقع ہے۔ امریکی بحریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ 2015 میں امریکی اور ایرانی بحریہ 300 سے زیادہ بار آمنے سامنے ہوئیں اور اس سال کے پہلے چھ ماہ میں 250 ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ تاہم ان واقعات میں سے صرف 10 فیصد واقعات کو ’غیر محفوظ اور غیر پیشہ وارانہ‘ کہا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے ماہ خلیج فارس میں امریکی جنگی بحری جہاز کو اس وقت ایرانی بحری جہاز کو خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی جب وہ اس کے دو بحری جہازوں کے قریب پہنچ گیا۔

امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان نے بتایا تھا کہ ایرانی رویہ ناقابل قبول ہے اور ان واقعات کے وقت امریکی جہاز بین الاقوامی پانیوں میں تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں